آثار قدیمہ کی تحقیق: قدیم دور میں بنی اسرائیل عبادت کے دوران بھنگ جلاتے تھے

،تصویر کا ذریعہGetty Images
آثار قدیمہ کی ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بنی اسرائیل قدیم دور میں عبادت کے دوران معبدوں میں بھنگ جلاتے تھے۔
اسرائیل میں دو ہزار سات سو سال پرانے ایک معبد کے اثرات سے کچھ ایسے کیمیائی اجزا ملے ہیں جس کا سائنسی تجزیہ کرنے سے معلوم ہوا کہ یہ بھنگ کے اجزا ہیں۔
محققین کا کہنا ہے کہ ہو سکتا ہے معبد میں عبادت کے دوران بھنگ اس لیے جلائی جاتی ہو تاکہ لوگوں پر وجدانی کیفیت طاری ہو جائے۔
اسرائیل کے ذرائع ابلاغ میں کہا جا رہا ہے کہ یہودیوں کی عبادت کے دوران منشیات کے استعمال کا یہ پہلا ثبوت ہے۔
اسرائیل کے شہر تل ابیب سے 95 کلومیٹر جنوب میں صحرا النقب میں سنہ ساٹھ کی دہائی میں اس معبد کے آثار دریافت ہوئے تھے۔
یہ بھی پڑھیے
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
تل ابیب یونیورسٹی کے آثار قدیمہ کے جریدے میں شائع ہونے والی تازہ تحقیق میں ماہرین آثار قدیمہ نے کہا ہے کہ چونے کے پتھر کے دو چبوترے معبد کی باقیات میں دبے پائے گئے اور بھنگ کے اجزا ان ہی کے اوپر محفوظ تھے۔
اس علاقے میں خشک موسم اور ملبے میں دبے ہونے کے باعث ان چبوتروں پر جو نذر نیازیں چڑھائی جاتی تھیں، اس کے ذرات محفوظ رہے۔

،تصویر کا ذریعہGetty Images
اس تحقیق کے مصنف نے اسرائیلی اخبار ہرٹز کو بتایا کہ مقدس کتاب میں اس کے نمایاں ذکر کی وجہ یہ کوئی حیران کن بات نہیں کہ لوبان کی طرح کے مادے کے ذرات اس معبد میں پائے گئے ہیں۔
بھنگ میں پائے جانے والے تمام کیمائی اجزا اس معبد کے دوسرے چبوترے پر پائے گئے ہیں۔
اس تحقیق میں یہ کہا گیا ہے کہ آرد کی اس دریافت کی بنیاد پر کہا جا سکتا ہے کہ بیت المقدس میں موجود معبدوں میں بھی اس کا استعمال ہوتا تھا۔
یہودیوں کی یہ عبادت گاہ قدیم دور میں یہوداہ کی سلطنت کی جنوبی سرحد پر واقع ایک پہاڑی پر بنائے گئے قلعے کا حصہ تھی اور اس کا نقشہ یروشلم میں یہودیوں کے پہلے معبد جیسا تھا۔
ماہرین آثار قدیمہ کو یروشلم میں موجود اس معبد کے آثار تک رسائی حاصل نہیں، اس لیے وہ آرد اور دوسری قدیم عبادت گاہوں کے آثار پر تحقیق کر کے یہ معلوم کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ قدیم دور میں عبادت کس طرح کی جاتی تھی۔








