طوطن خامن کا خنجر شہابیے کےلوہے سے بنا تھا

،تصویر کا ذریعہONLINELIBRARY.WILEY.COM
محققین کا کہنا ہے کہ مصر کے فرعون طوطن خامن کے ساتھ دفن کیے جانے والا خنجر ایک شہابیے سے حاصل ہونے والے لوہے سے بنایا گیا تھا۔
یہ ہتھیار ان دو خنجروں میں سے ایک ہے جنھیں سنہ 1925 میں برطانوی ماہر آثار قدیمہ ہاورڈ کارٹر نے دریافت کیا تھا جسے نوجوان بادشاہ کو دفن کرتے وقت ان کے ساتھ دفن کر دیاگیا تھا۔
اس خنجر کے بغیر زنگ والے پھل نے محققین کو چکرا کر رکھ دیا تھا کیونکہ اس قسم کی دھات کی قدیم مصر میں موجودگی غیر معمولی بات تھی۔
٭ <link type="page"><caption> ’طوطن خامن کے سنہرے نقاب کی بحالی ممکن‘</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2015/01/150125_tutan_khamun_golden_mask_zs" platform="highweb"/></link>
٭ <link type="page"><caption> مصر میں طوطن خامن گیلری کا افتتاح</caption><url href="http://www.bbc.com/urdu/world/2014/12/141216_tutankhamun_gallery_atk" platform="highweb"/></link>
طوطن خامن کو تقریباً 3300 سال قبل مرنے کے بعد ممی بنا دیا گیا تھا۔
میٹیوریٹکس اینڈ پلانیٹری سائنس جریدے میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق اٹلی اور مصر کے محققوں نے اس خنجر کے لوہے کی بناوٹ کی تصدیق کرنے کے لیے بیرونی ایکس رے کی تکنیک استعمال کی۔
اس تحقیق کے مرکزی مصنف ڈینیئلا کومیلی کا کہنا ہے کہ ’شہابی لوہے میں واضح طور پر بڑے پیمانے پر جست موجود ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی

،تصویر کا ذریعہAFP
محققین کا کہنا ہے کہ ’لوہے کے ساتھ جست اور کوبالٹ کی موجودگی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ابتدا زمین سے باہر کہیں ہوئی۔‘
اس خنجر کی بناوٹ کا موازنہ اس شہابیے سے کیا جا رہا ہے جو مصر کے بحیرہ احمر والے ساحل پر دو ہزار کلومیٹر کے دائرے میں گرا تھا اور خاص طور پر وہ ایک اور شہابیہ جو اسکندریہ سے 240 کلومیٹر دور مغرب میں ملا تھا۔ اس میں بھی اسی مقدار میں جست اور کوبالٹ موجود تھے۔
اس تحقیق میں مزید لکھا ہے کہ ’قدیم مصری 13 سو قبل مسیح ہی میں جانتے تھے کہ لوہے کے یہ ٹکڑے آسمان سے گرے ہیں جبکہ یہ بات مغرب کو دو ہزار سال بعد معلوم ہوئی۔‘
محققین کے مطابق: ’اس خنجر کے پھل کے اعلیٰ معیار کے دیگر معمولی شکل والے شہابیوں سے بنے آثار قدیمہ سے موازنہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ طوطن خامن کے دور میں لوہے کے کام میں خاصی مہارت پائی جاتی تھی۔‘







