’طوطن خامن کے سنہرے نقاب کی بحالی ممکن‘

آثارِ قدیمہ کی بحالی کے ایک جرمن ماہر کا کہنا ہے کہ مصر کے فرعون طوطن خامن کے مشہورِ زمانہ سنہرے دھاتی نقاب کو اس کی اصل حالت میں بحال کیا جا سکتا ہے۔
قدیم شیشے اور دھاتوں کی بحالی کے ماہر کرسچیئن ایکمین نے یہ بات سنیچر کو قاہرہ کے مصری عجائب گھر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہی۔
مصری عجائب گھر نے سنیچر کو ہی تصدیق کی کہ طوطن خامن کے سنہرے نقاب کا داڑھی والا حصہ اگست کے مہینے میں الگ ہوگیا تھا جسے گلو کی مدد سے جوڑا گیا تھا۔
عجائب گھر نے اس واقعے کو خفیہ رکھا تھا اور یہ بات اس وقت سامنے آئی تھی جب انٹرنیٹ پر لگائی گئی اس نقاب کی تصاویر میں ٹھوڑی کے گرد چپکانے والے مادے کی لکیر دیکھی گئی تھی۔
ان تصاویر کے سامنے آنے کے بعد جہاں نقاب کو پہنچنے والے نقصان کے بارے میں قیاس آرائیاں شروع ہوئیں وہیں یہ سوال بھی اٹھا کہ کیا مصری حکام ان بیش قیمت نوادارت کی دیکھ بھال کے لائق بھی ہیں یا نہیں۔
قاہرہ کے عجائب گھر کا افتتاح 1902 میں ہوا تھا اور اس میں تقریباً ایک لاکھ 60 ہزار قدیم قیمتی نوادرات موجود ہیں۔
پریس کانفرنس میں داڑھی والے حصے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کرسچیئن ایکمین نے کہا کہ ’جب 1924 اس نقاب کو دریافت کیا گیا تھا تب بھی یہ حصہ جڑا ہوا نہیں تھا۔ 1941 میں پہلی بار اسے نقاب پر لگایا گیا اور تب سے یہ قاہرہ کے عجائب گھر میں موجود ہے۔‘

،تصویر کا ذریعہAFP
ان کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے گذشتہ برس اگست میں اس نقاب کو چھوا گیا اور داڑھی گر پڑی۔ اس کی وجہ اس چپکانے والے مادے کا ختم ہونا ہو سکتی ہے جس کی مدد سے اسے پہلی بار جوڑا گیا تھا۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
مصر میں نوادرات اور آثارِ قدیمہ کے وزیر کا کہنا تھا کہ داڑھی اس وقت ٹوٹ کر گری جب عجائب گھر کے ملازمین اس شو کیس کا بلب تبدیل کر رہے تھے کہ ان کا ہاتھ نقاب سے ٹکرایا۔
کرسچیئن ایکمین نے یہ بھی کہا کہ انھوں نے نقاب کا بغور تفصیلی معائنہ کیا ہے اور اسے پہنچنے والے نقصان کی خبروں میں مبالغہ آرائی کی گئی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ’ایپوکسی یا گلو کا استعمال بہترین حل نہیں لیکن یہ ایک حل ضرور ہے۔ لیکن بدقسمتی سے اسے صحیح طریقے سے نہیں لگایا گیا اور داڑھی پر اس کے بقایا جات نظر آ رہے ہیں۔







