BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 15 February, 2009, 14:00 GMT 19:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کپتانی فتح پر ختم کرنے کا عزم

مہیلا جے وردھنے
پاکستان کے خلاف کامیابی کے امکانات روشن ہیں:جے وردھنے
سری لنکن کرکٹ ٹیم کے کپتان مہیلا جے وردھنے نے خواہش ظاہر کی ہے کہ وہ اپنی کپتانی کے دور کو جیت پر ختم کرنا چاہتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھی اس خواہش کی تکمیل کے لئے اپنی تمام ترصلاحیتیں بروئے کار لائیں گے۔

واضح رہے کہ مہیلا جے وردھنے پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے بعد کپتانی چھوڑنے کا اعلان کرچکے ہیں۔

سری لنکن کرکٹ ٹیم دو ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلنے اتوار کو کراچی پہنچی ہے۔ اس کے دورے کا یہ دوسرا حصہ ہے۔ گزشتہ ماہ اس نے ون ڈے سیریز دو ایک سے جیتی تھی لیکن اپنے ہوم گراؤنڈ پر اسے بھارت کے خلاف پانچ ون ڈے کی سیریز میں چار ایک سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

مہیلا جے وردھنے کا کہنا ہے کہ بھارت کے خلاف شکست کے باوجود وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ٹیم کی کارکردگی بری نہیں ہے اور پاکستان کے خلاف کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان میں کنڈیشنز کیسی ہونگی اور وکٹیں کس طرح کی بنتی ہیں۔

مہیلا جے وردھنے نے کہا کہ سلیکٹرز نے مضبوط ٹیم منتخب کی ہے۔ انہیں نوجوان اوپنر تھرنگا پرانا تیوانا سے بڑی امیدیں وابستہ ہیں جو ڈومیسٹک کرکٹ میں غیرمعمولی کارکردگی کی بنا پر ٹیسٹ ٹیم میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مہیلا جے وردھنے نے ٹیم میں شامل کئے گئے نئے فاسٹ بولر سرنگا لکمل کی بھی تعریف کی۔

سری لنکن ٹیم پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں متایا مرلی دھرن اور اجانتھا مینڈس پر انحصار کئے ہوئے ہیں لیکن کپتان مہیلا جے وردھنے نے تسلیم کیا کہ ایک شاندار سال گزارنے کے بعد مینڈس کے لئے اصل چیلنج اب ہے کیونکہ بیٹسمین انہیں کھیل کر سمجھ چکے ہیں اور مینڈس کو اس صورتحال میں کچھ مختلف کرکے دکھانا ہوگا لیکن بحیثیت کپتان وہ سمجھتے ہیں کہ مینڈس کو وقت ملنا چاہئے۔

ان کا کہنا ہے کہ انہیں مرلی کا ساتھ حاصل ہے جن کی مدد سے وہ اپنے ہدف حاصل کرسکتے ہیں۔

سری لنکن ٹیم کی فیلڈنگ حالیہ میچوں میں غیر تسلی بخش رہی ہے جس پر چیف سلیکٹر اسانتھا ڈی میل نے بھی کڑی تنقید کی ہے۔

متعدد کھلاڑی غیرمعمولی فیلڈر نہیں
 متعدد کھلاڑی غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل فیلڈر نہیں ہیں اس لئے فیلڈنگ کا معیار اچھا نہیں رہا تاہم اس شعبے پر وہ توجہ دے رہے ہیں
ٹریور بیلس

ٹیم کے آسٹریلوی کوچ ٹریور بیلس کا اس بارے میں کہنا ہے کہ چونکہ متعدد کھلاڑی غیرمعمولی صلاحیتوں کے حامل فیلڈر نہیں ہیں اس لئے فیلڈنگ کا معیار اچھا نہیں رہا تاہم اس شعبے پر وہ توجہ دے رہے ہیں۔

سری لنکن ٹیم دورۂ پاکستان کا باقاعدہ آغاز بدھ سے کراچی میں پیٹرنز الیون کے خلاف دوروزہ میچ سے کرے گی۔ میزبان ٹیم کی قیادت شاہد آفریدی کرینگے۔

پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلا ٹیسٹ اکیس فروری سے کراچی کے نیشنل سٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

دوسرا ٹیسٹ یکم سے پانچ مارچ تک قذافی سٹیڈیم لاہور میں ہوگا۔
بغیر کسی ٹیسٹ کے سال2008 گزارنے کے بعد پاکستانی ٹیم ٹیسٹ کرکٹ میں واپس آئی ہے۔

اس نے آخری ٹیسٹ دسمبر2007 میں بھارت کے خلاف بنگلور میں کھیلا تھا جب کہ پاکستان میں آخری ٹیسٹ اکتوبر2007 میں جنوبی افریقہ کے خلاف لاہور میں کھیلا گیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد