جیت کا سہرا بولرز کے سر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پہلے ایک روزہ میچ میں آٹھ وکٹوں سے کامیابی کے بعد پاکستانی کپتان شعیب ملک نےصحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس وکٹ پر بولنگ آسان نہ تھی تاہم راؤ افتخار اور عمرگل کی عمدہ بولنگ نے سری لنکا کو بڑے اسکور سے باز رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اوپنرز نے بہت ہی عمدہ شراکت سے جیت کو مزید آسان بنادیا۔ شعب نے کہا کہ اس شراکت کو وہ جاری رکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ہر کھلاڑی کو مناسب موقع ملنا چاہئے۔ شعیب ملک نے سری لنکن کھلاڑیوں مرلی دھرن اور اجنتھا مینڈس کے بارے میں کہا کہ پہلے میچ میں کامیاب نہ ہونے کے باوجود وہ دنیا کے بہترین اسپنرز ہیں۔ انہوں نے راؤ افتخار کی بولنگ کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ ایک ایسا بولر ہے جو سینئر بولرز کے آنے کے سبب ٹیم سے باہربھی ہوا حالانکہ اس کی کارکردگی اچھی ہوتی تھی لیکن اس نے ہمت نہیں ہاری اورنہ ہی کوئی گلہ کیا۔ شعیب اختر کے بارے میں کپتان کا کہنا تھا کہ انہوں نے فٹنس کے لئے محنت کی ہے لیکن ان جیسی رفتار والے بولر کے لئے تیرہ ماہ کے بعد واپسی آسان نہیں ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ سنتھ جے سوریا اور دلشن کے عمدہ اسٹارٹ کےباوجود انہیں اپنے بولرز پر بھروسہ تھا۔ مین آف دی میچ سلمان بٹ کا کہنا تھا کہ جو سنچری بھی پاکستان کو کامیابی سے ہمکنار کرے اس پر انہیں خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ انہوں نے یہ سنچری مرلی دھرن اور اجانتھا مینڈس جیسے مشکل بولرز کے خلاف بنائی۔ |
اسی بارے میں سری لنکا کا دورہ اٹھارہ جنوری سے09 January, 2009 | کھیل ہیڈن کا انٹرنیشنل کرکٹ کو الوداع13 January, 2009 | کھیل پہلے میچ کے لیے ٹیم کا اعلان12 January, 2009 | کھیل آسٹریلیا نے جنوبی افریقہ کو ہرا دیا07 January, 2009 | کھیل نئے کرکٹ قوانین، ٹیمیں’غیر مطمئن‘ 29 December, 2008 | کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||