2008، ٹیسٹ کرکٹ کے سوا سب کچھ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنہ دو ہزار آٹھ میں پاکستانی کرکٹ میں سب کچھ رہا۔ کرکٹ بورڈ کی تبدیلی، کوچ کی برطرفی، عدالتوں کے چکر اور منشیات کی برآمدگی۔ اگر کچھ نہ تھا تو وہ تھی ٹیسٹ کرکٹ۔ اس سال پاکستان میں صرف آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز کھیلی جانی تھی لیکن اس کے انکار نے پاکستانی کرکٹرز کو اس سال ٹیسٹ کھیلنے کے واحد موقع سے بھی محروم کردیا۔ ستم بالائے ستم آئی سی سی نے سفید فام ٹیموں کے دباؤ میں آکر پاکستان کو چیمپیئنز ٹرافی کی میزبانی بھی نہ کرنے دی اور اس عالمی ایونٹ کو التوا میں ڈال دیا۔ پاکستان نے ایشیا کپ کی کامیاب میزبانی کی تھی لیکن بھارتی ٹیم جو ایشیا کپ کھیلنے پاکستان آچکی تھی اور سکیورٹی کے انتظامات سے مطمئین ہوکر واپس گئی تھی سکیورٹی خدشات کو جواز بناکر پاکستان آنے میں پس وپیش سے کام لیا۔اس سے قبل کہ یہ سیریز نیوٹرل مقام پر کھیلی جاتی ممبئی کے واقعات نے اس امید کو بھی ختم کردیا اور بی سی سی آئی نے اپنی حکومت کے کہنے پر پاکستان کا دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کر ڈالا۔ اس سال پاکستانی ٹیم کے دونوں اہم فاسٹ بولرز شعیب اختر اور محمد آصف تنازعات میں الجھے رہے۔ محمد آصف دوسری مرتبہ ممنوعہ قوت بخش ادویات استعمال کرنے پر پابندی کی زد میں آئے۔ اس مرتبہ آئی پی ایل کے دوران ان کا ڈوپ ٹیسٹ مثبت آیا اور اب بین الاقوامی کرکٹ میں ان کی واپسی آئی پی ایل کے ڈرگ ٹریبونل کے فیصلے سے مشروط ہے۔ محمد آصف مبینہ طور پر افیون کی برآمدگی پر دبئی ائرپورٹ پر حراست میں لیے گئے اور وہ انیس روز تک زیر حراست رہے۔ متحدہ عرب امارات میں پاکستانی سفیر کے ذریعے حکومتی کوششوں سے ان کی وطن واپسی ممکن ہوئی۔
شعیب اختر پر پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف نے پانچ سالہ پابندی عائد کردی تاہم بعد میں یہ پابندی کم کر کے اٹھارہ ماہ کردی گئی۔ البتہ ان پر عائد ستر لاکھ روپے جرمانہ برقرار رکھا گیا۔ شعیب اختر نے اس فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا اور وہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے محاذ آرائی اور عدالت میں معاملہ ہونے کے باوجود آئی پی ایل اور کاؤنٹی کرکٹ کھیلنے میں کامیاب ہوگئے۔ صدر پرویز مشرف کے استعفے والے دن ہی ان کے دست راست ڈاکٹر نسیم اشرف نے بھی پاکستان کرکٹ بورڈ کو خیرباد کہنے کا فیصلہ کرلیا۔ ان کی جگہ حکمراں پیپلز پارٹی کی آشیرباد رکھنے والے اعجاز بٹ پی سی بی کے نئے چیئرمین بنائے گئے۔ سابق ٹیسٹ کرکٹر جاوید میانداد نے پاکستانی ٹیم کے کوچ کے عہدے کی پیشکش قبول کرنے سے انکار کردیا جس کے بعد انہیں پاکستان کرکٹ بورڈ کے ڈائریکٹر جنرل مقرر کردیا گیا۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن سے معاہدہ ختم کرکے ان کی جگہ انتخاب عالم کی تقرری عمل میں آئی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سب سے تجربہ کار بیٹسمین محمد یوسف نے ٹورنٹو کے ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کے لئے ٹیم میں منتخب نہ کئے جانے کے بعد بورڈ اور کپتان کے مبینہ نامناسب سلوک کا شکوہ کرتے ہوئے آئی سی ایل میں دوبارہ شمولیت اختیار کرلی۔ پاکستانی کرکٹرز پر مشتمل لاہور بادشاہ نے انضمام الحق کی قیادت میں بھارتی شائقین کے دل جیتنے کے ساتھ ساتھ آئی سی ایل بھی جیت لی۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک پر میچ فکسنگ کے الزام میں عائد تاحیات پابندی کے بارے میں لاہور ہائی کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو یہ پابندی عائد کرنے کا اختیار نہیں تھا لیکن آئی سی سی کے اعتراض نے ان کی قومی کرکٹ اکیڈمی کے کوچ کی حیثیت سے تقرری رکوادی۔
لیگ اسپنر مشتاق احمد نے فرسٹ کلاس کرکٹ اور آئی سی ایل کو الوداع کہتے ہوئے انگلینڈ کا بولنگ کوچ بننے کی پیشکش قبول کرلی۔ لیکن میچ فکسنگ سے متعلق جسٹس قیوم رپورٹ میں ان کا نام ہونے کی وجہ سے آئی سی سی نے انگلینڈ کرکٹ حکام کو مشتاق احمد پر نظر رکھنے کی ہدایت کردی۔ اس سال ٹیسٹ کرکٹ سے دور رہنے والی پاکستانی ٹیم نے اکیس میں سے اٹھارہ ون ڈے انٹرنیشنل جیتے تاہم ان میں سے تیرہ کامیابیاں زمبابوے، بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ جیسی کمزور ٹیموں کے خلاف رہیں۔ پاکستانی ٹیم نے سال میں سب سے زیادہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل میچز بھی جیتے جن کی تعداد چار ہے۔ پاکستانی کرکٹرز کی انفرادی کارکردگی میں یونس خان تین سنچریوں کے ساتھ865 رنز بناکر نمایاں رہے۔ سلمان بٹ نے تین سنچریوں کی مدد سے861 رنز بنائے۔ بولنگ میں سہیل تنویر 32 اور شاہد آفریدی39 وکٹوں کے ساتھ قابل ذکر رہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||