BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 22 December, 2008, 15:58 GMT 20:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان کو ہاں میں ہاں ملانے سے بھی کچھ نہ ملا

احسان مانی
موجودہ حالات میں انہیں چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ کا پاکستان میں انعقاد بھی خطرے سے دوچار دکھائی دے رہا ہے
انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کے سابق صدر احسان مانی کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو بی سی سی آئی کی ہاں میں ہاں ملانے کا بھی کوئی صلہ نہیں ملا بلکہ اس کے نتیجے میں وہ کرکٹ کھیلنے والے دوسرے ملکوں سے دور ہوتا چلا گیا ہے۔

احسان مانی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے آئی پی ایل کا لالچ دے کر آسٹریلیا انگلینڈ اور دوسرے ملکوں کو اپنی طرف مائل کرلیا لیکن پاکستان کرکٹ بورڈ نے سب سے بڑی غلطی یہ کی کہ اس نے دوسرے ملکوں کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کرنے پر توجہ نہیں دی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو متوازن پالیسی رکھنی چاہیے تھی۔ چونکہ بھارت کے پاس بہت پیسہ ہے لہذا آسٹریلیا نیوزی لینڈ جنوبی افریقہ اور انگلینڈ وغیرہ سب اس کے پیچھے چل پڑے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی پی ایل کے سلسلے میں بی سی سی آئی کی ہاں میں ہاں ملائی لیکن اس کے بدلے اسے کچھ نہیں مل سکا۔

سری لنکا کے ساتھ سیریز کے میچ آفیشلز کی تقرری کو سکیورٹی جائزے سے مشروط کرنے کے بارے میں آئی سی سی کے چیف ایگزیکٹیو ہارون لوگٹ کے بیان کے بارے میں احسان مانی کا کہنا ہے کہ انہیں حیرت ہوئی ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس پر فوری طور پر کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر آئی سی سی سے کوئی بیان آتا ہے تو وہ اس کے رکن ممالک کی سوچ ظاہر کر رہا ہوتا ہے۔ اگر کوئی آئی سی سی کے کام کرنے کے طریقہ کار کو سمجھے تو یہ بیان دراصل یہ اپریل میں آسٹریلوی ٹیم کے پاکستان نہ آنے کی تیاری ہے۔

پاکستان کو کیا رکنا چاہیے
 آئی سی سی کا جھکاؤ اس وقت بھارت کی طرف بہت زیادہ ہے اس صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو معذرت خواہانہ یا دفاعی انداز اختیار کرنے کے بجائے جرات مندی دکھانی چاہیے
احسان مانی

احسان مانی نے کہا کہ موجودہ حالات میں انہیں چیمپئنز ٹرافی اور ورلڈ کپ کا پاکستان میں انعقاد بھی خطرے سے دوچار دکھائی دے رہا ہے۔ اگر بھارتی حکومت نے کرکٹ کو اپنے سیاسی ایجنڈے کے لیے استعمال کیا تو پھر ورلڈ کپ کا انعقاد یہاں ممکن نہیں ہوسکے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو آئی سی سی اور بی سی سی آئی سے ابھی یہ پوچھ لینا چاہیے کہ کیا بھارتی کرکٹ ٹیم چیمپئنز ٹرافی کھیلنے پاکستان آئے گی یا نہیں ۔ اگر بھارتی حکومت اپنی ٹیم کو پاکستان نہیں بھیجتی تو پھر آئی سی سی یقیناً چیمپئنز ٹرافی کو پاکستان سے منتقل کرنے کی کوشش کرے گی۔

احسان مانی نے کہا کہ یہ تاثر غلط نہیں ہے کہ آئی سی سی کا جھکاؤ اس وقت بھارت کی طرف بہت زیادہ ہے اس صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ کو معذرت خواہانہ یا دفاعی انداز اختیار کرنے کے بجائے جرات مندی دکھانی چاہیے۔

شائقین کی مایوسیاں
بھارتی ٹیم کے نہ آنے پر پاکستانی ناخوش
توقیر ضیاءکیسے مطمئن کریں
ٹاسک فورس:’ پاکستانی نمائندگی ضروری تھی‘
پاکستان بمقابہ ٹیوزی لینڈپاکستان فائنل میں
پاکستان کی نیوزی لینڈ کو شکست
شاہد آفریدیعالمی کپ کے بعد
پاکستان سری لنکا سے سیریز جیت گیا
منصور زماناول، دوم اور سوم
ایشیائی گیمز میں انڈیا، سری لنکا اور پاکستان
کرکٹایشیا کپ ملتوی
ایشیا کپ اب سمبر کے بجائے اپریل میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد