پاکستانی شائقینِ کرکٹ کی مایوسیاں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی حملوں کے تناظر میں بھارتی حکومت کے کرکٹ ٹیم پاکستان نے بیھجنے کے فیصلے پر پاکستانی شائقینِ کرکٹ نے افسوس اور غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ کا کھیل کس حد تک مقبول ہے اس کا اندازہ اس سے لگ سکتا ہے کہ امیر ہو یا غریب،عورت ہو یا مرد، جوان ہو یا بوڑھا، پڑھا لکھا ہو یا کوئی ان پڑھ سبھی کرکٹ کے دیوانے ہیں۔خاص طور پر پاک بھارت سیریز میں تو عام پاکستانی کی دلچسپی بہت ہی زیادہ ہوتی ہے۔ بھارتی حکومت کے فیصلے پر پھل فروش نور حسین کا کہنا ہے کہ بھارتی ٹیم نے پاکستان نہ آ کر ’بزدل‘ ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ ایک غریب آدمی ہیں اور محنت مزدوری کر کے اپنا گزارا کرتے ہیں لیکن اگر پاکستان اور انڈیا کی ٹیموں کا کرکٹ میچ ہوتا ہے تو وہ سب کام چھوڑ کر بھی اسے دیکھتے ہیں اور اب انڈیا کی ٹیم نہیں آ رہی تو انہیں بہت دکھ ہو رہا ہے۔ امیر علی نان بیچنے والا ایک غریب آدمی جو بارش سے بچنے کے لیے سر پر پلاسٹک کا شاپنگ بیگ چڑھائے جا رہا تھا اسے بھی پاکستان میں انڈیا کی کرکٹ ٹیم کے نہ آنے کا بہت افسوس تھا۔ امیر علی کے بقول جو لطف پاکستان اور بھارت کی کرکٹ ٹیموں کو کھیلتے ہوئے دیکھ کر آتا ہے کسی اور ٹیم کے ساتھ میچ میں نہیں آتا۔ ان کے بقول بھارتی حکومت کی یہ زیادتی ہے کہ اس نے اپنی ٹیم کو روک دیا۔ بی اے کے طالب علم سعد ارشد کا کہنا ہے کہ بھارتی حکومت سیاست اور کھیل کو ایک ساتھ رکھتی ہے اور یہ ان کا ایک سیاسی ڈھکوسلا ہے۔ سعد کے مطابق بھارت ممبئی میں ہونے والے واقعات کی بھڑاس پاکستان پر نکال رہا ہے جبکہ کرکٹ کو سیاست پر قربان نہیں کرنا چاہیے۔ سعد کا کہنا تھا کہ کرکٹ شائقین کے لیے بلا شبہ یہ ایک مایوس کن خبر ہے۔ نوشین فیصل خاتون خانہ ہیں اور کرکٹ کی شوقین ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارت کا ہمیشہ ہی سے یہی طریقہ رہا ہے کچھ بھی ہو جائے اپنی ٹیم کو پاکستان جانے سے روک دیتا ہے۔ ’انہوں نے پہلے بھی ایسا ہی کیا تھا اور یہ سب وہ سیاسی مقاصد کے لیے کرتے ہیں‘۔ نوشین نے کہا کہ ’بھارت سے ہم یہی توقع کر سکتے ہیں‘۔ محمد طیب قلعی کرنے کا کام کرتے ہیں اور وہ بھارتی حکومت کے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام لگا کر ٹیم نہ بھجوانے پر کافی برہم ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت کو جب بھی پاکستان سے تعلقات خراب کرنے ہوں وہ کوئی نہ کوئی الزام لگا دیتے ہیں اور پھر کرکٹ ٹیم کو بھی پاکستان آنے سے روک دیتے ہیں تاکہ تعلقات مزید خراب ہو جائیں۔ ڈیوڈ جین رکشا چلاتے ہیں ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ہونے والے بم دھماکوں کے سبب پہلے بھی کوئی ٹیم یہاں آنے کو تیار نہیں تھی اور اب بھارت کے انکار سے پاکستانی کرکٹ کو ایک اور دھچکا لگا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پاک بھارت سیریز نہ ہونے سے پاکستانی شائقین اچھی کرکٹ سے محروم ہو جائیں گے۔ | اسی بارے میں خراب فارم پر ڈراوڈ سے بات چیت17 December, 2008 | کھیل اعجاز بٹ بھارت جائیں گے05 December, 2008 | کھیل ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز ختم28 October, 2008 | کھیل دو کروڑ ڈالر کا میچ خطرے میں 07 October, 2008 | کھیل ’شائقین کو دلچسپ کرکٹ ملے گی‘18 September, 2008 | کھیل سمیع، رانا نوید بھی آئی سی ایل میں14 February, 2008 | کھیل محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی17 December, 2007 | کھیل انڈین کرکٹ لیگ ٹورنامنٹ کا آغاز 30 November, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||