BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 07 October, 2008, 14:22 GMT 19:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
دو کروڑ ڈالر کا میچ خطرے میں
سٹینفورڈ میچ
اس میچ کی انعامی رقم دو کروڑ ڈالر ہے
انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان بیس ملین ڈالر انعامی رقم والے ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ کا انعقاد خطرے میں پڑ گیا ہے۔

یکم نومبر کو کھیلا جانے والا یہ میچ ٹیکساس کے ارب پتی ایلن سٹینفورڈ کی جانب سے منعقد کروایا جا رہا ہے اور اس میچ کی فاتح ٹیم ساری انعامی رقم کی حقدار ہو گی جبکہ شکست کھانے والی ٹیم کو بیس ملین ڈالر میں سے حصہ نہیں دیا جائےگا۔

تاہم اب ویسٹ انڈین ٹیم کے سپانسر ڈیجی سیل کی جانب سے دائر کردہ مقدمے میں ویسٹ انڈیز بورڈ کی شکست کے بعد بورڈ کو بتا دیا گیا ہے کہ وہ انٹیگا میں کھیلے جانے والے اس میچ کی اجازت نہیں دے سکتا۔

عدالتی فیصلہ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کوئی بھی ایسا ویسٹ انڈین کھلاڑی جس کے پاس سنٹرل کنٹریکٹ ہے اس میچ میں شرکت نہیں کر سکتا۔ اس فیصلے کے بعد ویسٹ انڈین کپتان کرس گیل، شیو نرائن چندر پال اور رام نریش ساروان جیسے کھلاڑی اس میچ میں حصہ نہیں لے سکتے۔

ڈیجی سیل نے یہ مقدمہ اس بنیاد پر دائر کیا تھا کہ ٹیم کے مرکزی سپانسر ہونے کے ناتے اسے میچ کے ’برانڈنگ‘ حقوق حاصل ہیں کیونکہ یہ ویسٹ انڈیز ٹیم کا میچ ہے۔ ڈیجی سیل میچ کے تشہیری اور مارکیٹنگ حقوق میں اپنا حصہ چاہتا ہے۔

کہا جا رہا ہے کہ میچ کے منتظم ایلن سٹینفورڈ اب میچ کے انعقاد کے لیے ممکنہ طور پر ڈیجی سیل سے مذاکرات کریں گے۔ یاد رہے کہ ایلن سٹینفورڈ ویسٹ انڈیز میں اپنا ٹوئنٹی ٹوئنٹی ٹورنامنٹ کراتے ہیں اور گزشتہ برس انہوں نے ویسٹ انڈین کرکٹ کی بہتری کے لیے پچاس ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد