’شائقین کو دلچسپ کرکٹ ملے گی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کا کہنا ہے کہ آئی سی ایل کے نئے سیزن میں بھی شائقین کو دلچسپ کرکٹ دیکھنے کو ملے گی۔ انضمام الحق دس اکتوبر سے شروع ہونے والے آئی سی ایل کے نئے سیزن میں لاہور بادشاہ کی قیادت کر رہے ہیں۔ گزشتہ سیزن میں ان کی قیادت میں لاہور بادشاہ کی ٹیم فائنل میں پہنچی تھی جہاں حیدرآباد ہیروز نے اسے شکست دے دی تھی۔ انڈین کرکٹ لیگ (آئی سی ایل) اس سیزن کے لیے بنگلہ دیشی کرکٹرز سے معاہدے کرنے میں بھی کامیاب ہوگئی ہے اور وہ ڈھاکہ وارئرز کے نام سے مقابلوں میں حصہ لیں گے۔ اس طرح آئی سی ایل میں نو ٹیمیں حصہ لیں گی۔ انضمام الحق نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بنگلہ دیش میں کرکٹ بہت مقبول ہے اور بنگلہ دیشی ٹیم کی آئی سی ایل میں شمولیت سے وہاں کے لوگوں کی دلچسپی میں اضافہ ہوگا اور میچوں میں مسابقت بڑھے گی۔ انضمام الحق نے بنگلہ دیشی کرکٹرز پر ان کے کرکٹ بورڈ کی طرف سے عائد دس سالہ پابندی کے فیصلے کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ آئی پی ایل جائز ہے اور آئی سی ایل نہیں۔ ’یہ سراسر دہرا معیار ہے۔‘ انضمام الحق نے کہا ’کرکٹ کسی بھی کرکٹر کا ذریعہ معاش ہے اسے کس طرح پیسہ کمانے سے روکا جاسکتا ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھی بھارتی کرکٹ بورڈ کو خوش کرنے کے لیے فضول قسم کی پابندی اپنے کرکٹرز پر عائدکر رکھی ہیں حالانکہ آئی سی ایل کا پاکستان کرکٹ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
انضمام الحق نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے بھارتی کرکٹ بورڈ کو خوش کرنے کے لئے آئی سی ایل کے کرکٹرز پر پابندی عائد کردی لیکن اسے بھارتی کرکٹ بورڈ سے آسٹریلوی ٹیم کے نہ آنے کے معاملے پر کوئی حمایت نہیں ملی۔ ’اگر بی سی سی آئی چاہتا تو وہ آسٹریلیا پر دباؤ ڈال سکتا تھا کہ اگر وہ پاکستان سے نہیں کھیلتے تو ہم بھی ان کے ساتھ نہیں کھیلیں گے لیکن بھارت نے ایسا نہیں کیا۔ جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ ضرورت سے زیادہ وفاداری دکھا رہا ہے۔ وہ بھارت کی جنگ تو لڑ رہا ہے لیکن بھارت اس کی مدد نہیں کررہا ہے۔‘ انضمام الحق نے اس بات کی تصدیق کی کہ آئی سی ایل نے پاکستان کے مزید تین کرکٹرز شاہد یوسف، طاہر مغل اور حافظ خالد سے معاہدے کیے ہیں۔ اس طرح آئی سی ایل میں شامل پاکستانی کرکٹرز کی تعداد انیس ہوگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ ایک ٹیم میں پندرہ کھلاڑی رکھنے کی اجازت ہے لہٰذا چار پاکستانی کرکٹرز دیگر ٹیموں میں شامل کیے جائیں گے۔ واضح رے کہ گزشتہ سال شبیر احمد چنائی اور عبدالرزاق حیدرآباد دکن کی طرف سے کھیلے تھے۔ |
اسی بارے میں ’آئی سی ایل کھیلنے پر سزا غلط‘26 January, 2008 | کھیل آئی سی ایل کھیلنے والوں پر پابندی25 December, 2007 | کھیل محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی17 December, 2007 | کھیل انضمام اور شبیر مین آف دی میچ02 December, 2007 | کھیل متنازعہ لیگ سے انضمام خوش30 November, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||