’آئی سی ایل کھیلنے پر سزا غلط‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹارنی جنرل آف پاکستان جسٹس ( ریٹائرڈ ) ملک محمد قیوم نے کہا ہے کہ آئی سی ایل میں شریک کرکٹروں پر پابندی کا پاکستان کرکٹ بورڈ کا فیصلہ ناجائز اور غیرقانونی ہے جبکہ سابق کپتان معین خان نے سپریم کورٹ سے اس معاملے کا ازخود نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے آئی سی ایل میں حصہ لینے والے کرکٹروں پر پاکستانی ٹیم کے ساتھ ساتھ ڈومیسٹک کرکٹ کے دروازے بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کرکٹروں میں سے انضمام الحق ہر طرح کی کرکٹ کو خیرباد کہہ چکے ہیں البتہ عمران فرحت، توفیق عمر، شبیراحمد، عبدالرزاق اور اظہرمحمود ابھی بھی کرکٹ کھیل رہے ہیں۔
اٹارنی جنرل آف پاکستان نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ کیا پاکستان کرکٹ بورڈ کی طرف سے عائد پابندی کے بعد اس بات کا بھی امکان ہے کہ ان کرکٹروں کے ادارے جہاں وہ ملازم ہیں انہیں فارغ کرسکتے ہیں کہا کہ ’یہ ناانصافی ہوگی‘۔
سابق کپتان معین خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ اس قدر حساس اور اہم ہے کہ سپریم کورٹ کو اس کا ازخود نوٹس لینا چاہیے۔ معین خان نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کی پابندی کے بعد خدشہ ہے کہ ان کرکٹروں کو ان کے ادارے یا تو فارغ کردینگے یا پھر کرکٹ کے میدان سے ہٹا کر دفاتر میں بٹھا دینگے جبکہ ہمارے کرکٹروں کو انتظامی اور دفتری معاملات کا زیادہ تجربہ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ کرکٹر اگر کرکٹ سے نہیں کمائیں گے تو پھر کیا کرینگے؟ سابق کپتان عامرسہیل نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے آئین کے تحت کسی کو بھی اس کے روزی کمانے کے ذریعے کو نہیں چھینا جاسکتا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ حالات بہترکرنے کے بجائے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق اقدامات کررہا ہے۔ مشہور کرکٹ کمنٹیٹر چشتی مجاہد کا کہنا ہے کہ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ جیسے پاکستان کرکٹ بورڈ بلاوجہ آئی سی ایل سے خوفزدہ ہے۔
سابق کپتان رمیز راجہ کے خیال میں پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان کرکٹروں پر پابندی عائد کر کے غلطی نہیں کی ہے کیونکہ کوئی بھی آئی سی ایل کی طرز پر اپنی کرکٹ شروع کرکے اتھارٹی کو چیلنج کرسکتا ہے اور انارکی کی کیفیت پیدا ہوسکتی ہے تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنی فرسٹ کلاس کرکٹ کا ڈھانچہ اس قدر منظم کرنا ہوگا کہ کوئی بھی کرکٹر کسی دوسری پیشکش پر غور ہی نہ کرے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے پابندی کے فیصلے کے بعد عمران فرحت، توفیق عمر اور شبیراحمد نے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ عمران فرحت نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان کرکٹ بورڈ کے اس دعوے کو مسترد کردیا کہ ان کرکٹروں کی دائر کردہ پٹیشن عدالت مسترد کرچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان کی پٹیشن مسترد ہوچکی ہوتی تو وہ دوبارہ عدالت سے کیسے رجوع کرتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے پچیس جنوری کو پاکستان کرکٹ بورڈ کا فیصلہ آنے کا انتظار کرتے ہوئے یہ پٹیشن واپس لے لی تھی جو اب دوبارہ دائر کی جائے گی۔ عمران فرحت نے کہا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اپنے ہر بیان میں آئی سی سی کا حوالہ دے رہے ہیں کہ آئی سی سی کی پالیسی بھی آئی سی ایل کے خلاف ہے لہذا وہ آئی سی سی سے بھی رابطہ کر کے صورتحال جاننا چاہیں گے۔ |
اسی بارے میں یوسف کے خلاف حکم امتناعی برقرار25 January, 2008 | کھیل یوسف کا مسئلہ طول پکڑ گیا19 December, 2007 | کھیل محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی17 December, 2007 | کھیل ’یوسف کیخلاف کارروائی کرینگے‘20 October, 2007 | کھیل سلیکٹرز نے پوچھا تک نہیں: یوسف02 October, 2007 | کھیل یوسف:انڈین لیگ سےمعاہدہ ختم27 September, 2007 | کھیل انضمام، یوسف انڈین لیگ میں20 August, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||