BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 19 December, 2007, 14:13 GMT 19:13 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یوسف کا مسئلہ طول پکڑ گیا

محمد یوسف
محمد یوسف نے کہا ہے کہ انہوں نے آئی سی ایل کو ایڈوانس کی رقم واپس کر دی تھی
پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی جاری ہونے کے بعد بھارتی کرکٹ بورڈ سے رابطہ کیا ہے جبکہ انڈین کرکٹ لیگ نے محمد یوسف کے اس دعوے کو مسترد کر دیا ہے کہ انہوں نے معاہدہ ختم کرنے کے بعد آئی سی ایل کو ایڈوانس کی رقم واپس کر دی تھی۔

واضح رہے کہ ممبئی کی ثالثی عدالت نے آئی سی ایل سے معاہدہ توڑ کر آئی پی ایل میں شمولیت اختیار کرنے پر محمد یوسف کے خلاف حکم امتناعی جاری کیا ہے اور اس مقدمے کی سماعت کی اگلی تاریخ اکیس دسمبر مقرر کی گئی ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر شفقت حسین نغمی نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ انتہائی حساس معاملہ ہے جس کے قانونی پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کو حکم امتناعی کی نقل کا انتظار ہے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کا اس ضمن میں بی سی سی آئی کے چیف ایڈمنسٹریٹیو آفیسر رتناکر شیٹھی سے رابطہ ہوا ہے جبکہ بھارتی کرکٹ بورڈ کے نائب صدر للیت مودی سے بھی بات کی جا رہی ہے جنہوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین کو یقین دہانی کرائی تھی کہ آئی سی ایل کی جانب سے ممکنہ عدالتی کارروائی پر انڈین پریمیئر لیگ( آئی پی ایل ) محمد یوسف کی مدد کرے گی۔

پاکستان کرکٹ بورڈ اس نکتے پر بھی غور کر رہا ہے کہ کیا ثالثی عدالت کو حکم امتناعی جاری کرنے کا اختیار ہے یا نہیں؟ جب اس سلسلے میں انڈین کرکٹ لیگ کے ایگزیکٹیو وائس پریذیڈنٹ اشیش کول سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جب اس طرح کے معاہدے ہوتے ہیں تو وہ باقاعدہ عدالت میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور یہ طے ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اگر نااتفاقی ہوئی تو وہ کسی مقرر کردہ ثالث سے رجوع کریں گے اور اس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ آئی سی ایل کے کنٹریکٹ کا دائرہ اختیار ممبئی ہے۔

 جب اس طرح کے معاہدے ہوتے ہیں تو وہ باقاعدہ عدالت میں رجسٹرڈ ہوتے ہیں اور یہ طے ہوتا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان اگر نااتفاقی ہوئی تو وہ کسی مقرر کردہ ثالث سے رجوع کریں گے اور اس کا فیصلہ حتمی ہوگا۔ آئی سی ایل کے کنٹریکٹ کا دائرہ اختیار ممبئی ہے
انڈین کرکٹ لیگ کے ایگزیکٹیو وائس پریذیڈنٹ اشیش کول

اشیش کول نے بتایا کہ چونکہ یہ معاملہ براہ راست آئی سی ایل اور محمد یوسف کے درمیان ہے لہذا حکم امتناعی کی کاپی بھی انہی کے پتے پر بھیج دی گئی ہوگی یا ان کے وکیل کو روانہ کی گئی ہوگی۔ اس معاملے میں وہ پاکستان کرکٹ بورڈ کا براہ راست کردار نہیں دیکھتے۔ محمد یوسف کی پی سی بی اور آئی پی ایل سے کیا انڈراسٹینڈنگ ہوئی ہوگی وہ ان کا آپس کا معاملہ ہے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق محمد یوسف نے آئی سی ایل سے معاہدہ ختم کرنے کے بعد مبینہ طور پر ایڈوانس کی رقم واپس کردی تھی لیکن آئی سی ایل نے اس کی تردید کی ہے۔

اشیش کول کا کہنا ہے کہ رقم کی واپسی مسئلہ نہیں ہے۔ آئی سی ایل نے معاہدہ توڑنے پر ثالثی عدالت سے رجوع کیا ہے۔

محمد یوسف نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے توسط سے آئی سی ایل کے خلاف جوابی مقدمہ لاہور کی عدالت میں دائر کر رکھا ہے۔ اس مقدمے میں سابق ٹیسٹ کرکٹر معین خان کو بھی فریق بنایا گیا ہے جن کی فرم کے توسط سے پاکستانی کرکٹرز نے آئی سی ایل سے معاہدے کیے تھے۔ اس مقدمے کی سماعت کی تاریخ بائیس جنوری مقرر کی گئی ہے۔

محمد یوسف نے جو ان دنوں حج کرنے گئے ہیں اس معاملے کو ختم کرنے کے لیے سابق کپتان انضمام الحق سے بھی اپنا اثرورسوخ استعمال کرنے کی درخواست کی ہے۔

اسی بارے میں
’سب اللہ کا کرم ہے‘
01 December, 2006 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد