یوسف اور بیٹنگ کا منفرد انداز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قوت کے بجائے ٹائمنگ اور سٹائل سے بیٹنگ کرنے والے بیٹسمینوں کا ذکر محمد یوسف کے بغیر ادھورا ہے۔کور ڈرائیو ہوں یا کلائی کے استعمال سے گیند کو آن سائیڈ کی طرف کھیلنا، محمد یوسف اپنی خوبصورت بیٹنگ سے شائقین کو اپنی جانب متوجہ کرنے میں دیر نہیں لگاتے۔ محمد یوسف کو بیٹنگ کرتے دیکھنے والوں کو صرف ایک نمایاں تبدیلی نظرآئی ہے کہ پہلے وہ ہر سنگ میل پر صلیب کا نشان بناتے تھے اب اسی کامیابی پر سجدہ شکر بجا لاتے ہیں۔ یوسف یوحنا سے محمد یوسف ہونے کا معاملہ خاصا نازک اور حساس رہا ہے۔ یوسف اسے کسی دباؤ کا نتیجہ قرار نہیں دیتےاور دائرہ اسلام میں داخل ہونے پر مطمئن اور خوش ہیں۔ وہ اپنی ہر کامیابی کو خدا کی رضا سمجھتے ہیں لیکن ان کے والدین نے ان کے مذہب کی اس تبدیلی کو قبول نہیں کیا ہے۔ شاید یہی وہ سبب ہے کہ یوسف نے اپنے مسلمان ہونے کی خبر گھروالوں سے تین سال تک چھپائے رکھی۔ لاہور ریلوے سٹیشن پر صفائی کرنے والے ایک عیسائی خاندان میں آنکھ کھولنے والے یوسف کے لیے اس ملک کے دوسرے بچوں اور نوجوانوں کی طرح پہلا شوق کرکٹ ہی تھا جو انہیں ان کی محنت کے نتیجے میں فرسٹ کلاس کرکٹ تک لے آیا۔ نوسال قبل جب جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے دورے کے لیے پاکستانی ٹیم کے انتخاب کا وقت قریب آیا تو سلیکشن کمیٹی ان کے بارے میں رائے دو دھڑوں میں بٹی ہوئی تھی۔ ایک سلیکٹر شفیق احمد ان کی صلاحیتوں کے متعرف تھے لیکن بقیہ دو سلیکٹرز ظہیرعباس اور سلیم الطاف نے چونکہ ڈومیسٹک میچز نہیں دیکھے تھے لہذا وہ محمد یوسف کو موقع دینے کے خلاف تھے۔تاہم شفیق احمد کے اصرار پر محمد یوسف کو انگلینڈ کے خلاف دو ون ڈے میچوں میں شامل کرلیا گیا۔ محمد یوسف نے ان دونوں میچوں میں قابل ذکر بیٹنگ کی اور وہ جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے دورے کے لئے ٹیم میں شامل کرلیے گئے۔ محمد یوسف کا ٹیسٹ کرکٹ میں آغاز کسی طور بھی یادگار نہیں تھا لیکن انہیں پاکستانی بیٹنگ لائن کا لازمی حصہ بننے میں دیر نہیں لگی اور آج وہ انضمام الحق کے ساتھ پاکستانی بیٹنگ لائن میں ریڑھ کی ہڈی سمجھے جاتے ہیں۔ محمد یوسف کی بیٹنگ کی ایک خاص بات ان کا پرسکون رہنا ہے۔ وہ رنز کے حصول کے لیے عجلت پسندی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور آہستہ آہستہ اننگز تیار کرتے ہیں۔ بیشتر مبصرین اور ناقدین کے خیال میں محمد یوسف کی ایک بڑی خامی وکٹوں کے درمیان دوڑنے کے وقت ساتھی بیٹسمین کے ساتھ غلط فہمی ہونا ہے جس کے نتیجے میں وہ کم رن آؤٹ ہوتے ہیں لیکن ان کے ساتھیوں کو اکثر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔
ٹیسٹ کی طرح ون ڈے میں بھی محمد یوسف کا ریکارڈ متاثر کن ہے۔ تاہم ان کی بیٹنگ کے دوران یہ بات خاص کر سامنے آئی ہے کہ وہ ایسے مرحلے پر آؤٹ ہوجاتے ہیں جب جیت کے لیے بہت کم رنز درکار ہوتے ہیں۔ محمد یوسف کے لیے یہ سال انتہائی کامیاب رہا ہے اور وہ اس وقت اپنے کریئر کے عروج پر دکھائی دیتے ہیں۔ انہوں نے اس کیلنڈر ایئر میں سب سے زیادہ سنچریوں اور مجموعی رنز کے ریکارڈز انگلینڈ، بھارت اور ویسٹ انڈیز کے تجربہ کار بولنگ اٹیک کے خلاف بنائے ہیں۔ لیکن ایک بڑا امتحان جنوبی افریقہ کے دورے کی شکل میں باقی ہے۔ محمد یوسف نے جنوبی افریقہ میں تین ٹیسٹ کھیلے ہیں جن میں ان کی تین ہندسوں کی کوئی اننگز شامل نہیں ہے۔ | اسی بارے میں کرکٹر محمد یوسف کی بات چیت14 September, 2006 | کھیل انضمام، یوسف پہلے پانچ میں 19 July, 2006 | کھیل پاکستان کی سات وکٹیں گر گئیں 27 November, 2006 | کھیل ویسٹ انڈیز کے چھ کھلاڑی آؤٹ28 November, 2006 | کھیل محمد یوسف، نیا نام نیا عزم 10 November, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||