BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 19 August, 2008, 08:10 GMT 13:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
انگلینڈ:پاکستان میں کھیلنے کا فیصلہ آج
کیون پیٹرسن
انگلینڈ کے کھلاڑی پاکستان میں اپنی سیکورٹی کو لیکر فکر مند ہیں
انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم ستمبر میں پاکستان میں منعقد ہونے والی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لے گی یا نہیں اس کا فیصلہ انگلینڈ اور ویلس کرکٹ بورڈ کی ایک میٹنگ میں منگل کو ہوگا۔

انگلینڈ کے کھلاڑیوں نے اتوار کو دو گھنٹے کی میٹنگ میں انٹرنیشنل کرکٹ کاؤنسل کے دو نمائندوں کے ساتھ میٹنگ کر کے پاکستان میں حفاظت کے خدشات کے سبب کھیلنے پر اپنی سیکورٹی کے حوالے سے فکرمندی کا اظہار کیا ہے۔

انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے ایک ترجمان نے بی بی سی کو بتایا ’میٹنگ میں انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیف ایگزیکیٹو ڈیوڈ کولیر بھی موجود تھے اور میٹنگ میں کیا ہوا اس کی رپورٹ وہ ہمیں دیں گے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا ’ کھلاڑیوں کے خدشات پر بات کرنے کے لیے انگلینڈ کرکٹ بورڈ کی ایک میٹنگ منگل کو لندن میں ہوگی۔‘

آئی سی سی کے چیف ایگزیکیٹو ہارون لورگاٹ نے ہفتے اور اتوار کو انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں کے ساتھ لندن اور ایڈنبراہ میں ملاقات کی اور انہوں نے آئی سی سی کے سکیورٹی کنسلٹنٹ نکولس اسٹئنز اور کمپنی سے بات چیت کی ہے۔

 کھلاڑیوں کے خدشات پر بات کرنے کے لیے انگلنڈ کرکٹ بورڈ کی ایک میٹنگ منگل کو لندن میں ہوگی۔

انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے ترجمان نے کہا ’میٹنگ دو گھنٹے تک چلی اور کھلاڑیوں نے ٹورنامنٹ سے متعلق تمام سوال کیے۔‘

مینٹگ میں انگلینڈ کرکٹ ٹیم کے مینیجر ڈیوڈ کولیر اور ہیو مورس بھی موجود تھے اور انہوں نے سبھی کھلاڑیوں کا موقف سنا۔

جب ان سے یہ پوچھا گیا کہ کیا آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کو پاکستان سے باہر منعقد کرانے پر غور کر سکتا ہے تو انکا کہنا تھا ’اس کا جواب تو آئی سی سی ہی دے سکتا ہے۔‘

آسٹریلیا اور نیو زیلنڈ کے کھلاڑیوں کے علاوہ انگلینڈ اور جنوبی افریقہ کے کھلاڑیوں نے پاکستان میں بارہ ستمبر سے کھیلی جانے والی چیمپئنز ٹرافی میں حصہ لینے سے پہلے اپنی سیکورٹی کے تئیں فکر مندی کا اظہار کیا ہے۔

انگلینڈ کے کپتان کیون پیٹرسن کا کہنا ہے کہ انہیں خوشی ہے کھلاڑیوں کے خدشات پر غور کیا جارہا ہے۔

بڑا فیصلہ
 کھلاڑیوں کی بات سننے کے بعد بورڈ جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ میں بورڈ کو یہ بتاؤں گا کہ ڈریسنگ روم میں کھلاڑی اپنی حفاظت کو لے کر کس طرح تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور بورڈ اس پر کوئی بھی فیصلہ منگل کو کرے گا۔
کیون پیٹرسن، انگلینڈ ٹیم کے کپتان

انکا کہنا تھا ’خوش قسمتی سے بورڈ کے بعض ممبران نے ہماری بات سنی اور بورڈ کو معلوم ہے کہ کھلاڑی سیکورٹی کے بارے میں فکر مند ہیں۔‘

پیٹرسن نے مزید کہا کہ ’ کھلاڑیوں کی بات سننے کے بعد بورڈ جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ایک بڑا فیصلہ ہوگا۔ میں بورڈ کو یہ بتاؤں گا کہ ڈریسنگ روم میں کھلاڑی اپنی حفاظت کے بارے میں کس طرح تشویش کا اظہار کرتے ہیں اور بورڈ اس پر کوئی بھی فیصلہ منگل کو کرے گا۔‘

دریں اثناء پیر کو پاکستان کے صدر پرویز مشرف کے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے اعلان کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نسیم اشرف نے بھی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا ہے۔ پاکستان میں کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کا انتخاب صدر ہی کرتے ہیں۔ نسیم اشرف کو 2006 میں پاکستان کرکٹ بورڈ کا چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔

اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد نسیم اشرف نے کہا، ’میں نے صدر کے دفتر اپنا استعفی بھیج دیا ہے اور اب میں بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے کام نہیں کرسکتا ہوں۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ ’صدر کے مستعفی ہونے کے بعد مجھے نہیں لگتا کہ اخلاقی طور پر مجھے اپنے عہدے پر بنے رہنا چاہیے۔‘ حالانکہ انکا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کے استعفی سے چیمپئنز ٹرافی متاثر نہیں ہوگی۔ انوں نے کہا، ’ٹورنامنٹ جاری رہے گا کہ کیونکہ بورڈ تو کام کر ہی رہا ہے۔ میں تب تک اپنا کام کرتا رہوں گا جب تک میرا استعفی منظور نہیں ہوجاتا۔ ‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد