BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 January, 2009, 15:07 GMT 20:07 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بولرز کے لیے رحم نہیں

میتھیو ہیڈن
ہیڈن۔لینگر کی جوڑی نے ٹیسٹ کرکٹ میں5655 رنز بنائے ہیں
میتھیو ہیڈن کی مضبوط کلائیوں، چوڑے شانے اور بھاری جسامت دیکھ کر ایک لمحے کے لیے یہ احساس ہوتا تھا کہ جیسے وہ ڈبلیو ڈبلیو اے کے وہ خوفناک ریسلر ہیں جو رنگ میں اپنے حریف کے ساتھ انتہائی بے رحمانہ سلوک روا رکھتے ہیں تاہم بیٹسمین کی حیثیت سے حریف بولرز کے ساتھ ہیڈن کا سلوک بھی کسی ریسلر سے مختلف نہ تھا۔

ہیڈن صرف جسمانی طور پر ہی نہیں بلکہ ذہنی طور پر بھی مضبوط تھے اسی لیے وہ دنیا کی سب سے بہترین کہلائے جانے والی آسٹریلوی ٹیم کے ایک اہم رکن کے طور پر چودہ سال گزارنے میں کامیاب ہوگئے۔

اگرچہ ہیڈن کے کریئر کے ابتدائی چند سال تگ ودو میں گزرے لیکن جب انہوں نے مشکلات پر قابو پالیا تو یہ مشکلیں بولرز کی طرف منتقل ہوگئیں۔

انہوں نے ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی ہر طرز کی کرکٹ میں اپنی جارحانہ بیٹنگ سے انمٹ نقوش چھوڑے۔

اسٹیو وا کا کہنا ہے کہ ’ہیڈن نے بولرز پر حاوی ہونے والی اپنی عادت سے ٹیسٹ کرکٹ کی بیٹنگ کا انداز ہی ہمیشہ کے لیے بدل ڈالا۔‘

رکی پونٹنگ ہیڈن کو آسٹریلوی کرکٹ کا عظیم ترین اوپنر قرار دیتے ہیں۔

ان کے دیرینہ ساتھی جسٹن لینگراپنے آخری ٹیسٹ کو یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں’میری آخری اننگز میں ہم دونوں کریز پر تھے آسٹریلیا کو جیت کے لیے سات رنز درکار تھے میں کافی جذباتی تھا اور چاہتا تھا کہ میچ جلد سے جلد ختم کر کے ہم دونوں باہر آجائیں ۔ ہیڈن نے مجھ سے پوچھا کہ کیا کرنا چاہیئے میں نے کہا کہ چھکا لگاکر میچ ختم کر دو۔ ہیڈن نےساجد محمود کی اگلی گیند پر چھکا اور پھر ایک رن لے لر سڈنی ٹیسٹ کو دس وکٹوں کی جیت پر ختم کردیا۔‘

ون ڈے میں ان کے ساتھی اوپنر ایڈم گلکرسٹ کہتے ہیں: ’ہیڈن کی سب سے بڑی خوبی ان کی خود اعتمادی تھی۔ اگر کسی نے ان سے کہہ دیا کہ یہ کام ان سے نہیں ہوسکتا تو پھر یہ سمجھ لیجئے کہ وہ کام ہوگیا۔‘

ہیڈن کا ریکارڈ
News image
 ہیڈن آسٹریلیا کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والوں میں رکی پونٹنگ37 اور اسٹیو وا 32 کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں لیکن انہیں جو بات ممتاز کرتی ہے وہ گیارہ چھکوں اور اڑتیس چوکوں سے سجی 380 رنز کی اننگز ہے جو انہوں نے زمبابوے کے خلاف پرتھ ٹیسٹ میں کھیلی تھی اور برائن لارا کو 375 رنز کے عالمی ریکارڈ سے محروم کردیا تھا تاہم لارا نے یہ ریکارڈ زیادہ دیر ہیڈن کے پاس نہیں رہنے دیا اور چارسو رنز کی ناقابل فراموش اننگز کھیل کر دوبارہ اپنے نام کر لیا

بین الاقوامی کرکٹ پر بالاستی قائم کرنے والی آسٹریلوی ٹیم کی ٹیسٹ میچوں کی فتوحات عام طور پر گلین میک گرا اور شین وارن کی شاندار بولنگ سے یاد کی جاتی ہیں لیکن ان کامیابیوں کو بنیاد فراہم کرنے میں ہیڈن اور جسٹن لینگر کی اوپننگ جوڑی بھی کسی سے پیچھے نہ تھی۔

دونوں نے پہلی مرتبہ2001ء کی ایشیز سیریز کے اوول ٹیسٹ میں ایک ساتھ اوپننگ کی اور سنچری شراکت قائم کی اور جب گزشتہ سال جسٹن لینگر نے شین وارن اور میک گرا کے ساتھ سڈنی میں اپنا الوداعی ٹیسٹ کھیلا تو اسوقت تک ہیڈن۔لینگر کی جوڑی ٹیسٹ کرکٹ میں5655 رنز بنا چکی تھی جو ویسٹ انڈین مشہور جوڑی ہینز۔گرینج کے 6482 رنز کے بعد کسی بھی اوپننگ پیئر کے سب سے زیادہ رنز ہیں۔

ہیڈن آسٹریلیا کی طرف سے سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریاں بنانے والوں میں رکی پونٹنگ37 اور اسٹیو وا 32 کے بعد تیسرے نمبر پر ہیں لیکن انہیں جو بات ممتاز کرتی ہے وہ گیارہ چھکوں اور اڑتیس چوکوں سے سجی 380 رنز کی اننگز ہے جو انہوں نے زمبابوے کے خلاف پرتھ ٹیسٹ میں کھیلی تھی اور برائن لارا کو 375 رنز کے عالمی ریکارڈ سے محروم کردیا تھا تاہم لارا نے یہ ریکارڈ زیادہ دیر ہیڈن کے پاس نہیں رہنے دیا اور چارسو رنز کی ناقابل فراموش اننگز کھیل کر دوبارہ اپنے نام کر لیا۔

ہیڈن نے ٹیسٹ کرکٹ میں بنگلہ دیش کے سوا ہر ملک کے خلاف سنچری اسکور کی۔

ون ڈے میں بھی ہیڈن کا جادو سر چڑھ کر بولا ۔ وہ 2003اور2007 ورلڈ کپ کی فاتح ٹیموں کا حصہ تھے۔

ویسٹ انڈیز میں منعقدہ ورلڈ کپ میں ان کی جارحانہ بیٹنگ شائقین آج بھی نہیں بھولے۔اس ورلڈ کپ میں انہوں نے تین سنچریاں اسکور کیں۔

ہیڈن ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ون ڈے انٹرنیشنل میں بھی سب سے زیادہ انفرادی اننگز کے آسٹریلوی ریکارڈ کے مالک ہیں۔ انہوں نے فروری2007 میں نیوزی لینڈ کے خلاف ہملٹن میں 181 رنز ناٹ آؤٹ کی زبردست اننگز کھیلی۔

ٹوئنٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں بھی ہیڈن کی اوسط پچاس سے زائد رہی جس میں چار نصف سنچریاں شامل ہیں۔

ہیڈن اپنے کریئر کے آخری دنوں میں مشکل دور سے گزر رہے تھے۔ گوکہ اتارچڑھاؤ ان کے کریئر میں پہلے بھی آچکے ہیں لیکن اس مرتبہ صورتحال مختلف تھی۔ ون ڈے ٹیم سے ڈراپ کرنے کے بعد سلیکٹرز انہیں آئندہ ایشیز تک ٹیسٹ ٹیم میں دیکھنا ضرور چاہتے تھے لیکن رنز کا حصول ہیڈن کے لیے مشکل ہو چلا تھا لہذا جنوبی افریقہ کے خلاف سڈنی ٹیسٹ کے بعد انہوں نے یہ کہہ کر بین الاقوامی کرکٹ سے رخصت لی کہ وہ’ کرکٹ سے ریٹائر ہورہے ہیں زندگی سے نہیں۔‘

میتھیو ہیڈن ریٹائرمنٹ کے بعد مچھلی کے شکار کا سوچ رہے ہیں کیونکہ فشنگ ان کا من پسند مشغلہ رہا ہے لیکن دنیا انہیں بڑے بڑے بولرز کا شکار کرنے والے بیٹسمین کے طور پر ہمیشہ یاد رکھے گی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد