BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 December, 2008, 16:22 GMT 21:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
نئے کرکٹ قوانین، ٹیمیں’غیر مطمئن‘

ایل بی ڈبلیو کے درست فیصلوں کے لیے ٹیسٹ میچوں میں ’ریفرل سسٹم‘ متعارف کرایا گیا ہے
آئی سی سی نے کرکٹ کے کھیل میں مزید دلچسپی پیدا کرنے کے لیے جو چند نئے قوانین متعارف کرائے وہ مختلف آراء کے ساتھ ٹیسٹ ون ڈے اور ٹوئنٹی ٹوئنٹی میں دیکھےگئے ہیں۔

ان قوانین میں ’ریفرل سسٹم‘ اور ’سپر اوور‘ دو نئے قوانین قابل ذکر ہیں جن کے علاوہ ’پاور پلے‘ اور اننگز کے درمیانی وقفے میں ردوبدل بھی کیا گیا ہے۔

’سپر اوور‘ کا قانون میچ ٹائی ہونے کے بعد ’بال آؤٹ‘ کی جگہ سامنے لایا گیا ہے۔ آئی سی سی کی کرکٹ کمیٹی نے مئی میں اپنے اجلاس میں یہ تجویز دی تھی کہ سپر اوور قانون کو آئی سی سی ورلڈ ٹوئنٹی ٹوئنٹی اور آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی میں متعارف کرایا جائے۔

بال آؤٹ میں دونوں ٹیموں کو پانچ پانچ گیندیں دی جاتی تھیں جن میں پانچ بولرز کو بیٹسمین کے بغیر خالی اسٹمپس کو ہٹ کرنا ہوتا تھا جو ٹیم زیادہ ہٹ کرتی وہ فاتح قرار پاتی ۔ یہ طریقہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ ٹائی ہونے کی صورت میں اختیار کیا گیا تھا جس میں بھارتی بولرز نے تین مرتبہ اسٹمپس کو ہٹ کیا جبکہ پاکستانی بولرز دو مرتبہ ایسا کر سکے تھے۔

بال آؤٹ کی جگہ متعارف کیے گئے سپر اوور میں ہر ٹیم کو ایک اوور کھیلنے دیا گیا ہے۔ بیٹنگ ٹیم کو تین بیٹسمین نامزد کرنے ہوتے ہیں جبکہ بولنگ سائیڈ ایک بولر میدان میں اتارتی ہے۔ جو ٹیم زیادہ رنز سکور کرتی ہے وہ فاتح ہوتی ہے۔ اگر سکور برابر ہو جائے تو دونوں ٹیموں کے چھکوں اور پھر چوکوں کی تعداد کے ذریعے فاتح کا فیصلہ ہوتا ہے۔ اگر بولر حریف ٹیم کے دو بیٹسمین آؤٹ کر دے تو اوور وہیں ختم ہوجاتا ہے۔

 آئی سی سی نے ایل بی ڈبلیو کے درست فیصلوں کے لیے ٹیسٹ میچوں میں ’ریفرل سسٹم‘ کو متعارف کرایا ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ٹیم کو ایک اننگز میں تین ناکام اپیلیں تھرڈ امپائر کی طرف منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔اگر کوئی فیلڈنگ سائیڈ یا بیٹسمین ایل بی ڈبلیو کے فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو وہ اپیل کرے گا اور انہیں تھرڈ امپائر کو منتقل کردیا جائے گا جو ہاک آئی کی مدد سے ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ دے گا۔

سپر اوور قانون کو پہلی مرتبہ حال ہی میں ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے درمیان آک لینڈ میں کھیلےگئے ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ میں استعمال میں لایا گیا اور کرس گیل کے تین چھکوں اور ایک چوکے کی جارحانہ بیٹنگ نے ویسٹ انڈیز کو فاتح بنا دیا۔

اس کے علاوہ آئی سی سی نے ایل بی ڈبلیو کے درست فیصلوں کے لیے ٹیسٹ میچوں میں ’ریفرل سسٹم‘ کو متعارف کرایا ہے۔ اس قانون کے تحت ہر ٹیم کو ایک اننگز میں تین ناکام اپیلیں تھرڈ امپائر کی طرف منتقل کرنے کی اجازت ہوگی۔

اگر کوئی فیلڈنگ سائیڈ یا بیٹسمین ایل بی ڈبلیو کے فیصلے سے مطمئن نہ ہو تو وہ اپیل کرے گا اور انہیں تھرڈ امپائر کو منتقل کردیا جائے گا جو ہاک آئی کی مدد سے ایل بی ڈبلیو کا فیصلہ دے گا۔

اس قانون کو پہلی مرتبہ بھارت اور سری لنکا کی ٹیسٹ سیریز اور پھر دوسری مرتبہ ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ سیریز میں استعمال میں لایا گیا۔ تاہم نیوزی لینڈ کے کپتان ویٹوری اور ویسٹ انڈین کپتان کرس گیل اس قانون سے مکمل طور پر مطمئن نظر نہیں آئے۔

آئی سی سی نے ستمبر میں اپنے اجلاس میں یہ فیصلہ بھی کیا کہ اگر فیلڈ امپائرز کیچز کے بارے میں مطمئن نہیں ہوتے تو وہ فیصلے کے لئے تھرڈ امپائر سے مدد لے سکتے ہیں۔

آئی سی سی نے ون ڈے میچوں میں تین پاور پلے میں سے ایک پاور پلے کے تعین کا حق بھی بیٹنگ کرنے والی ٹیم کو دے دیا ہے۔ اس کے علاوہ انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کے درمیان ایجبسٹن کے ون ڈے میچ کے بارش کی وجہ سے ختم کیے جانے کے قضیے کے بعد آئی سی سی نے فیصلہ کیا کہ امپائر میچ کو نتیجہ خیز بنانے کی خاطر دونوں اننگز کے درمیانی وقفے کو کم کر سکتے ہیں اور اب یہ حد کم ازکم دس منٹ مقرر کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد