499 کی اننگز کے پچاس سال | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گیارہ جنوری1959ء کو لٹل ماسٹر حنیف محمد نے کراچی پارسی انسٹی ٹیوٹ گراؤنڈ پر فرسٹ کلاس کرکٹ کی سب سے بڑی انفرادی اننگز کھیلتے ہوئے499 رنز اسکور کئے تھے۔ آج وہ اس تاریخی کارنامے کے پچاس سال مکمل ہونے پر بے حد مطمئن اور ماضی میں کھوجانے کے لئے جیسے تیار بیٹھے ہیں۔ حنیف محمد نے قائداعظم ٹرافی میں کراچی کی طرف سے بہاولپور کے خلاف499 رنز بناکر فرسٹ کلاس کرکٹ میں سر ڈان بریڈمین کے452 رنز کے عالمی ریکارڈ کو اپنے نام کیا تھا۔ حنیف محمد سے ان کی اس مشہور اننگز کی یاد تازہ کرنے کے لئے اسی پارسی انسٹی ٹیوٹ گراؤنڈ میں ملاقات رکھی گئی جو عرف عام میں کے پی آئی کے نام سے مشہور ہے۔ اس گراؤنڈ میں اب کلب میچز ہوتے ہیں لیکن میدان کی گھاس باؤنڈریز کی طرف سے بالکل ختم ہوچکی ہے ۔ پرانے پویلین پر کام ہورہا ہے۔ اسی پرانے پویلین کے ساتھ وہی پرانا اسکور بورڈ لگا ہوا ہے جس کے ہندسے ہاتھوں سے تبدیل کئے جاتے ہیں لیکن اسکور بورڈ کی حالت اور زنگ آلود ہندسوں کی تختیاں بتاتی ہیں کہ جیسے ان پر برسوں سے رنگ نہیں ہوا۔ پرانے پویلین کی ایک دیوار پر وہ یادگاری تختی نصب ہے جس پر حنیف محمد کا کارنامہ درج ہے لیکن اس تختی کے بھی کچھ لفظ مٹ چکے ہیں۔ حنیف محمد جب میدان میں داخل ہوتے تھے تو ہاتھ میں بیٹ ان کی ثابت قدمی کی علامت اور پاکستانی کرکٹ ٹیم کی سب سے بڑی امید ہوا کرتا تھا۔
حنیف محمد کی عمر74 سال ہوچکی ہے اورگھٹنوں کی تکلیف کے سبب چلنے میں مدد دینے کے لئے اب وہ چھڑی استعمال کرتے ہیں۔ لیکن ان کی یادداشت بلا کی ہے۔ انہیں اب بھی یاد ہے کہ انہوں نے کہاں گیند کھیلی تھی اور تھرو کس اینڈ پر آئی تھی جس پر وہ رن آؤٹ ہوکر صرف ایک رن کی کمی سے کرکٹ کی تاریخ میں پانچ سو کی انفرادی اننگز کھیلنے والے بیٹسمین کے اعزاز سے محروم ہوگئے تھے۔ حنیف محمد پانچ سو رنز نہ ہونے کا ذمہ دار اسکور بورڈ بوائے کی غلطی کو قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں ’میرے بھائی وزیر محمد کپتان تھے اور مجھے اندازہ تھا کہ وہ اگلے دن کراچی کی اننگز جاری نہیں رکھیں گے میرے پاس کھیلنے کے لئے صرف دو گیندیں تھیں۔ اسکور بورڈ پر میرا اسکور 496 درج تھا۔ میں نے سوچا کہ پہلی گیند پر دو رنز لے کر اسٹرائیک اپنے پاس رکھوں اور پھر دن کی آخری گیند پر دو رنز لے کر پانچ سو مکمل کرلوں اسی خیال سے میں نے شاٹ کھیلا اور فیلڈر سے مس فیلڈنگ ہوئی اور میں دوسرے رن کے لئے دوڑ پڑا۔ لیکن وکٹ کیپر کی طرف آئی ہوئی تھرو میرے بھاگنے سے زیادہ تیز ثابت ہوئی اور میں رن آؤٹ ہوگیا۔ جب میں پویلین آرہا تھا تو اسکور بورڈ پر میرا اسکور499 لگایا گیا جس پر مجھے افسوس ہوا۔ اگر اسکور بورڈ پر صحیح اسکور لگتا اور مجھے پتہ ہوتا کہ میں496 رنز پر نہیں بلکہ498 پر کھیل رہا تھا تو میں اس گیند کی بجائے آخری گیند پر دو رنز بنانے کا چانس لے سکتا تھا۔‘ کیا آپ کو پتہ تھا کہ آپ سر ڈان بریڈمین کا عالمی ریکارڈ توڑنے جارہے ہیں؟ حنیف محمد اس سوال کا جواب نفی میں دیتے ہیں’مجھے نہیں پتہ تھا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں سب سے بڑی اننگز کا ورلڈ ریکارڈ کس کا تھا۔ جب میں نے ٹرپل سنچری مکمل کی تو وزیر بھائی نے مجھ سے کہا کہ تمہیں چار سو باون کا بریڈمین کا ریکارڈ توڑنا ہے جس پر میں نے کہا کہ ابھی تو کافی رنز باقی ہیں یہ بہت مشکل ہوگا۔ وزیر بھائی نے کہا کہ میں تمہیں کپتان اور بھائی دونوں حیثیت میں حکم دیتا ہوں کہ تم اس ریکارڈ کو ذہن میں رکھ کر کھیلو۔ انہوں نے میرا بہت خیال رکھا میرے ہاتھوں اور پیروں کی مالش کرائی ہاٹ باتھ کرایا اور کہا کہ جلدی سوجاؤ تمہیں اگلے دن ورلڈ ریکارڈ بنانا ہے۔‘ کتنے شائقین ورلڈ ریکارڈ اننگز دیکھنے کے لئے کے پی آئی میں موجود تھے؟ حنیف محمد کہتے ہیں’ہزار کے لگ بھگ لوگ موجود تھے چونکہ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ میں337 رنز کی اننگز کھیل کر آیا تھا تو شائقین مجھے کھیلتا دیکھنے آتے تھے ۔ جب میں نے ٹرپل سنچری مکمل کی تھی تو اخباروں میں چھپنے والی خبروں کی وجہ سے بھی کافی لوگ آگئے تھے۔‘ حنیف محمد کو اچھی طرح یاد ہے کہ جیسے ہی انہوں نے عالمی ریکارڈ بنایا آسٹریلیا سے انہیں موصول ہونے والا مبارک بادی ٹیلیگرام سرڈان بریڈمین کا تھا۔ لٹل ماسٹر حنیف محمد ہنستے ہوئے کہتے ہیں’499 رنز کی اننگز کی وجہ سے میں دو مرتبہ شہ سرخیوں میں رہا پہلی بار جب میں نے یہ ریکارڈ بنایا اور دوسری مرتبہ جب برائن لارا نے میرا ریکارڈ توڑا۔‘ حنیف محمد کے پاس اپنی اس اننگز کی مناسبت سے جہاں بہت ساری خوشگوار یادیں ہیں وہیں ایک ناخوشگوار یاد بھی جڑی ہوئی ہے۔ جب وہ 499 رنز پر رن آؤٹ ہوئے تو ان کے ساتھ بیٹنگ کرنے والے بیٹسمین عبدالعزیز تھے جو اگلے ہی میچ میں آف اسپنر دلدار اعوان کی گیند سینے پر لگنے سے انتقال کرگئے تھے۔ | اسی بارے میں حنیف محمد کی خواہش25 March, 2005 | کھیل سوبرز اور حنیف سے انضمام اور لارا تک09 March, 2007 | کھیل ریکارڈ ساز، سحر انگیز برائن لارا20 April, 2007 | کھیل حنیف،عمران،میانداد’ہال آف فیم‘ میں03 January, 2009 | کھیل لٹل ماسٹر، کرکٹ کے مہمان 22 February, 2005 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||