BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 January, 2009, 03:30 GMT 08:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
سری لنکا کے خلاف ٹیم میں تبدیلیاں

عبدالقادر
عبدالقادر: مقابلہ کیے بغیر شکست کا جواز نہیں دیا جا سکتا
پاکستان کرکٹ بورڈ کی سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین عبدالقادر کا کہنا ہے کہ سری لنکا کے خلاف ٹیم میں واضح تبدیلیاں دیکھنے کو ملیں گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سری لنکا کے خلاف ان کھلاڑیوں کو آزمایا جائے گا جو فارم میں ہیں اور پاکستان کے لیے بہتر کارکردگی دکھانے کا عزم رکھتے ہیں۔

پاکستان اس برس جولائی میں سری لنکا کے خلاف سری لنکا میں پانچ ایک روزہ اور تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز کھیلے گا۔

سری لنکا کے خلاف ہوم سیریز میں ناکامی اور خاص طور پر لاہور میں کھیلے گئے میچ میں 234 رنز کی شکست کے بارے میں عبدالقادر کا کہنا تھا کہ انہیں اس میچ میں پاکستانی کھلاڑیوں میں جذبے اور ہمت کی کمی نظر آئی۔ عبدالقادر کے بقول کھلاڑیوں کی جسمانی حالت سے اندازہ ہوتا تھا کہ وہ مقابلے کے لیے تیار نہیں۔

انہوں نے کہا کہ مقابلے کے بغیر شکست کا جواز نہیں دیا جا سکتا۔

عبدالقادر نے اپنی منتخب کردہ ٹیم کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جو پندرہ رکنی ٹیم دی تھی اس کی سب نے تعریف کی اور اسی ٹیم نے کراچی میں ہونے والے پہلے ون ڈے میں سری لنکا کو آٹھ وکٹوں سے شکست دی جو کہ ایک بڑی فتح سمجھی جاتی ہے۔ لیکن اسی ٹیم نے باقی دونوں میچز میں جس طرح سے کھیلا وہ ناقابل فہم ہے۔

عبدالقادر کہتے ہیں کہ پاکستان کی اے اور بی دو ٹیمیں بنائیں جائیں جو کھلاڑی ٹیم کے لیے کارکردگی نہ دکھائے اسے بی ٹیم میں بھیج دیا جائے اور بی ٹیم کے کھلاڑی کو اے ٹیم میں لایا جائے۔ بی ٹیم میں بھیجے گئے کھلاڑی سے کہا جائے کہ وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلے اور اپنی فارم درست کرے۔

عبدالقادر کے مطابق اسی پالیسی کو اپناتے ہوئے ان کی کوشش ہو گی کہ وہ سری لنکا کے خلاف دوسرے کھلاڑیوں کو موقع دیں اور جو کھلاڑی پرفارم نہیں کر رہے انہیں آرام دیا جائے۔

انہوں نے یونس خان کو کپتان بنانے کے فیصلے پر کہا کہ یہ فیصلہ کرکٹ بورڈ نے ٹیم کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے کیا ہے اور ان کے خیال میں یونس خان بہتر کپتان ثابت ہوں گے۔

عمر گللاہور میں شکست
ایک روزہ میچوں میں سب سے بڑی ہار
اختیار بھی چاہئیں
یونس کو کپتانی کے ساتھ اختیارات بھی چاہئیں
انضمامبرے کپتان نہیں تھے
’شعیب ساتھیوں کو صحیح ہینڈل نہ کرسکے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد