یونس خان کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ نے کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک کے استعفٰی کے بعد ٹیم سے سینیئر رکن یونس خان کو نیا کپتان مقرر کر دیا ہے۔ اس تعیناتی کی اعلان پی سی بی کے چیئرمین اعجاز بٹ نے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں کیا۔ یونس خان کو ٹیسٹ اور ایک روزہ دونوں طرز کی کرکٹ کے لیے ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ یونس خان نے اس تقرری سے قبل منگل کی صبح پی سی بی ہیڈکوارٹرز میں اعجاز بٹ سے ملاقات بھی کی تھی جس کے بعد ان خبروں میں تیزی آ گئی تھی کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان کو تبدیل کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ پر سری لنکا کے خلاف لاہور میں ہونے والے تیسرے ایک روزہ میچ میں پاکستان کی ٹیم کی عبرت ناک شکست کے بعد سخت تنقید کی گئی اور پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجا ز بٹ نے تسلیم کیا تھا کہ اس شکست کے پیچھے پاکستان کرکٹ بورڈ، اس کے چیئرمین، سلیکشن کمیٹی، ٹیم کے کوچ کی ناکامی اور کپتان اور کھلاڑیوں کی ناکامی تھی۔ انہوں نے کہا کہ وہ کوشش کر رہے ہیں کہ آئندہ ہر طرف سے ناکامی نہ ہو اور اسی لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ پریس کانفرنس میں ان سے سوال کیا گیا کہ کیا اتنے لوگوں کی ناکامی پر صرف شعیب ملک کو قربانی کا بکرا نہیں بنایا جا رہا تو وہ اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکے۔انہوں نے کہا کہ شعیب ملک سے اس تمام صورتحال پر بات کی گئی اور انہوں نے بخوشی اس عہدے سے استعفی دیا جس کے بعد یونس خان کو کپتان بنایا گیا۔ اعجاز بٹ سے دریافت کیا گیا کہ کہ کیا شعیب ملک اب ٹیم میں رہیں گے تو انہوں نے شعیب ملک کی ذاتی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئےکہا کہ وہ بہت اچھے کھلاڑی ہیں اور وہ ٹیم میں رہیں گے۔ واضح رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے شعیب ملک کو غیرمعینہ مدت کے لیے کپتان مقرر کیا تھا لیکن سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز ہارنے اور خصوصاً تیسرے ون ڈے میں ہوم گراؤنڈ پر سب سے کم سکور پر آؤٹ ہو کر سب سے بڑی شکست سے دوچار ہونے کے بعد ان کی قائدانہ صلاحیتوں پر مبصرین اور ماہرین نے اعتراضات کیے تھے اور ان کی جگہ کسی سینیئر کرکٹر کو قیادت سونپنے کا مطالبہ سامنے آیا تھا۔
تاہم لاہور ون ڈے کے بعد جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ سے شعیب ملک کی جگہ کسی دوسرے کرکٹر کو کپتانی دیے جانے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے شعیب ملک کا بھرپور دفاع کرتے ہوئے انہیں کپتانی سے ہٹائے جانے کو خارج از امکان قرار دیا تھا۔ پریس کانفرنس میں یونس خان کی سری لنکا کے خلاف حالیہ کارکردگی پر بھی سوال اٹھایا گیا۔یونس خان نے اس سیریز کے تینوں میچز میں 36 گیندوں پر 28 رنز بنائے۔لاہور کے میچ میں ان کا سکور چار رنز تھا۔ ان کے بارے میں ایسی خبریں بھی آئیں کہ انہوں نے لاہور کے میچ میں اوپننگ کرنے کے لیے خود زور دیا تھا۔ اعجاز بٹ سے دریافت کیا گیا کہ کیا یونس خان کو کپتانی دینے سے پاکستان کی ٹیم میچ جیتنے والی ٹیم بن جائے گی تو ان کا جواب تھا کہ صرف ہار جیت اہم نہیں ٹیم کی کارکردگی تو اچھی ہونی چاہیے۔ خیال رہے کہ یونس خان کو اس سے قبل بھی پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت کی پیشکش ہو چکی ہے لیکن وہ اس کے لئے تیار نہیں ہوئے یہاں تک کہ دو ہزار چھ کی چیمپئنز ٹرافی کے لیے کپتان بنائے جانے کے بعد انہوں نے اس وقت کے پی سی بی چیئرمین شہریارخان سے ناراضگی پر کپتانی چھوڑنے کا اعلان کردیا اور ڈاکٹر نسیم اشرف کے چیئرمین بننے کے بعد وہ دوبارہ یہ ذمہ داری سنبھالنے کے لیے تیار ہوئے۔ سنہ دو ہزار سات کے ورلڈ کپ کے بعد جب انضمام الحق نے بین الاقوامی کرکٹ کو خیرباد کہا تو اس وقت بھی یونس خان کپتانی کے مضبوط امیدوار کے طور پر سامنے آئے لیکن بورڈ نے شعیب ملک کو کپتان مقرر کردیا۔ بھارت کے دورے میں شعیب ملک کے ان فٹ ہونے کے سبب یونس خان نے دو ٹیسٹ میچوں میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت کی تھی۔ | اسی بارے میں یونس، بٹ ملاقات: کپتانی پر سوال؟27 January, 2009 | کھیل کپتان، کوچ اور سلیکٹر کی طلبی26 January, 2009 | کھیل ہمارے لیے ایک برا دن تھا: شعیب25 January, 2009 | کھیل لاہور:پاکستان کی بدترین شکست24 January, 2009 | کھیل شعیب اختر سے کپتان خوش نہیں22 January, 2009 | کھیل پاکستان کی ہار، سیریز برابر21 January, 2009 | کھیل کپتان، کوچ اور سیلکٹر کی طلبی21 January, 2009 | کھیل کراچی میں پاکستان کی جیت20 January, 2009 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||