’سری لنکا کو پاکستان آنا چاہیے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے کرکٹ مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نے جس طرح سری لنکا کی ہمیشہ مدد کی ہے اس طرح سری لنکا کو بھی اس مشکل وقت میں پاکستان آنا چاہیے جبکہ دوسری جانب سری لنکا نے دورے کی تصدیق کے لیے اتوار چار جنوری تک کا وقت مانگا ہے۔ جب بھارتی حکومت نے اپنی کرکٹ ٹیم پاکستان نہ بھیجنے کا اعلان کیا تو پاکستانی کرکٹ شائقین کے لیے یہ خبر کافی مایوس کن تھی۔ لیکن پھر کچھ ڈھارس بندھی کہ تقریبا انہی تاریخوں میں سری لنکا کے کرکٹ بورڈ نے کہ جس کے صدر رانا ٹنگا تھے اپنی ٹیم پاکستان بھیجنے کا وعدہ کر لیا۔ لیکن پھر یہ بورڈ تحلیل کر دیا گیا اور نئے کرکٹ بورڈ نےکہا ہے کہ تین ٹیسٹ میچز اور پانچ ایک روزہ میچز کے لیے 20 جنوری سے 25 جنوری تک سری لنکا کی ٹیم نہیں آ سکتی بلکہ دو ٹیسٹ اور تین ون ڈے کھیلنے کے لیے 15 فروری کو آئے گی۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان کے مطابق سری لنکن کرکٹ بورڈ نے جمعہ کو خط کے ذریعے مطلع کیا ہے کہ وہ اتوار تک نئے شیڈیول کے مطابق دورے کی تصدیق کر دیں گے۔ پی سی بی کے ترجمان آصف سہیل کے مطابق چونکہ سری لنکا کی حکومت کے اعلی حکام نے کہہ دیا ہے کہ ان کی ٹیم پاکستان جایے گی اس لیے یہ کہنا درست نہیں کہ وہ پاکستان آنے میں سنجیدہ نہیں۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے سابق چئرمین لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ توقیر ضیاء کا کہنا ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ سری لنکن کرکٹ کی مدد کی ہے اور ان کا رویہ بھی پاکستان کے ساتھ دوستانہ رہا ہے اس لیے وہ نہیں سمجھتے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ اپنی ٹیم کو نہ بھیجنے کے لیے کوئی بہانے بنا رہا ہے اور دورے کا شیڈول تبدیل کرنے کی جو وجہ انہوں نے بتائی وہ درست ہی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نہیں سمجھتے کہ سری لنکن کرکٹ بورڈ کسی بیرونی دباؤ کے سبب اپنی ٹیم پاکستان نہیں بھیج رہا انہوں نے خاص طور پر کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ ایسی کوئی کوشش نہیں کر سکتا اور ویسے بھی پاکستان اور انڈیا کے درمیان کشیدگی میں کچھ کمی ہوئی ہے اور 15 فروری تک یہ مزید کم ہو جائے گی اور سری لنکا کی ٹیم پاکستان کا دورہ ضرور کرے گی۔ لیفٹیننٹ جرنل توقیر ضیاء کے برعکس پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان سلیم ملک کا کہنا ہے کہ بھارت نے نہ تو اپنی ٹیم پاکستان بھیجی اور ان کی کوشش ہے کہ کوئی دوسری ٹیم بھی پاکستان نہ آئے لیکن سری لنکا کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ اگر ایشیا میں کرکٹ کو بچانا ہے تو اسے پاکستان ضرور آنا چاہیے۔ سلیم ملک نے کہا کہ ہم نے سری لنکا میں اس وقت کرکٹ کھیلی جب وہاں کرفیو لگا ہوا تھا اور کرفیو کے سبب میدان میں تماشائی نہیں تھے۔ پاکستان کی ٹیم کو دھمکیاں بھی دیں گئیں لیکن ہم نے پھر بھی وہاں کرکٹ کھیلی اس لیے سری لنکا کی ٹیم کو اس وقت پاکستان ضرور آنا چاہیے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ایک اور سابق چئرمین عارف عباسی کا کہنا تھا کہ پاکستان اور سری لنکن کرکٹ بورڈز کے کافی درینہ مراسم ہیں اس لیے وہ نہیں سمجھتے کہ سری لنکا کی ٹیم نہ آیے لیکن اس وقت ضرورت اس بات کی ہے کہ خط و کتابت کی بجائے پاکستان کرکٹ بورڈ کا کوئی آفیشل کولمبو جائے اور آمنے سامنے بیٹھ کر اس معاملے کو طے کرے۔ عارف عباسی نے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ’کاغذی شیر‘ قرار دیا اور کہا کہ وہ کرکٹ کھیلنے والے ممالک کے لیے ٹور پروگرام تو بنا دیتے ہیں لیکن اس پر عملدرآمد نہیں کروا سکتی۔ | اسی بارے میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی کی جگہ دو ون ڈے22 December, 2008 | کھیل عمرگل کو ویسٹرن آسٹریلیا سے آفر19 December, 2008 | کھیل بھارتی ٹیم کا پاک دورہ منسوخ18 December, 2008 | کھیل پاکستانی شائقینِ کرکٹ کی مایوسیاں19 December, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||