پاکستانی کرکٹ کپتان اور قمیض کا قصہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت میں بار بار ہونے والی تبدیلیوں پر سب سے دلچسپ تبصرہ سابق آسٹریلوی کپتان ایئن چیپل کا رہا ہے کہ کوئی شخص اتنی تیزی سے اپنی قمیضیں نہیں بدلتا جتنی تیزی سے پاکستانی کرکٹ ٹیم اپنے کپتان بدل دیتی ہے۔ ایک ایسی ہی تیز ترین تبدیلی شعیب ملک کی جگہ یونس خان کو کپتان بنائے جانے کی شکل میں سامنے آئی ہے۔ سری لنکا کے خلاف لاہور ون ڈے کی بدترین شکست کے باوجود پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین اعجاز بٹ نے شعیب ملک کی کپتانی کا بھرپور انداز میں دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایک ہار سے کپتان تبدیل نہیں کئے جاتے۔ لیکن پھر انہوں نے بھی کسی دوسری ہار کا انتظار مناسب نہ سمجھا۔ شعیب ملک کو ہمیشہ اس بات کا زعم رہا کہ وہ پاکستانی کرکٹ کے سب سے کامیاب کپتان ہیں لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ ون ڈے میں ان کی زیادہ تر کامیابیاں زمبابوے، بنگلہ دیش اور ہانگ کانگ جیسی ٹیموں کے خلاف رہیں۔ اگرچہ ان کی کپتانی میں پاکستانی ٹیم ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کا فائنل کھیلی اور بنگلہ دیش میں سہ فریقی ون ڈے سیریز جیتی لیکن ان کی قائدانہ صلاحیتیں اور فیلڈ میں فیصلے دیکھنے والوں کو متاثر نہ کرسکے۔ سلیکشن کے معاملات میں وہ سابق اور موجودہ دونوں سلیکٹرز سے الجھتے نظر آئے یہاں تک کہ ایسا لمحہ بھی آیا کہ کرکٹ بورڈ کے سابق چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کو اس معاملے میں مداخلت کرنی پڑی۔ موجودہ سلیکشن کمیٹی بھی ان سے خوش نہیں تھی لیکن وہ حتمی ٹیم کے انتخاب میں چیف سلیکٹر عبدالقادر کے نہ چاہتے ہوئے بھی اپنا مکمل اختیار حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئے اور سری لنکا کے خلاف ون ڈے سیریز کی حتمی ٹیم انہی کی پسندیدہ تھی۔ شعیب ملک سے ان کے بیشتر ساتھی کھلاڑیوں کو بھی شکایت رہی اور ان پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ وہ ایک ایک کر کے سینیئر کرکٹرز کو ٹیم سے باہر کرارہے ہیں۔ محمد یوسف نے اس سلسلے میں کھل کر انہیں تنقید کا نشانہ بنایا۔ بنگلہ دیش کے خلاف سہ فریقی سیریز کے موقع پر شاہد آفریدی نے بھی ان کے نامناسب رویے کا گلہ کیا تھا۔ سری لنکا کے خلاف کراچی کے ون ڈے کے بعد پریس کانفرنس میں شعیب ملک نے فاسٹ بولر شعیب اختر پر کڑی تنقید کی اور جب پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نے ان کی سرزنش کی تو وہ کیمرے کے سامنے کہے ہوئے اپنے لفظوں سے پھرگئے۔ تجزیہ نگاروں کا یہ کہنا ہے کہ چونکہ شعیب ملک نوجوان کپتان تھے اور وہ ایک ایسی ٹیم کے کپتان بنائے گئے جس میں ان سے زیادہ سینیئر کرکٹرز موجود تھے اور وہ سینیئر کھلاڑی شعیب ملک سے زیادہ اچھی کارکردگی بھی دکھا رہے تھے لہٰذا وہ عدم تحفظ کا شکار رہے۔
یونس خان کو کپتانی دیئے جانے پر سب سے بڑا اعتراض یہ سامنے آیا ہے کہ وہ جذباتی انسان ہیں اور جلد غصے میں آجاتے ہیں۔ معترضین نے یہ اعتراض بھی اٹھایا ہے کہ ماضی میں انہوں نے کپتان بننے کے بعد کپتانی سے انکار کیا جس کے بعد انہیں دوبارہ کپتان بنانے کی ضرورت نہیں تھی۔ تاہم مبصرین یونس خان کے دونوں انکار کو غلط نہیں سمجھتے کیونکہ دونوں مرتبہ ان کے خیال میں یونس خان کے پاس انکار کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہ تھا۔ سنہ 2006کی چیمپئنز ٹرافی کے لئے قیادت ملنے کے بعد اسے چھوڑنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ کچھ کھلاڑیوں کے رویئے سے خوش نہیں تھے اور جب وہ شہریار خان سے ملنے گئے تو انہیں وہاں انتظار کرنا پڑا جس پر وہ جذباتی ہوگئے اور انہوں نے پریس کانفرنس میں آتے ہی کپتانی چھؤرنے کا اعلان کرکے سب کو چونکا دیا تھا۔ بھارت کے دورے میں شعیب ملک کے ان فٹ ہونے کے بعد جب ان سے کپتانی کے لئے کہا گیا تو انکار کی وجہ یہ تھی کہ سلیکشن کے معاملے میں انہیں مکمل طور پر نظرانداز کردیا گیا تھا۔ وہ متبادل کھلاڑی کے طور پر فاسٹ بولر عبدالرؤف کو بھارت بلانا چاہتے تھے لیکن مینیجر طلعت علی اور پس پردہ رہ کر شعیب ملک کی خواہشات کے مطابق راؤ افتخار کو بھارت بھیجا گیا۔ سابق کپتان رمیز راجہ دوبارہ کپتان بنائے جانے کے بعد یونس خان میں غیرمعمولی تبدیلی کی توقع رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی میں وہ خاصے جذباتی نظر آئے ہیں لیکن انہیں امید ہے کہ وہ کپتان کے عہدے کی جو عزت ہوتی ہے اسے پیش نظر رکھتے ہوئے خود کو اچھا کپتان ثابت کریں گے۔ | اسی بارے میں یونس خان کرکٹ ٹیم کے نئے کپتان27 January, 2009 | کھیل ہمارے لیے ایک برا دن تھا: شعیب25 January, 2009 | کھیل لاہور:پاکستان کی بدترین شکست24 January, 2009 | کھیل شعیب اختر سے کپتان خوش نہیں22 January, 2009 | کھیل پاکستان کی ہار، سیریز برابر21 January, 2009 | کھیل کپتان، کوچ اور سیلکٹر کی طلبی21 January, 2009 | کھیل جیت کا سہرا بولرز کے سر20 January, 2009 | کھیل آصف کو دلی ہوائی اڈے پر روک لیاگیا 18 January, 2009 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||