سری لنکن ٹیم پاکستان پہنچ گئی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مہیلا جے وردھنے کی قیادت میں سری لنکا کی کرکٹ ٹیم اتوار کو پاکستان پہنچ گئی ہے۔ اس کا یہ دورہ بھارتی انکار کے بعد ترتیب دیا گیا ہے جس میں وہ پہلے مرحلے میں تین ون ڈے کھیلے گی اور وطن واپس چلی جائے گی۔ آئندہ ماہ سری لنکا کی ٹیم دو ٹیسٹ کھیلنے دوبارہ پاکستان آئے گی۔ پاکستان اور سری لنکا کے درمیان پہلے دو ون ڈے کراچی میں بیس اور اکیس جنوری کو کھیلے جائیں گے جبکہ تیسرا ون ڈے چوبیس جنوری کو لاہور میں ہوگا۔ سری لنکن کپتان مہیلا جے وردھنے نے آمد کے بعد پہلی پریس کانفرنس میں اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کے کھلاڑی اس دورے میں ٹیم کی حیثیت سے کھیلیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بنگلہ دیشی ٹیم نے انہیں یقینا مشکل سے دوچار کیا لیکن یہ کرکٹ کا حصہ ہے اور بنگلہ دیشی ٹیم ون ڈے کی اچھی ٹیم ہے۔ جے وردھنے نے کہا کہ ایشیا کپ سے قبل بھی ان کی ٹیم کو بھارت اور پاکستان کے ہوتے ہوئے فیورٹ قرار نہیں دیا گیا تھا لیکن ان کی ٹیم نے وہ ٹورنامنٹ عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جیتا۔ بھارتی انکار کے بعد سری لنکن ٹیم کے پاکستان آنے اور سکیورٹی خدشات کے بارے میں سوال پر مہیلا جے وردھنے کا کہنا تھا کہ وہ ڈپلومیٹ نہیں کہ کسی دوسری ٹیم کے بارے میں کوئی تبصرہ کرسکیں، جہاں تک سری لنکن ٹیم کا تعلق ہے تو پاکستان آنا ان کی ذمہ داری ہے کیونکہ ماضی میں پاکستانی ٹیم بھی سری لنکا کا دورہ مشکل حالات میں کرچکی ہے۔ مرلی دھرن اور اجانتھا مینڈس کے بارے میں سوال پر سری لنکن کپتان نے کہا کہ یقیناً یہ دونوں بہت ہی زبردست صلاحیتوں کے مالک ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی ٹیم میں دوسرے بولرز بھی اچھے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں بولرز کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہے اور یقیناً وہ اپنی عمدہ بولنگ کے سلسلے کو جاری رکھیں گے لیکن کبھی اچھے دن ہوتے ہیں اور کبھی نہیں ہوتے بحیثیت کپتان وہ ٹیم ورک پر یقین رکھتے ہیں۔ مہیلا جے وردھنے نے کہا کہ اجانتھا مینڈس پر کوئی اضافی پریشر نہیں ہے۔ وہ اپنے کرکٹ سے بھرپور لطف اٹھا رہا ہے، اسے انگریزی پر عبور نہیں، لہذا وہ دیگر کرکٹرز کی طرح میڈیا کو انٹرویو نہیں دے پاتا، اس کا وقت اپنے کمرے میں فلمیں دیکھنے میں گزرتا ہے اور وہ خوش ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ مینڈس پر پریشر نہیں ڈالنا چاہتے کیونکہ اسے پتہ ہے کہ کیا کرنا ہے۔ اس کی خوش قسمتی ہے کہ اسے مرلی دھرن کی شکل میں تجربہ کار ساتھی ملا ہے جو اسے مفید مشورے دیتے ہیں۔ انہیں امید ہے کہ آنے والے برسوں میں سری لنکا کے پاس ایک اور میچ ونر موجود ہے۔ سری لنکن کپتان نے بتایا کہ نوجوان بولرز کو موقع دینے کے لئے سلیکٹرز نے تجربہ کار فاسٹ بولر چمندا واس کو ون ڈے اسکواڈ سے ڈراپ کر رکھا ہے۔ کیا شعیب اختر سری لنکن ٹیم کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں؟ اس سوال پر جے وردھنے کا کہنا تھا کہ وہ کسی ایک کھلاڑی کا نام نہیں لے سکتے پوری پاکستانی ٹیم ہی ان کے لئے خطرہ ہوسکتی ہے، لہذا ہر ایک پر ان کی توجہ ہوگی۔ | اسی بارے میں ’سری لنکا کو پاکستان آنا چاہیے‘02 January, 2009 | کھیل سری لنکا کا دورہ،شیڈول جاری08 January, 2009 | کھیل سری لنکا کا دورہ اٹھارہ جنوری سے09 January, 2009 | کھیل پہلے میچ کے لیے ٹیم کا اعلان12 January, 2009 | کھیل میرپور ٹیسٹ میں سری لنکا فاتح31 December, 2008 | کھیل ’سیریز مشکل مگر دلچسپ ہو گی‘14 January, 2009 | کھیل ملتان کا ون ڈے میچ کراچی منتقل14 January, 2009 | کھیل سری لنکا، حکمت عملی تیار: انتخاب17 January, 2009 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||