کرکٹ سےکشیدگی کم ہوگی: کرکٹرز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کو خدشہ ہے کہ اگر پاکستان اور بھارت آپس میں نہیں کھیلیں گے تو اس سے سفید فام ٹیموں کو منفی پیغام ملے گا اور وہ اس خطے میں آنا چھوڑدیں گی۔ ممبئی میں دہشت گرد حملوں کے نتیجے میں پاک بھارت کرکٹ سیریز کو لاحق خطرے کے بارے میں بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انضمام الحق نے کہا کہ اس خطے میں بین الاقوامی کرکٹ کو جاری رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ پاکستان اور بھارت آپس میں کھیلیں۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر سفید فام ٹیمیں بھی یہاں آکر کھیلنے سے گریز کریں گی اور ان کے پاس یہ جواز موجود ہوگا کہ پاکستان اور بھارت ہی آپس میں نہیں کھیل رہے تو وہ کیوں ان کے ملکوں میں جاکر کھیلیں۔ انضمام الحق نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں پاک بھارت سیریز کا انعقاد بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اول تو یہ سیریز پاکستان میں ہونی چاہئے اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر نیوٹرل گراؤنڈ پر بھی یہ میچز ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرکٹ نہیں ہونی چاہئے وہ یہ جواب دیں کہ اگر کرکٹ کے نہ ہونے سے ہی دونوں ملکوں کے تعلقات اچھے ہوجاتے ہیں تو پھر یقیناً کرکٹ نہیں ہونی چاہئے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ انہوں نے کہا کہ انیس سو ننانوے میں پاکستانی کرکٹرز کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں تھیں لیکن اس کے باوجود پاکستانی ٹیم بھارت گئی تھی۔ لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جب بھی دونوں ٹیموں نے ایک دوسرے کے ملک کا دورہ کیا اسے عوام کی زبردست محبت ملی جو اس بات کا ثبوت ہے کہ کرکٹ نے انہیں دوستی کے مضبوط رشتے میں باندھ رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ مسئلے کا حل نہیں ہے۔ بات چیت کا راستہ چھوڑ کر بائیکاٹ کی راہ اپنانے سے معاملات سلجھنے کے بجائے مزید الجھ جائیں گے اور فاصلے ختم ہونے کے بجائے بڑھ جائیں گے۔ معین خان کا بھی خیال ہے کہ کرکٹ پاکستان اور بھارت کے درمیان پیدا ہونے والے فاصلے کو قربتوں میں تبدیل کرسکتی ہے۔ معین خان نے کہا کہ دونوں ملک اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہے ہیں لہٰذا انہیں کرکٹ کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لئے کچھ وقت چاہئے۔ لیکن آنے والے وقت میں کرکٹ ہی کے ذریعے فاصلوں کو قربتوں میں تبدیل کیا جاسکے گا کیونکہ ماضی میں دونوں ملکوں کے درمیان جب بھی تعلقات کشیدہ ہوئے کرکٹ نے انہیں بحال کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ معین خان نے کہا کہ کرکٹ سے دونوں ملکوں میں بے پناہ پیار کیا جاتا ہے اور دونوں ملکوں کے عوام باقاعدگی سے پاک بھارت کرکٹ مقابلے دیکھنا چاہتے ہیں، لہذا انہیں یقین ہے کہ اس مرتبہ بھی کرکٹ کے ذریعے حالات سدھارنے میں مدد ملے گی۔ معین خان1999ء میں بھارت کا دورہ کرنے والی اس ٹیم کے رکن تھے جسے بھارتی انتہا پسندوں نے سنگین دھمکیاں دی تھیں اور دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ گراؤنڈ کی پچ کھود دی گئی تھی۔ اس دورے کو یاد کرتے ہوئے معین خان کہتے ہیں کہ بھارتی کرکٹ بورڈ کی جانب سے سکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد پاکستانی ٹیم نے بھارت کا دورہ کیا تھا اور اب پاکستان کرکٹ بورڈ بھارتی ٹیم کو وی وی آئی پی سکیورٹی کی یقین دہانی کراچکا ہے، لہذا بھارتی ٹیم کو پاکستان آنا چاہئے۔ معین خان نے اس بات پر زور دیا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لئے اقدامات کی ضرورت ہے نہ کہ الزامات عائد کرکے سنسنی پھیلائی جائے۔ لاہور بادشاہ کی نمائندگی کرنے والے آل راؤنڈر رانا نوید الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ پاک بھارت تعلقات میں بہتری کرکٹ ہی کی وجہ سے آئی اور موجودہ صورتحال میں کرکٹ کے ذریعے ہی ان تعلقات کو دوبارہ معمول پر لایا جاسکتا ہے اور اس کے لئے ضروری ہے کہ بھارتی کرکٹ ٹیم پاکستان آکر کھیلے۔ |
اسی بارے میں ممبئی سے پاکستانی فنکار واپس04 December, 2008 | پاکستان پاکستانی فنکاروں کو دھمکی 05 December, 2008 | فن فنکار ’سرکارسے اجازت ملی تودورہ ہوگا‘18 November, 2008 | کھیل ’حکام ایک دوسرے کی مدد کریں‘30 November, 2008 | کھیل بھارتی ٹیم کا آنا ہی جواب ہے: اعجاز28 November, 2008 | کھیل ’بھارت میں کھیلنے کو تیار ہیں‘27 November, 2008 | کھیل بھارتی دورہ، گیلانی کی یقین دہانی20 November, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||