BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 30 November, 2008, 04:16 GMT 09:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’حکام ایک دوسرے کی مدد کریں‘

سہیل تنویر انڈین پریمئیر لیگ راجستھان رائلز کی نمائندگی کرتے ہیں
بھارت کے شہر ممبئی سے سنیچر کو پاکستان واپس پہنچنے والے پاکستان کے وکٹ کیپر کامران اکمل کہتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے کرکٹ حکام کو ان حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔

انہی کے ساتھ ہی آِئے فاسٹ بالر سہیل تنویر کا کہنا ہے کہ اس دہشت گردی کے واقعے کے بعد بھارت کی کرکٹ ٹیم کا پاکستان آنا مزید مشکل ہو گیا ہے۔

یہ دونوں 26 نومبر کو ہی پہلے چمپئنز لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ میں راجستھان رائلز کی ٹیم کی جانب سے شرکت کرنےکے لیے پاکستان سے بھارت کے شہر ممبئی پہنچے تھے اور رات کو جب تاج ہوٹل اور اوبرائے ہوٹل پر دہشت گردوں نے قبضہ کیا تو یہ دونوں کچھ فاصلے پر واقع ایک ریستوران میں رات کا کھانا کھا رہے تھے۔

ان دونوں کا کہنا تھا کہ انہیں فوری طور پر ان کی ٹیم مینجمنٹ نے فون پر اس واقعے کی اطلاع دی اور اپنے ہوٹل پہنچنے کے لیے کہا۔

کامران امل کے بقول جس ہوٹل میں وہ ٹھہرے تھے اس کا نام بھی تاج ہوٹل ہی تھا لیکن وہ تاج نہیں جس پر دہشت گرد قابض تھے۔

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ جب ہوٹل پہنچ کر انہیں اس واقعے کی تفصیلات معلوم ہوئیں تو وہ بہت پریشان ہوئے۔

سہیل تنویر کے بقول بھی ان کے لیے یہ تمام صورتحال کافی تکلیف دہ تھی اور پاکستان میں ان کے خاندان کے لوگ بھی بے حد پریشان تھے۔

سہیل تنویر کا کہنا تھا کہ جب اس واقعے کو ایک رات اور اگلا دن بھی گزر گیا اور ٹی وی پر آنے والی خبروں سے ہماری پریشانی شدید ہوتی گئی۔ سہیل تنویر کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے واقعات کے سبب ہماری کرکٹ پہلے ہی کافی متاثر ہو رہی ہے اور ایک پیشہ ور کھلاڑی کہ جس کے پیشے کو ان واقعات سے براہ راست نقصان ہو رہا ہوتا ہے وہ تو پہلی بات ہی یہ سوچے گا کہ اب کرکٹ کا کیا ہو گا۔

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ چمپئنز لیگ کے ملتوی ہونے کا تو ہمیں پہلے دن ہی یقین تھا کیونکہ تمام ٹیمیں جو دوسرے ممالک سے آرہی تھیں راستے سے ہی مڑ گئیں جبکہ ہماری ٹیم کے کپتان شین وارن بھی راستے ہی سے واپس چلے گئے۔

کامران اکمل نے کہا کہ پاکستان کی کرکٹ کو تو پہلے بھی ایسے حالات کا سامنا تھا اور اب بھارتی کرکٹ بھی دہشت گردی سے براہ راست متاثر ہوئی ہے لیکن ان حالات میں ضرورت ہے کہ دونوں ملکوں کے کرکٹ حکام ایک دوسرے کی مدد اور تعاون کریں۔

کامران اکمل کا کہنا تھا کہ اگر چمپئنز لیگ ملتوی نہ ہوتی تو ہم ضرور کھیلتے بلکہ اگر انگلینڈ کی بجائے اس وقت بھارت میں پاکستان کی ٹیم سیریز کھیل رہی ہوتی تو کبھی دورہ ادھورا چھوڑ کر نہ آتی۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت دونوں ملکوں کی کرکٹ ٹیموں کو ایک دوسرے کے ملک میں کرکٹ کھیلنے جانا چاہیے اور جب ایسا ہو گا تو دوسری ٹیمیں بھی آنے کو تیار ہو جائیں گی۔

سہیل تنویر کے خیال میں کرکٹ کو جاری رہنا چاہیے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ذرائع ابلاغ میں اس واقعے کے بعد جو خبریں آئیں اور جس طرح بھارتی حکومت نے پاکستان کی طرف انگلی اٹھائی ہے تو ان کے خیال میں بھارتی ٹیم کا پاکستان آنا اب بہت ہی مشکل ہو گیا ہے۔

ان دونوں کھلاڑیوں نے دہشت گردی کی شدید الفاظ میں مذمت کی کہا کہ دہشت گردی کے ان بڑھتے ہوئے واقعات بہت ہی پریشان کن ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد