BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 28 November, 2008, 14:04 GMT 19:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بھارتی ٹیم کا آنا ہی جواب ہے: اعجاز

اعجاز بٹ
اعجاز بٹ نے ممبئی دہشت گردی کے بعد تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر اپنا بھارتی دورہ بھی منسوخ کردیا ہے
پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین اعجاز بٹ کا کہنا ہے کہ آئندہ جنوری میں بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورۂ پاکستان کا انحصار اب دونوں حکومتوں پر ہے تاہم ان کا کہنا تھا کہ بھارتی ٹیم کا پاکستان آنا ہی دہشت گردوں کو موثر جواب ہوگا ۔

اعجاز بٹ نے ممبئی دہشت گردی کے بعد تازہ ترین صورتحال کے پیش نظر اپنا بھارتی دورہ بھی منسوخ کردیا ہے۔ اس دورے میں وہ اپنے بھارتی ہم منصب ششانک منوہر سے ملاقات کرنے والے تھے۔ اب دونوں کی ملاقات ایشین کرکٹ کونسل کے اجلاس کے موقع پر کولمبو میں ہوگی۔

اعجاز بٹ نے جمعہ کو کراچی میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے غیررسمی گفتگو کرتے ہوئے تسلیم کیا کہ ممبئی کی دہشت گردی کے نتیجے میں صورتحال بدل چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کے دورہ پاکستان کا انحصار اب دونوں حکومتوں پر ہے کہ وہ اس ضمن میں کیا فیصلے کرتی ہیں۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ وہ بھارتی کرکٹ بورڈ اور بھارتی ہائی کمشنر سے بات چیت کر رہے تھے تو امید لگ رہی تھی کہ بھارتی ٹیم پاکستان آئے گی لیکن ممبئی کے واقعات کے بعد انہیں نہیں معلوم کہ اب کیا ہوگا۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چئرمین نے کہا کہ بھارتی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں سکیورٹی کی ہرممکن یقین دہانی کرائی جاچکی ہے اور وہ چاہیں گے کہ بھارتی ٹیم پاکستان آئے کیونکہ اس کا آنا دہشت گردوں کو موثر جواب ہوگا۔

اعجاز بٹ نے کہا کہ نیوٹرل گراؤنڈز پر کھیلنے کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ کی پالیسی واضح ہے۔

پاکستانی کرکٹرز پورے سال ٹیسٹ کرکٹ نہیں کھیلے انہیں کرکٹ فراہم کرنی ہے اگر بھارتی ٹیم پاکستان نہیں آتی تو پھر نیوٹرل گراؤنڈز پر کھیلنے کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ماضی میں نیوٹرل گراؤنڈز پر کھیلنے کا تجربہ کامیاب نہیں رہا اور پی سی بی کو بھاری نقصان برداشت کرنا پڑا تھا۔

پی سی بی کے چئرمین نے کہا کہ پورے سال پاکستانی کرکٹرز کو ایک بھی ٹیسٹ کھیلنے کو نہیں ملا۔

ویسٹ انڈیز سے ابوظہبی میں دو ٹیسٹ کی بات چیت ہوئی لیکن ویسٹ انڈیز نے اس کے لیے بہت زیادہ رقم طلب کی۔

انہوں نے کہا کہ زمبابوے اور بنگلہ دیش جیسی ٹیموں سے کھیل کر آپ کی کرکٹ میں بہتری نہیں آسکتی اس کے لیے ضروری ہے کہ آپ آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت جیسی ٹیموں سے کھیلیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد