BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 27 November, 2008, 14:11 GMT 19:11 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بھارت میں کھیلنے کو تیار ہیں‘

شعیب ملک
ان حالات میں ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کرے
پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک اور پی سی بی کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کا کہنا ہے کہ دہشت گردی کے واقعات کے باوجود کرکٹ کھیلی جانی چاہیے۔

بی بی سی اردو سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے شعیب ملک کا کہنا ہے کہ پاکستانی ٹیم ممبئی حملوں کے باوجود بھارت میں کھیلنے کو تیار ہیں۔

اس بات کا اظہار انہوں نے بھارت میں تین دسمبر کو ہونے والا ٹوئنٹی ٹوئنٹی چمپیئنز لیگ کرکٹ ٹورنامنٹ ملتوی ہونے سے پہلے کیا ہے۔

شعیب ملک جو اس ٹورنامنٹ میں شرکت کرنے والی پاکستان کی چمپیئن ٹیم سیالکوٹ سٹالین کے کپتان بھی ہیں کا کہنا ہے کہ ان حالات میں ضروری ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کی مدد کریں۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس وقت بھارتی کرکٹ کو لاحق صورتحال کو سمجھ سکتے ہیں کیونکہ پاکستان کی کرکٹ کو بھی دہشت گردی کے ان واقعات سے نقصان پہنچ رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں بھارتی کرکٹ بورڈ کو یقین دہانی کروانی چاہیے کہ وہ ان حالات میں بھی ان کے ملک جانے کو تیار ہیں۔

شعیب ملک کے بقول کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جو ان پریشان کن حالات میں دونوں ملکوں کے عوام کی پریشانی کو کم کر سکتا ہے اور اس لیے ان برے واقعات کے باوجود کرکٹ ہوتی رہنی چاہیے۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیف آپریٹنگ آفیسر سلیم الطاف کے خیالات بھی شعیب ملک کی طرح تھے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے دو کھلاڑی کامران اکمل اور سہیل تنویراس وقت بھارت میں ہیں اور ہمیں علم ہو چکا ہے کہ وہ خیریت سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ان دونوں کھلاڑیوں کو واپس نہیں بلا رہے ہیں۔

سلیم الطاف کا کہنا تھا کہ اس قسم کی دہشت گردی کی کارروائیوں سے کرکٹ کی سرگرمیاں متاثر نہیں ہونی چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کی جانب سے یہ بھارتی کرکٹ بورڈ کو ایک پیغام بھی ہے کہ ان حالات میں وہ ان کے ساتھ ہیں۔

سلیم الطاف نے کہا کہ کرکٹ ہوتی رہنی چاہیے جس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ ہم دہشت گردوں کو یہ باور کرائیں کہ ان کی کارروائیوں سے کرکٹ سرگرمیوں کو نہیں روکا جائے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد