بیجنگ سے خالی ہاتھ واپسی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ اولمپکس میں پاکستان ان ایک سو سترہ ممالک میں شامل رہا جو ایک بھی تمغہ نہ جیت سکے۔ پاکستان نے بیجنگ اولمپکس کے چار کھیلوں میں حصہ لیا جن میں ہاکی، ایتھلیٹکس، شوٹنگ اور تیراکی شامل ہیں اور کسی بھی کھیل میں ایسی کارکردگی سامنے نہیں آئی جس سے اولمپکس میں شرکت کا حق ہی ادا ہوسکتا۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر سے لے کر چیف سلیکٹر اور ٹیم منیجمنٹ تک سب نے بیجنگ اولمپکس سے قبل پاکستانی ہاکی ٹیم کی کامیابی کو یقینی قرار دیا تھا۔ چیف کوچ ذکاء الدین نے کہا تھا کہ پاکستانی ٹیم ساٹھ اور ستر کی دہائی کی اپنی روایتی ہاکی کھیل کر دنیا کو حیران کردے گی۔ پی ایچ ایف کے صدر میرظفراللہ جمالی اور چیف سلیکٹر اصلاح الدین اس ٹیم کو وکٹری اسٹینڈ کی ٹیم قرار دینے پر مصر تھے۔
پاکستانی ہاکی ٹیم پہلا میچ برطانیہ سے ہار گئی۔ آسٹریلیا اور ہالینڈ کے ہاتھوں شکست نے اسے سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔ نیوزی لینڈ نے بھی اسے ہرا کر آٹھویں پوزیشن پر پہنچا دیا جو اولمپکس کی تاریخ میں اس کی بدترین کارکردگی ہے۔ جنوبی افریقہ اور کینیڈا جیسی بی گریڈ ٹیموں کے خلاف محض دو گول کے معمولی فرق سے کامیابی نے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔ ایتھنز اولمپکس سے بیجنگ اولمپکس تک ان چار برسوں میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ چار چیمپئنز ٹرافی مقابلوں میں تیسرے، پانچویں، پانچویں اور ساتویں نمبر پر رہی۔ 2006 کے ورلڈ کپ میں اس کی پوزیشن چھٹی رہی۔گزشتہ سال کے ایشیا کپ میں اس کا نمبر چھٹا رہا جبکہ 2006 کی ایشین گیمز میں چین کے ہاتھوں شکست کے بعد وہ تیسرے نمبر پر آئی تھی۔
تیراکی میں پاکستان کی کرن خان نے پچاس میٹر فری سٹائل میں اپنا ریکارڈ بہتر بنایا۔ ان کا وقت جو پہلے93ء30 سیکنڈ تھا اب بہتر ہوکر84ء29 سیکنڈ ہوگیا لیکن وہ آٹھ تیراکوں میں چھٹے نمبر پر آئیں۔ کرن خان کے ساتھی عادل بیگ پچاس میٹر فری سٹائل میں آٹھ تیراکوں میں ساتویں نمبر پر آئے۔ ایتھلیٹکس میں پاکستان کے مرد ایتھلیٹ عبدالرشید کی کارکردگی سب سے بری رہی جنہوں نے تین سال قبل مکہ میں منعقدہ اسلامک گیمز میں ایک سو دس میٹر کی رکاوٹوں کی دوڑ 18ء14 سیکنڈوں میں مکمل کی لیکن بیجنگ اولمپکس میں ان کا وقت 52ء14 سیکنڈ رہا۔ خاتون ایتھلیٹ صدف صدیقی کی دوڑ سو میٹر کے پہلے ہی راؤنڈ میں شروع ہوکر وہیں ختم ہوگئی۔ انہوں نے مقررہ فاصلہ41ء12 سیکنڈ میں طے کر کے آٹھ ایتھلیٹس میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔ لندن اولمپکس میں ابھی چار سال ہیں۔ دوسرے ممالک ان چار برسوں کو اپنی تیاری کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں لیکن اگر پاکستان نے اس وقت کو غنیمت نہ جانا تو لندن اولمپکس بھی بیجنگ کی طرح ہی ثابت ہونگے۔ |
اسی بارے میں بیجنگ اولمپکس کا شاندار اختتام24 August, 2008 | کھیل اولمپکس میڈل ٹیبل14 August, 2008 | کھیل اولمپک میں انڈیا کا تیسرا تمغہ 20 August, 2008 | کھیل پاکستان،اولمپک باکسنگ ناک آؤٹ08 August, 2008 | کھیل پاکستانی ہاکی ٹیم ایک اور ناکامی15 August, 2008 | کھیل اولمپکس میں پاکستان کا سفر09 August, 2008 | کھیل اولمپکس:بھارتی کارکردگی کی تاریخ08 August, 2008 | کھیل اولمپک میں افغانستان کا خواب07 August, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||