BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 25 August, 2008, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیجنگ سے خالی ہاتھ واپسی

ہاکی میچ
پاکستان کی ہاکی میں آٹھویں پوزیشن
بیجنگ اولمپکس میں پاکستان ان ایک سو سترہ ممالک میں شامل رہا جو ایک بھی تمغہ نہ جیت سکے۔

پاکستان نے بیجنگ اولمپکس کے چار کھیلوں میں حصہ لیا جن میں ہاکی، ایتھلیٹکس، شوٹنگ اور تیراکی شامل ہیں اور کسی بھی کھیل میں ایسی کارکردگی سامنے نہیں آئی جس سے اولمپکس میں شرکت کا حق ہی ادا ہوسکتا۔

پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر سے لے کر چیف سلیکٹر اور ٹیم منیجمنٹ تک سب نے بیجنگ اولمپکس سے قبل پاکستانی ہاکی ٹیم کی کامیابی کو یقینی قرار دیا تھا۔ چیف کوچ ذکاء الدین نے کہا تھا کہ پاکستانی ٹیم ساٹھ اور ستر کی دہائی کی اپنی روایتی ہاکی کھیل کر دنیا کو حیران کردے گی۔ پی ایچ ایف کے صدر میرظفراللہ جمالی اور چیف سلیکٹر اصلاح الدین اس ٹیم کو وکٹری اسٹینڈ کی ٹیم قرار دینے پر مصر تھے۔

تیراکی کے مقابلے
 تیراکی میں پاکستان کی کرن خان نے پچاس میٹر فری سٹائل میں اپنا ریکارڈ بہتر بنایا۔ ان کا وقت جو پہلے93ء30 سیکنڈ تھا اب بہتر ہوکر84ء29 سیکنڈ ہوگیا لیکن وہ آٹھ تیراکوں میں چھٹے نمبر پر آئیں۔ کرن خان کے ساتھی عادل بیگ پچاس میٹر فری سٹائل میں آٹھ تیراکوں میں ساتویں نمبر پر آئے

پاکستانی ہاکی ٹیم پہلا میچ برطانیہ سے ہار گئی۔ آسٹریلیا اور ہالینڈ کے ہاتھوں شکست نے اسے سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر کر دیا۔ نیوزی لینڈ نے بھی اسے ہرا کر آٹھویں پوزیشن پر پہنچا دیا جو اولمپکس کی تاریخ میں اس کی بدترین کارکردگی ہے۔

جنوبی افریقہ اور کینیڈا جیسی بی گریڈ ٹیموں کے خلاف محض دو گول کے معمولی فرق سے کامیابی نے تمام دعوؤں کی قلعی کھول دی۔

ایتھنز اولمپکس سے بیجنگ اولمپکس تک ان چار برسوں میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی مایوس کن کارکردگی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ چار چیمپئنز ٹرافی مقابلوں میں تیسرے، پانچویں، پانچویں اور ساتویں نمبر پر رہی۔

2006 کے ورلڈ کپ میں اس کی پوزیشن چھٹی رہی۔گزشتہ سال کے ایشیا کپ میں اس کا نمبر چھٹا رہا جبکہ 2006 کی ایشین گیمز میں چین کے ہاتھوں شکست کے بعد وہ تیسرے نمبر پر آئی تھی۔

ایتھلیٹ عبدالرشید
ہاکی کے علاوہ بقیہ تین کھیلوں میں پاکستان کی اولمپکس میں شرکت وائلڈ کارڈ کی مرہون منت تھی۔ شوٹنگ میں پاکستان آرمی سے تعلق رکھنے والے شوٹر صدیق عمر نے دو ایونٹس میں حصہ لیا۔ دس میٹر ائر رائفل میں وہ51 میں سے48 ویں نمبر پر آئے۔ پچاس میٹرز رائفل میں شریک49 شوٹروں میں صدیق عمر کی پوزیشن سب سے آخری رہی۔

تیراکی میں پاکستان کی کرن خان نے پچاس میٹر فری سٹائل میں اپنا ریکارڈ بہتر بنایا۔ ان کا وقت جو پہلے93ء30 سیکنڈ تھا اب بہتر ہوکر84ء29 سیکنڈ ہوگیا لیکن وہ آٹھ تیراکوں میں چھٹے نمبر پر آئیں۔ کرن خان کے ساتھی عادل بیگ پچاس میٹر فری سٹائل میں آٹھ تیراکوں میں ساتویں نمبر پر آئے۔

ایتھلیٹکس میں پاکستان کے مرد ایتھلیٹ عبدالرشید کی کارکردگی سب سے بری رہی جنہوں نے تین سال قبل مکہ میں منعقدہ اسلامک گیمز میں ایک سو دس میٹر کی رکاوٹوں کی دوڑ 18ء14 سیکنڈوں میں مکمل کی لیکن بیجنگ اولمپکس میں ان کا وقت 52ء14 سیکنڈ رہا۔

خاتون ایتھلیٹ صدف صدیقی کی دوڑ سو میٹر کے پہلے ہی راؤنڈ میں شروع ہوکر وہیں ختم ہوگئی۔ انہوں نے مقررہ فاصلہ41ء12 سیکنڈ میں طے کر کے آٹھ ایتھلیٹس میں ساتویں پوزیشن حاصل کی۔

لندن اولمپکس میں ابھی چار سال ہیں۔ دوسرے ممالک ان چار برسوں کو اپنی تیاری کے لئے بھرپور انداز میں استعمال کرنے کے لئے سنجیدہ ہیں لیکن اگر پاکستان نے اس وقت کو غنیمت نہ جانا تو لندن اولمپکس بھی بیجنگ کی طرح ہی ثابت ہونگے۔

پاکستان کے اولمپکس
چودہ اولمپکس مقابلوں میں صرف دس تمغے
پاکستان ’ناک آؤٹ‘
پہلی بار پاکستانی باکسر اولمپکس سے باہر
محمد ثقلینثقلین کا خواب
آٹھ سال کے انتظار کے بعد بیجنگ اولمپکس میں
اسی بارے میں
اولمپکس میڈل ٹیبل
14 August, 2008 | کھیل
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد