BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 07 August, 2008, 07:33 GMT 12:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اولمپک میں افغانستان کا خواب

نثار احمد
نثار احمد نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر اولمپک میں جگہ پائی ہے نہ کہ وائلڈ کارڈ اینٹری کی بنیاد پر۔
بیجنگ اولمپکس شروع ہونے میں ایک دن باقی ہے اور پوری دنیا کے ممالک کی یہ کوشش رہے گی وہ بہترین کھیل کا مظاہرہ کریں اور میڈل کے بنا وطن واپسی نہ کریں۔

ایسا ہی ایک ملک افغانستان ہے جس نے اولمپک میں آج تک کوئی میڈل نہیں جیتا ہے لیکن اس کے مارشل آرٹ میں تائیکوانڈو بلیک بیلٹ چیمپئن نثار احمد باہاوے پوری تیاری کے ساتھ بیجنگ گئے ہیں اور انہیں امید ہے کہ وہ اولمپک میں میڈل جیتیں گے۔

23 سالہ نثار احمد نے بیجنگ کا سفر طے کرنے سے پہلے کابل میں تائیکوانڈو جم میں زبردست مشق کی ہے۔ نثار کا شمار دنیا کے بہترین تائیکوانڈو مارشل آرٹ چیمپئن کے طور پر ہوتا ہے اور بیجنگ میں انہوں نے اپنی صلاحیت کی بنیاد پر داخلہ پایا ہے نہ کہ وائلڈ کارڈ انٹری بنیاد پر۔

افغانستان کو نثار سے بہت امیدیں ہیں۔ نثار نے گزشتہ برس مارشل آرٹ کی عالمی چیمپئن شپ میں چاندی کا میڈل جیتا تھا اور انہیں امید ہے کہ وہ بیجنگ سے خالی ہاتھ نہیں واپس آئیں گے۔

امید
 ہم بیجنگ میں میڈل جیت کر دنیا کے سامنے اپنا پرچم لہرانا چاہتے ہیں۔
نثار احمد باہاوے

نثار کا کہنا ہے کہ ’ہمارے لیے بیجنگ میں میڈل جیتنا اس لیے بہت ضروری ہے کیونکہ افغانستان نے آج تک اولمپک میں کوئی میڈل نہیں جیتا ہے‘۔ ان کا مزید کہنا ہے ’ ہم بیجنگ میں میڈل جیت کر دنیا کے سامنے اپنا پرچم لہرانا چاہتے ہیں‘۔

تائیکوانڈو کوریا کی ایک مارشل آرٹ ہے جسے 1972 میں امریکہ کے مارشل آرٹ کے ماہر افغانستان لائے تھے۔ افغان اولمپک کمیٹی نے نثار احمد کو بیجنگ اولمپکس کی ٹریننگ کے لیے جنوبی کوریا بھیجا تھا اور وہاں سے ان کے لیے ایک نئے کوچ کو بھی بلایا گیا تھا۔

افغانستان میں تائیکوانڈو مارشل آرٹ سب سے مقبول ترین کھیل ہے اور یہاں اس کے 700 کلب ہیں اور 25000 سے زیادہ کھلاڑی اس کھیل میں حصہ لیتے ہیں۔

مدد
 اولمپکس میں میڈل جیتنے سے ملک کو متحد ہونے میں مدد ہوگی۔ لوگ متحد ہونگیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی قبائل یا نسلی گروپ سے ہو۔
محمد انور جیکڈیلیک

افغانستان نیشنل اولمپک کمیٹی کے صدر محمد انور ایک پہلوان تھے جو 1980 کے اولمپک میں حصہ لینے والے تھے لیکن افغانستان میں روسی حملے کے بعد وہ چودہ برس کے لیے بطور مجاہد جنگ لڑنے چلے گئے تھے۔

ان کا کہنا ہے ’اولمپکس میں میڈل جیتنے سے ملک کو متحد ہونے میں مدد ہوگی۔ لوگ متحد ہونگیں چاہے ان کا تعلق کسی بھی قبائل یا نسلی گروپ سے ہو‘۔ ان کا مزید کہنا ہے میڈل جیتنے سے نئی نسل میں کھیل کا جزبہ پیدا ہوگا۔

نثار احمد نے بینجنگ اولمپکس کے لیے زبردست محنت کی ہے اور ان کا میڈل جیتنا افغانستان کو اولمپک کے نقشے پر لا کھڑا کرے گا۔

بیجنگبیجنگ اولمپکس
سخت ٹریفک قوانین نافذ کیے جا رہے ہیں
بیجنگ ہوائی اڈہبیجنگ ٹرمینل تھری
’بیجنگ ہوائی اڈے کی عمارت سب سے بڑی‘
افغان کرکٹ ٹیمامریکہ کی سرزمین پر
افغان کرکٹ ٹیم کا امریکہ میں ٹورنامنٹ
’وہ وقت دُور نہیں‘
افغانستان میں کرکٹ کا بڑھتا ہوا جوش
اللہ داد نوریکرکٹ کے شوق میں
افغان کھلاڑی راشد لطیف کی شاگردی میں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد