BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغان کرکٹرز، پاکستان میں

کرکٹ
زیر تربیت افغان ٹیم

کراچی کے ایک سپورٹس کمپلیکس میں چند نوجوانوں کو پاکستانی کرکٹ ٹیم کے معطل کپتان راشد لطیف ہر صبح مسلسل کئی گھنٹے کڑی تربیت کے مراحل سے گزاررہے ہیں۔

بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ سینکڑوں میل کا فاصلہ بس کے ذریعے طے کرکے یہاں پہنچنے والے یہ نوجوان دراصل افغانستان کے کرکٹرز ہیں۔

لگ بھگ ایک ہفتہ قبل یہ کھلاڑی ایک بس میں سوار ہوکر کابل سے پشاور پہنچے تھے۔ پشاور سے وہ دوسری بس میں سوار ہوئے جس نے انہیں تقریباً چوبیس گھنٹوں کے بعد کراچی پہنچادیا۔

ان کرکٹرز کو پاکستان آنا اور یہاں پاکستانی ٹیم کے کپتان راشد لطیف سے تربیت حاصل کرنا ایک خواب جیسا لگتا ہے۔

اس ٹیم کے نو عمر منیجر نے بتایا کہ ’ یہ محض اتفاق ہے کہ ہم آج یہاں پریکٹس کررہے ہیں۔ میں نے تو ایک دن انٹرنیٹ پر راشد لطیف کرکٹ اکیڈمی کی ویب سائٹ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی۔ یہ ویب سائٹ مل گئی تو میں نے راشد لطیف کے نام ایک ای میل بھیجی جس میں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ وہ افغانستان کے نو عمر کرکٹرز کی تربیت کے لئے تعاون کریں۔ اگلے ہی روز ہمیں جواب موصول ہوگیا۔‘

اللہ داد نوری
اللہ داد نوری نے افغانستان میں کرکٹ کا باقاعدہ آغاز کیا

لیکن کرکٹ افغانستان تک کیسے جاپہنچی؟ پاکستان آنے والے ان افغان کرکٹرز کے وفد کے سربراہ نے بتایا کہ یہ تحفہ ہمیں پاکستان سے ملا ہے۔ لاکھوں افغان پناہ گزین بیس سال تک پاکستان میں مقیم رہے ہیں۔ رفتہ رفتہ انہیں کرکٹ میں دلچسپی پیدا ہوگئی۔ اب صورتِ حال یہ ہے کہ فٹ بال کے بعد کرکٹ ہی افغانستان کا سب سے مقبول کھیل ہے۔

افغانستان میں کابل، خوست، پنج شیر، قندھار، مزار شریف اور جوزجان سمیت سولہ صوبوں میں کرکٹ کھیلی جارہی ہے۔ جلال آباد میں تو جب ٹینس بال سے ہر تعطیل کے دن کرکٹ میچ کھیلا جاتا ہے تو اسے دیکھنے کے لئے دس ہزار سے زیادہ پر جوش تماشائی جمع ہوجاتے ہیں۔

ٹیم منیجر عبدالخلیل بیگ، افغانستان کرکٹ فیڈریشن کے جنرل مینیجر بھی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’افغانستان میں انتہائی باصلاحیت کرکٹرز موجود ہیں۔ دو تین تیز بالر تو ایسے ہیں کہ ان کی بالنگ کی رفتار، شعیب اختر کی رفتار کے آس پاس ہی ہوگی۔ لیکن ان بالرز کو چند برس کی خصوصی تربیت اور کوچنگ کے ذریعے ہی عالمی سطح کا فاسٹ بالر بنایا جاسکتا ہے‘۔

افغانستان میں کرکٹ
عبدالصبور عزیزی
ٹیم کے ایک رکن عبدالصبور عزیزی
افغانستان میں کابل، خوست، پنج شیر، قندھار، مزار شریف اور جوزجان سمیت سولہ صوبوں میں کرکٹ کھیلی جارہی ہے۔

ٹیم کے منیجر نے کہا ہے کہ ’ اقبال سکندر نے کابل میں ہمارے لڑکوں کا کھیل دیکھنے کے بعد کہا تھا کہ آپ لوگ اس ہیرے کی طرح ہیں جسے پالش کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بھی یقین ہے کہ اگر ہمیں سہولتیں مل گئیں تو ہم بین الاقوامی کرکٹ میں اپنی صلاحیتوں کو ثابت کردکھائیں گے‘۔

بین الاقوامی کرکٹ فیڈریشن (آئی سی سی) ، اے سی سی اور پاکستان کرکٹ بورڈ اب مل جل کر افغانستان کے کرکٹرز کو ہر طرح کی سہولتیں فراہم کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔

افغانستان میں کرکٹ کی بنیاد ڈالنے والے کھلاڑی اللہ داد نوری نے، جو ٹیم کے ساتھ آئے ہوئے ہیں، افغانستان میں کرکٹ کو فروغ دینے کےلئےکئے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ’ پاکستان کرکٹ بورڈ نے ہمیں ہر طرح کا سامان فراہم کیا ہے۔ ایشین کرکٹ کونسل نے بھی اب سامان کے لئے رقم منظور کی ہے اور ساتھ ہی ہمیں تربیتی کورسز، ایمائرنگ، کوچنگ، گراؤنڈ کیوریٹرز، ہر شعبے میں مدد فراہم کررہی ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد