افغانستان میں کرکٹ، مقبول تر کھیل | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کابل کے غازی سٹیڈیم میں کہ جہاں طالبان لوگوں کو سزائے موت دیا کرتے تھے، آج افغانستان کے نوجوان کرکٹر زمین کے ایک خراب و خستہ دھول اڑاتے ٹکڑے پر کرکٹ کھیلتے ہیں۔ یہاں وہ کنکریٹ کی بنی ہوئی پچ پر اگلے عالمی کرکٹ کپ میں بطور ایک ٹیم کے جگہ حاصل کرنے کے لیے مشق کر رہے ہیں۔ جنوبی افریقہ میں ہونے والا اگلا ورلڈ کپ لگ بھگ ابھی چار سال دور ہے۔ طالبان کے زوال کے چھ سال بعد جب بین الاقوامی کرکٹ کونسل آئی سی سی نے افغانستان کو ایک کرکٹ رکن کے طور پر قبول کر لیا، تب سے افغانستان کے یہ نوجوان کرکٹر طرح طرح کے نامساعد حالات میں کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں۔ اب ایک موبائل ٹیلیفون کمپنی اور ایک بین الاقوامی بینک نے کرکٹ کے کھیل کے لیے کچھ رقم صرف کی ہے۔ اور ہر سال ایشیائی کرکٹ کونسل افغانستان میں کرکٹ کے فروغ کے لیے پچاس ہزار ڈالر دیتی ہے۔
لیکن افغانستان کی حکومت اپنے کرکٹرز کو ماہانہ ’تنخواہ‘ آٹھ سو افغانی دیتی ہے جو سولہ ڈالر بنتے ہیں۔ اگر وہ بین الاقوامی دورے پر ہوں تو انہیں ہر روز پچیس ڈالر ملتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہوتا یہ ہے کہ کئی لڑکوں کو کرکٹ شروع کرنے کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس کھیل سے دال روٹی چلانا کافی مشکل ہے۔ افغانستان ٹیم کے کوچ تاج مالک کہتے ہیں کہ رقم کی عدم دستیابی کے باعث کئی لڑکے کرکٹ چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔ ’لیکن پھر بھی لڑکوں کو جوش و جذبہ کم نہیں پڑا۔‘ افغانستان کے چونتیس صوبوں میں سے اٹھائیس صوبوں میں کرکٹ کھیلی جا رہی ہے۔ طالبان کے دور میں صرف چار صوبوں میں کرکٹ کھیلی جاتی تھی۔ مختلف سطحوں پر بارہ ہزار کے قریب رجسٹرڈ کرکٹرز ہیں۔
افغانستان کی قومی ٹیم نے مختلف عالمی مقابلوں میں شرکت کی ہے اور ان کا کارکردگی بری بھی نہیں رہی۔ مشرقِ وسطیٰ کپ میں وہ دوسرے نمبر پر رہے اور گزشتہ برس انگلینڈ کے دورے میں انہوں نے برطانیہ کی سیکنڈ ڈویژن کی چھ ٹیموں کو شکست دی۔ دبئی میں سنہ دو ہزار پانچ میں ہونے والے ایشیا کپ میں افغانستان کی پندرہ برس سے کم عمر کے کھلاڑیوں کی ٹیم دوسرے نمبر پر تھی۔ سابق کپتان رئیس احمدزئی افغان کرکٹ ٹیم کے کارنامے گنواتے نہیں تھکتے اور کہتے ہیں کہ وہ وقت دور نہیں جب افغان کرکٹ ٹیم بڑی بڑی ٹیموں کے ہم پلہ ہو جائے گی۔ ’ہمارے پاس بہت اچھے تیز بالر ہیں جو انڈیا کے تیز بالروں سے بہتر اور پاکستان کے تیز بالروں کے برابر ہیں۔ حامد حسن کی بالنگ سپیڈ ایک سو پینتالیس میل فی گھنٹہ ہے جبکہ زدران ایک سو چالیس میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند کراتے ہیں۔‘
احمدزئی کہتے ہیں ’ہماری بلے بازی کو بھی آپ کم نہ سمجھیئے۔ ہم بیس اوورمیں دو سو تیس سے دو سو چالیس تک سکور کر رہے ہیں۔ محمد نبی نے ایم سی سی کے خلاف ایک اننگز میں چودہ چھکے مارے۔ نبی نے اور میں نے ان کے خلاف آخری سات اوور میں ایک سو چونسٹھ رنز بنائے‘۔ ان کا کہنا ہے کہ برونائی کے خلاف ایک میچ میں انہوں نے مخالف ٹیم کو نو رنز پر آؤٹ کر دیا اور افغان ٹیم نے جس نے پہلے کھیلتے ہوئے تین سو پچھتر رنز بنائے تھے یہ میچ تین سو چونسٹھ رنز سے جیتا۔ اب افغانستان کے درالحکومت میں پہلی کرکٹ اکیڈمی تکمیل کے قریب ہے۔ افغان کرکٹ کے طویل اور عجیب سفر کا آغاز پاکستان کے شہر پشاور کے ایک پناہ گزین کیمپ میں ہوا تھا۔ نوجوان افغانوں نے ٹیلی وژن پر کرکٹ دیکھنا شروع کی اور نرم گیند سے کیمپوں میں کرکٹ کھیلنا شروع کی۔ رفتہ رفتہ انہوں نے اپنے اپنے کلب بنائے اور پشاور میں کلب کی سطح تک کرکٹ کھیلی۔ ان میں سے ایک کلب کا نام افغان کلب تھا جس میں آج کی افغان ٹیم کے کوچ مالک بھی کھیلتے تھے۔اس کلب نے ایک مقامی چیمیئن شپ بھی جیتی تھی۔ آج بھی افغان قومی ٹیم کے کم از کم تین کھلاڑی پشاور میں کیمپوں میں رہتے ہیں لیکن چار گھنٹے کی مسافت طے کر کے کابل جا کر کھیلتے ہیں۔ | اسی بارے میں افغان خواتین فٹبال ٹیم پاکستان میں06 August, 2007 | کھیل افغان خواتین کی ٹیم پہنچ گئی17 August, 2007 | کھیل افغان ٹیم سے رابطہ نہیں: اہلکار16 August, 2007 | کھیل کرکٹ کی دنیا میں نام کی خواہش07 June, 2007 | کھیل صالح کی شہریت عدالت میں06 June, 2007 | کھیل سیف گیمز: افغانوں کو کیا ملا؟ 06 April, 2004 | کھیل افغان کرکٹ ٹیم کراچی میں22 September, 2005 | کھیل لیما عظیمی: افغان اسپورٹس کی خاتون اول23 August, 2003 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||