| | اختتامی تقریب میں اولمپکس کا پرچم 2012 کے میزبان شہر لندن کے میئر کے حوالے کیا گیا |
چین کے دارالحکومت بیجنگ میں ہونے والے انتیسویں اولمپکس مقابلے میزبان ملک کی برتری کے ساتھ اتوار کو برڈز نیسٹ میں منعقد ہونے والی رنگارنگ تقریب کے ساتھ اختتام پذیر ہو گئے ہیں۔ سنہ 2008 کے اولمپکس مقابلوں کے آغاز سے قبل ان کے انعقاد کے حوالے سے شکوک و شبہات کا اظہار کیا گیا تھا تاہم اب کہا جا رہا ہے کہ یہ اولمپکس کی جدید تاریخ کے سب سے بہتر مقابلے ثابت ہوئے ہیں۔ مقابلوں کی اختتامی تقریب برطانوی وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے شروع ہوئی۔ تقریب کے دوران سینکڑوں چینی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا جبکہ سٹیڈیم اور بیجنگ شہر میں خوبصورت آتشبازی بھی کی گئی۔ تقریب کے دوران بیجنگ کے میئر نے اولمپک کا پرچم سنہ 2012 اولمپکس کے میزبان شہر لندن کے میئر کے حوالے کیا۔ اختتامی تقریب میں لندن اولمپکس کے بارے میں ایک شو بھی پیش کیا گیا جس کے لیے ایک سرخ ڈبل ڈیکر بس کو سٹیڈیم میں لایا گیا۔  | | | مائیکل فیلپس نے ان کھیلوں میں آٹھ طلائی تمغے جیت کر انہیں یادگار بنا دیا |
سولہ دن جاری رہنے والے بیجنگ اولمپکس میں میزبان چین نے ان کھیلوں پر عرصے سے قائم امریکی برتری کا خاتمہ کرتے ہوئے پہلی پوزیشن حاصل کی ہے۔ اولمپکس کے آخری دن بارہ میڈلز کا فیصلہ ہوا اور مقابلوں کا آخری تین سو دوواں طلائی تمغہ فرانس کی ہینڈ بال ٹیم نے جیتا۔ اولمپکس کے میڈل ٹیبل پر چین سونے کے اکیاون تمغوں کے ساتھ پہلے نمبر پر ہے جبکہ اس کے مجموعی تمغوں کی تعداد سو ہے۔ چین نے ان مقابلوں کے آغاز سے اختتام تک اپنی برتری قائم رکھی ہے۔امریکہ نے چھتیس جبکہ روس نے تیئیس طلائی تمغوں کے ساتھ تیسری پوزیشن حاصل کی ہے۔امریکہ نے مجموعی طور پر چین سے دس تمغے زیادہ حاصل کیے ہیں تاہم پندرہ طلائی تمغوں کے فرق کی وجہ سے وہ درجہ بندی میں دوسرے مقام پر رہا ہے۔ بیجنگ اولمپکس کئی اعتبار سے یادگار اولمپکس رہے ہیں۔ ایک جانب تو امریکہ کے تیراک مائیکل فیلپس نے ان کھیلوں میں آٹھ طلائی تمغے جیت کر اپنے ہم وطن تیراک سپٹز کا ایک اولمپک مقابلے میں سب سے زیادہ میڈل جیتنے کا چھتیس سال پرانا ریکارڈ توڑا تو وہ ساتھ ہی کل چودہ میڈل حاصل کر کے تاریخ کے سب سے کامیاب اولمپیئن بھی بن گئے۔ فیلپس نے ایتھنز اولمپکس میں چھ تمغے جیتے تھے۔  | | | اختتامی تقریب میں لندن 2012 اولمپکس کے حوالے سے ایک شو بھی پیش کیا گیا |
ایتھلیٹکس مقابلوں میں میدان جزائر غرب الہند کے چھوٹے سے ملک جمیکا کے نام رہا جس کے ایتھلیٹس نے چھ بڑے سپرنٹ مقابلوں میں سے پانچ میں فتح حاصل کی۔ جمیکا کے ایتھلیٹ یوسین بولٹ نے بیجنگ اولمپکس میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف سو اور دو سو میٹر میں نئے عالمی ریکارڈ بناتے ہوئے گولڈ میڈل جیتا بلکہ وہ چار ضرب سو میٹر ریلے ریس میں بھی عالمی ریکارڈ بنانے والی جمیکن ٹیم کے رکن تھے۔ جمیکا کی خواتین ایتھلیٹس نے سو میٹر دوڑ میں پہلی تینوں پوزیشنیں حاصل کر کے ایک منفرد ریکارڈ قائم کیا جبکہ دو سو میٹر میں بھی میدان جمیکا کے ہی نام رہا۔ 2012 کے اولمپکس کے میزبان برطانیہ نے بھی ان مقابلوں میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے انیس طلائی تمغے جیتے جو کہ گزشتہ ایک صدی میں برطانیہ کی بہترین کارکردگی ہے۔ برطانیہ کی جانب سے سائیکلسٹ کرس ہوائے نے تین جبکہ تیراک ربیکا ایڈلنگٹن نے دو طلائی تمغے جیتے۔  | | | برق رفتار بولٹ نے سب کو پیچھے چھوڑ دیا |
2008 کے اولمپکس چند دیگر ممالک کے لیے بھی خاص رہے۔ بھارت کے لیے یہ اب تک کے کامیاب ترین اولمپکس تھے۔ بھارت نے جہاں نشانے باز ابھینو بندرا کے طلائی تمغے کی بدولت اولمپکس تاریخ میں اپنا پہلا انفرادی گولڈ میڈل جیتا وہیں کشتی اور باکسنگ میں دو کانسی کے تمغے جیت کر کل تین اولمپک تمغے حاصل کیے۔ بھارت کے علاوہ بحرین اور پانامہ نے بھی اولمپکس تاریخ میں اپنا پہلا طلائی تمغہ حاصل کیا۔ یہی نہیں بلکہ منگولیا، افغانستان اور ٹوگو ایسے ممالک ہیں جنہوں نے بیجنگ اولمپکس میں ہی اپنی تاریخ کا پہلا اولمپکس میڈل حاصل کیا۔ منگولیا نے یہ اعزاز جوڈو، افغانستان نے تائیکوانڈو، جبکہ ٹوگو نے کنوئنگ میں حاصل کیا۔ |