چھوٹی عمر سے ہی بڑی کامیابی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ اولمپکس کے مقابلوں میں ہندوستان کے لیے دس میٹر ائر رائفل شوٹنگ ميں سونے کا تمغہ جیتنے والے ہندوستان کے نشانے باز ابھینو بندرا نے بارہ برس کی عمر میں ہی کچھ کرگزرنے کے عزم کے ساتھ شوٹنگ کی پریکٹس شروع کر دی تھی۔ ریاست اتراکھنڈ کے شہر ڈہرہ دون میں سنہ 1982 میں پیدا ہونے والے ابھینو بندرا نے چندی گڑھ میں پرورش پائی اور وہیں تعلیم پائی۔ ابھینو بندرا سنہ 2000 میں سڈنی اولمپکس میں حصہ لینے والے سب سے کم عمر ہندوستانی بھی تھے۔ ابھینو نے 2001 ميں مختلف بین لااقوامی مقابلوں ميں چھ سونے کے تمغے حاصل کیے تھے۔ جبکہ 2002 میں مانچسٹر ميں منعقدہ دولت مشترکہ کھیلوں کے مقابلوں میں انہوں نے مکسڈ مقابلوں ميں سونے اور انفرادی مقابلوں میں چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔
سنہ 2004 میں اولمپکس میں انہوں نے اولمپکس کا ریکاڈ توڑا تھا لیکن وہ کوئی تمغہ جیتنے میں کامیاب نہيں ہو سکے تھے۔ 28 برس کے بعد ہندوستان کے لیے سونے کا حاصل کرکے تاریخ ساز کارنامہ انجام دینے والے ابھینو بندرا کے ٹیلنٹ کو سب سے پہلے لفٹینٹ جنرل جے ایس ڈھلن نے پہچانا، وہ ابھینو کے پہلے کوچ تھے۔ 26 سالہ ابھینو نے ایم بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے اور نشانے بازی کے ساتھ ساتھ اپنے والد کی تجارت میں مدد کرتے ہيں۔ ابھینو کی کامیابی میں سب سے اہم کردار ان کے گھر والوں کا رہا ہے۔ ان کے گھر والوں نے انہيں غیر ملکی کوچ مہیا کرائے اور پوری مدد کی۔ پانچ فٹ آٹھ انچ لمبے ابھینو کو 2001 ميں ارجن ایوارڈ اور 02۔2001 میں راجیو گاندھی کھیل رتن سے نوازا گيا تھا۔ |
اسی بارے میں اولمپک:انڈیا کا پہلا طلائی تمغہ11 August, 2008 | کھیل اولمپکس:بھارتی کارکردگی کی تاریخ08 August, 2008 | کھیل انسانی حقوق: صدر بش کی چین پرتنقید07 August, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||