انسانی حقوق: صدر بش کی چین پرتنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اولمپک کھیلوں کی تقریب میں شرکت کے لیے جانے سے پہلے صدر بش نے چین میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تنقید کی ہے۔ تھائی لینڈ میں ایک تقریب میں ایشیا کے متعلق امریکی پالیسی کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ اس تنقید کا مقصد چین کے رہنماؤں کے ساتھ دشمنی نہیں بلکہ اس کا مقصد چین کے عوام کی ان کی صلاحیتیں پہچاننے میں مدد کرنا ہے۔ انہوں نے ساتھ ساتھ چین کی اقتصادی اصلاحات کی تعریف کی تاہم نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ اولمپک کھیلوں سے پہلے صدر بش کی یہ تقریر لازماً بیجنگ کو بری لگی ہو گی۔ صدر بش نے برما میں بھی استبداد کے خاتمے پر زور دیا۔ جمعہ کو ہونے والی اولمپک کھیلوں کی ابتدائی تقریب اسی دن ہو رہی ہے جس روز بیس برس پہلے برما کی فوجی جنتا نے جمہوریت کے لیے اٹھنے والی عوامی تحریک کو کچل دیا تھا۔ دریں اثناء چین کے دارالحکومت بیجنگ میں برطانوی اور امریکی شہریوں کو تبت کی آزادی کے حق میں احتجاج کرتے ہوئے گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ’سٹوڈنٹس فار فری تبت نامی‘ گروہ نے کہا ہے کہ دو برطانوی اور دو امریکی شہریوں کو اولمپک سٹیڈیم کے قریب تبت کے حق میں بینر لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ |
اسی بارے میں طلبہ کا آزاد تبت کے حق میں مظاہرہ07 August, 2008 | کھیل چین اولمپکس، انسانی حقوق مزید پامال 29 July, 2008 | آس پاس چین پر ایمنسٹی کی نئی رپورٹ02 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||