بیجنگ:تبت نواز مظاہرین رہا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ میں آزاد تبت کے حق میں مظاہرہ کرنے والے دو برطانوی طالب علموں کو رہا کر دیاگیا۔ ’سٹوڈنٹس فار فری تبت نامی‘ گروہ نے کہا ہے کہ آئین تھوم اور لوسی فیئربرادر نے انہیں ٹیکسٹ پیغام بھیجا ہے کہ وہ جرمنی جانے والی ایک فلائٹ پر سوار ہو رہے ہیں۔ دو برطانوی طالب علموں آئین تھوم اور لوسی فیئربرادر اور دو امریکی شہریوں فل بارٹل اور ٹیریان منک کو اولمپک سٹیڈیم کے قریب تبت کے حق میں بینر لگانے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔آئین تھوم کا تعلق ایڈنبرا سے ہے اور لوسی فیئربرادر کیمرج سے تعلق رکھتے ہیں۔ بیجنگ میں اولمپک کھیلوں کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ ردِ عمل ناقابلِ قبول اور غیرقانونی ہے۔ احتجاج کرنے والے صبح سویرے ایک 120 فٹ اونچے کھمبے پر چڑھ گئے اور بینرز لٹکا دیے جن پر لکھا تھا کہ ’ایک دنیا، ایک خواب، آزاد تبت‘، اور ’تبت آزاد ہو گا‘۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب اولمپک مشعل کو تائنامن سکوائر سے گزرنا تھا۔ تھوم نے بیجنگ میں کھمبے پر چڑھے چڑھے بی بی سی سے موبائل فون پر بات کرتے ہوئے کہا کہ: ’میں یہاں اس لیے ہوں کہ میں ہمیشہ سے تبت کے لیے سرگرم رہا ہوں اور میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ تبت کے لیے ایک انتہائی اہم وقت ہے۔‘
انہوں نے کہا کہ چین کی حکومت نے اولمپک کھیلوں کو تبت میں اپنے انسانی حقوق کے ریکارڈ کو دھونے کے لیے استعمال کیا ہے۔ اولمپک کھیلوں کے ترجمان نے اس احتجاج کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا ہے کہ ’چین کے احتجاج اور مجمع لگانے کے متعلق مخصوص قوانین ہیں۔ ہم سچے دل سے امید کرتے ہیں کہ چین آنے والے غیر ملکی چین کے متعلقہ قوانین کا احترام کریں گے۔‘ اس سے قبل منگل کے روز مشعل نے چین کے زلزلہ زدہ صوبے سچوان کا دورہ کیا جہاں زلزلے میں مرنے والوں کی یاد میں ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ چینی حکام نے ژان یانگ صوبے میں مشتبہ علیحدگی پسند مسلمانوں کے ایک حملے میں سولہ پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے پس منظر میں اولمپکس کھیلوں کے باقاعدہ آغاز سے پہلے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ تمام کھلاڑی اور تماش بین محفوظ رہیں گے۔ اولمپکس کھیلوں کے منتظمین کے ترجمان کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ ’چین نے اولمپکس کھیلوں کے مقامات اور کھلاڑیوں کی سکونت کے لیے مختص اپارٹمنٹس یعنی اولمپک ویلیج کے حفاظتی انتظامات سخت کر دیے ہیں اور بیجنگ کسی بھی خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہے۔‘ چین کے دوسرے میزبان شہر شنگھائی میں حکام کا کہنا ہے کہ اولمپک گیمز تک شہر کے میٹرو سٹیشنز پر تمام دکانیں اور کاروبار بند رہیں گے۔ چوبیس جون کو یونان میں روشن کی جانے والی یہ مشعل چھ براعظموں کا ایک لاکھ سینتیس ہزار کلومیٹر طویل سفر کے بعد چینی دارالحکومت بیجنگ پہنچی ہے۔ مشعل کے اس سفر کے دوران چین میں انسانی حقوق کی صورتحال اور تبت کے لیے اس کی پالیسیوں کی وجہ سے بیجنگ کے خلاف مظاہروں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ |
اسی بارے میں چین اولمپکس، انسانی حقوق مزید پامال 29 July, 2008 | آس پاس اولمپک مشعل: آسٹریلیامیں احتجاج24 April, 2008 | آس پاس ’مشعل کا سفر نہیں رک سکتا‘08 April, 2008 | آس پاس چین پر ایمنسٹی کی نئی رپورٹ02 April, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||