اولمپک:انڈیا کا پہلا طلائی تمغہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارتی نشانہ باز ابھینو بندرا اولمپکس میں بھارت کے لیے انفرادی گولڈ میڈل جیتنے والے پہلے کھلاڑی بن گئے ہیں۔ ابھینو نے پیر کو دس میٹر ائر رائفل شوٹنگ میں سونے کا تمغہ جیتا ہے۔ انہوں نے سات سو اعشاریہ پانچ پوائنٹ حاصل کر کے چین کے زہو کینان کو شکست دی۔ ان کی اس کامیابی پر ہندوستان کی صدر جمہوریہ پرتیبھا پاٹل اور وزیر اعظم منموہن سنگھ نے مبارکباد دی ہے۔ بھارت نے اولمپکس کے کسی مقابلے میں اٹھائیس برس بعد سونے کا تمغہ جیتا ہے۔ اس سے قبل 1980 میں اولمپکس کے ہاکی مقابلوں ميں بھارتی ٹیم نے سونے کا تمغہ جیتا تھا۔ طلائي تمغہ جیتنے کے بعد ابھینو بندرا نے کہا ’جو کامیابی ميں نے حاصل کی ہے اس سے بڑی کامیابی میرے لیے کوئی اور نہيں ہوسکتی تھی‘۔ ان کا مزید کہنا تھا ’میں جانتا ہوں، ہندوستان اس کامیابی کے لیے ایک عرصے سے انتظار میں تھا اور میں بھی اس انتظار میں تھا۔ میں ایتھنز اولمپکس مقابلے میں مجھ سے ذرا سی چوک ہوگئی تھی اور تمغہ حاصل نہيں کرسکا، لیکن میں بخوبی واقف تھا کہ اگر میں اپنے کام پر مرکوز رہوں گا تو مجھے کامیابی کی توقع کی جاسکتی ہے‘۔ ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن کے سربراہ سریش کلماڈی نے بندرا کے تاریخ ساز کارنامے کے بعد میڈیا سے بات چيت کرتے ہوئے کہا’ یہ بہت بڑا دن ہے اور ملک کے لیے فخر کی بات ہے‘۔ سوریش کلماڈی کا کہنا تھا کہ’ ابھینو بندرا نوجوانوں کے لیے ایک مثال بن گئے ہيں اور اس سے ہندوستانی نوجوانوں کو جوش ملے گا‘۔ یاد رہے کہ اولمپکس میں بھارت کا آخری تمغہ بھی نشانہ بازی میں ہی تھا جب سنہ 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں بھارتی ٹریپ شوٹر راجوردھن سنگھ راٹھور نے چاندی کا تمغہ حاصل کیا تھا۔ |
اسی بارے میں اولمپکس:بھارتی کارکردگی کی تاریخ08 August, 2008 | کھیل انسانی حقوق: صدر بش کی چین پرتنقید07 August, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||