اولمپکس میں پاکستان کا سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار کھیلوں میں عالمی چیمپئن رہنے والا پاکستان، اب تک اولمپکس مقابلوں میں اپنی موجودگی کا بھرپور احساس دلانے میں کامیاب نہیں ہو سکا ہے۔ چودہ اولمپکس مقابلوں میں پاکستان نے جن گیارہ کھیلوں میں شرکت کی ہے ان میں ہاکی، باکسنگ، ایتھلیٹکس، سائیکلنگ، سوئمنگ، شوٹنگ، ویٹ لفٹنگ، ریسلنگ، کشتی رانی، ٹیبل ٹینس اور روئنگ شامل ہیں لیکن پاکستان کے ہاتھ صرف دس تمغے ہی آسکے ہیں جن میں سے آٹھ صرف ہاکی کے کھیل میں حاصل کیے گئے ہیں۔ باکسنگ اور ریسلنگ دو ایسے کھیل ہیں جن میں پاکستان نے کانسی کے دو تمغے جیتے ہیں۔ ہاکی ہی ایک ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان کی امید بندھتی اور ٹوٹتی رہی ہے۔ پاکستانی ہاکی ٹیم تین مرتبہ اولمپک گولڈ میڈل جیتنے میں کامیاب ہوئی ہے اور تین ہی مرتبہ فائنل میں شکست کے نتیجے میں اسے چاندی کا تمغہ ملا جبکہ دو مرتبہ اسے کانسی کے تمغے پر اکتفا کرنا پڑا۔ پاکستان نے پہلی مرتبہ 1948ء کے لندن اولمپکس میں شرکت کی تاہم سات کھیلوں میں پاکستان کوئی تمغہ حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہوسکا۔ پانچوں ایتھلیٹس ابتدائی مرحلے سے آگے نہ بڑھ سکے۔ تینوں باکسرز بھی پہلے مرحلے میں ہی باہر ہوگئے۔تین سائیکلسٹس بھی آخری نمبر پر آئے۔سوئمنگ مقابلوں میں حصہ لینے والے چاروں تیراکوں کو بھی پہلے ہی مرحلے میں شکست ہوگئی۔ویٹ لفٹنگ میں پاکستان کے دو ویٹ لفٹرز شریک تھے ان کے نتائج بھی مایوس کن تھے۔ پاکستان ریسلنگ کے ایونٹ میں اس لیے حصہ نہ لے سکا کیونکہ اس کے چاروں پہلوانوں کی انٹری غلطی سے فری اسٹائل کے بجائے گریکو رومن میں ڈال دی گئی تھی۔
پاکستان کی ہاکی ٹیم نے سیمی فائنل تک رسائی حاصل کی جہاں اسے برطانیہ نے شکست دیدی۔ کانسی کے تمغے کے لئے کھیلے گئے میں میچ میں ہالینڈ سے ہارنے پر پاکستانی ٹیم چوتھے نمبر پرآئی۔ لندن اولمپکس کے بعد سے پاکستان 1980 کے ماسکو اولمپکس کے سوا تمام اولمپکس میں حصہ لیتا آیا ہے۔ پاکستان نے پہلا اولمپک تمغہ 1956ء کے میلبرن اولمپکس کے ہاکی مقابلوں میں حاصل کیا۔ پاکستانی ٹیم عبدالحمید حمیدی کی قیادت میں فائنل تک پہنچی جہاں بھارت نے اسے ایک گول سے ہرا دیا۔ میلبرن اولمپکس کے سائیکلنگ مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے شہزادہ شاہ رخ 1948 کےلندن اولمپکس میں حصہ لینے والی پاکستانی ہاکی ٹیم کے نائب کپتان تھے۔اس طرح انہوں نے دو مختلف کھیلوں میں پاکستان کی اولمپکس میں نمائندگی کی ہے۔ 1960ء کے روم اولمپکس میں پاکستان نے بھارت کی ہاکی میدان پر قائم طویل بالادستی ختم کر دی اور نصیر بندہ کے گول نے پاکستان کو پہلی مرتبہ اولمپک چیمپئن بنادیا۔فاتح ٹیم کے کپتان عبدالحمید حمیدی ہی تھے۔ ہاکی کے علاوہ پاکستان نے روم اولمپکس میں فری اسٹائل ریسلنگ میں کانسی کا تمغہ محمد بشیر کے ذریعے حاصل کیا۔ چار سال بعد پہلی بار ایشیا میں منعقد ہونے والے ٹوکیو اولمپکس میں پاکستان کو واحد تمغہ ہاکی ہی میں ملا لیکن اس مرتبہ فائنل میں شکست کی وجہ سے یہ چاندی کے تمغے میں بدل گیا۔
1968 کے میکسیکو اولمپکس میں پاکستان نے ایک مرتبہ پھر ہاکی گولڈ میڈل حاصل کر لیا۔طارق عزیز کی قیادت میں پاکستانی ہاکی ٹیم نو میچز میں ناقابل شکست رہی۔ اس نے فائنل میں آسٹریلیا کو ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دی۔میکسیکو اولمپکس میں پاکستان نے صرف دو کھیلوں ہاکی اور ریسلنگ میں شرکت کی تھی۔ 1972 کے میونخ اولمپکس میں پاکستان کی شرکت پانچ کھیلوں میں رہی لیکن ہاکی میں چاندی کے تمغے کے ساتھ پاکستانی دستے کی وطن واپسی ہوئی تاہم مغربی جرمنی کے خلاف تلخ فائنل کا خمیازہ پاکستان کو اپنی ہاکی ٹیم پر عائد کی جانے والی پابندی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔ 1976 کے مانٹریال اولمپکس میں بھی پاکستان کی شرکت پانچ کھیلوں میں رہی لیکن تمغہ صرف ہاکی میں حاصل کردہ کانسی کا تمغہ تھا۔ آسٹریلیا کے خلاف گرما گرم سیمی فائنل میں شکست کے بعد پاکستان نے تیسری پوزیشن کے لیے کھیلے گئے میچ ہالینڈ کو شکست دی۔ پاکستانی ٹیم کے کپتان رشید جونیئر تھے جنہیں یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ ان کے پاس سونے، چاندی اور کانسی کے اولمپک تمغوں کا سیٹ موجود ہے۔مانٹریال اولمپکس کے کانسی کے تمغے سے قبل وہ میکسیکو اولمپکس کی گولڈ میڈلسٹ ٹیم کا حصہ تھے جبکہ میونخ اولمپکس میں پاکستان کی جس ٹیم نے سلور میڈل جیتا اس میں بھی وہ شامل تھے۔ افغانستان میں روسی مداخلت کے خلاف جن ممالک نے1980 کے ماسکو اولمپکس کا بائیکاٹ کیا ان میں پاکستان بھی شامل تھا۔چار سال بعد ہونے والے لاس اینجلز اولمپکس میں پاکستان نے ہاکی گولڈ میڈل جیت کر دنیائے ہاکی پر اپنی برتری ثابت کردی۔یہ وہ دور تھا جب پاکستان ہاکی ورلڈ چیمپئن بھی تھا۔
لاس اینجلز اولمپکس جیتنے والی پاکستانی ٹیم کے کپتان منظور جونیئر تھے۔اس ٹیم میں شامل حسن سردار کے سحر انگیز کھیل کی یادیں آج بھی تازہ ہیں لیکن یہ اولمپکس میں پاکستانی ہاکی کے عروج کا اختتام بھی تھا کیونکہ اس کے بعد صرف1992 کے بارسلونا اولمپکس میں پاکستانی ٹیم کانسی کا تمغہ جیتنے میں کامیاب ہو سکی جبکہ اس سے قبل 1988 کے سیول اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم پانچویں نمبر پر آئی۔ 1996 کے اٹلانٹا اولمپکس میں اس کی پوزیشن چھٹی رہی یہ وہی اولمپکس ہیں جن سے پہلے پاکستانی ہاکی ٹیم کے کئی کھلاڑیوں نے پاکستان ہاکی فیڈریشن کے عہدیداران کے خلاف بغاوت کی تھی۔ 2000ء کے سڈنی اولمپکس میں پاکستانی ٹیم تمغہ جیتنے کے قریب آ کر اس سے دور ہوگئی۔سیمی فائنل میں اسے کوریا کے خلاف ایک گول سے شکست نے آسٹریلیا سے تیسری پوزیشن کا میچ کھیلنے پر مجبور کردیا لیکن اس میچ میں اسے تین کے مقابلے میں چھ گول کی شکست نے چوتھی پوزیشن پر پہنچا دیا۔ 2004 کے ایتھنز اولمپکس میں پاکستانی ہاکی ٹیم کی کوچنگ ہالینڈ کے کوچ رولینٹ آلٹمینز کے ہاتھوں میں تھی اور تمام تر امیدیں سہیل عباس سے وابستہ تھیں لیکن سپین اور جرمنی کے خلاف دونوں اہم میچز ہارکر پاکستانی ٹیم سیمی فائنل کی دوڑ سے باہر ہوگئی اور اسے پانچویں پوزیشن پر اکتفا کرنا پڑا۔
ہاکی اور ریسلنگ کے علاوہ باکسنگ ہی ایک ایسا کھیل ہے جس میں پاکستان نے اولمپکس میں تمغہ حاصل کیا ہے۔1988 کے سیول اولمپکس میں پاکستانی باکسر حسین شاہ نے کانسی کا تمغہ جیتا۔ وہ تین مقابلے جیت کر سیمی فائنل تک پہنچے جہاں کینیڈا کے باکسر ایگرٹن مارکوس نے ان کی پیش قدمی روک دی تاہم کانسی کا تمغہ جیت کر انہوں نے پاکستانی باکسنگ میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ اولمپکس مقابلوں میں پانچ خواتین کو بھی پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔ اٹلانٹا اولمپکس میں شبانہ اختر نے لانگ جمپ مقابلوں میں حصہ لیا۔ |
اسی بارے میں پاکستانی باکسرز اولمپکس سے باہر28 March, 2008 | کھیل پاکستانی باکسرز، کیوبا میں تربیت24 August, 2007 | کھیل سیاستداں ناکام، کھلاڑی کامیاب 14 August, 2007 | کھیل اولمپک مشعل پاکستان آئےگی11 February, 2008 | کھیل تین کھیلوں میں وائلڈ کارڈ انٹری12 May, 2008 | کھیل اولمپک تیراکی میں پاکستان کی شرکت 25 May, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||