BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 May, 2008, 18:04 GMT 23:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تین کھیلوں میں وائلڈ کارڈ انٹری

پاکستان ہاکی ٹیم
ہاکی واحد کھیل ہے جس میں پاکستان کی شرکت براہ راست ہوئی ہے
بیجنگ اولمپکس میں پاکستان صرف چار کھیلوں میں حصہ لے رہا ہے لیکن ان میں سے بھی تین کھیلوں ایتھلیٹکس، تیراکی اور رائفل شوٹنگ میں یہ شرکت وائلڈ کارڈ کے ذریعے ممکن ہوسکی ہے۔

ہاکی واحد کھیل ہے جس میں پاکستان کی شرکت براہ راست ہوئی ہے اور وہ بھی صرف اس وجہ سے کہ دوحہ ایشین گیمز میں فائنل کھیلنے کی وجہ سے چین نے اولمپکس میں جگہ بنائی لیکن اسے اولمپکس کا میزبان ہونے کی وجہ سے بھی ہاکی ایونٹ میں شرکت کا موقع مل رہا تھا لہٰذا اس کی خالی کی گئی جگہ پر تیسرے نمبر پر آنے والی پاکستانی ٹیم کو براہ راست بیجنگ اولمپکس میں شرکت کا موقع مل گیا۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عبدالخالق خان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک مرد اور ایک خاتون ایتھلیٹ کو وائلڈ کارڈ انٹری پر اولمپکس میں پاکستان کی نمائندگی کا موقع ملے گا۔ اسی طرح ایک خاتون اور ایک مرد تیراک کو وائلڈ کارڈ انٹری ملی ہے تاہم ان چاروں کے ناموں کو آئندہ ماہ ان کھیلوں کی قومی فیڈریشنز حتمی شکل دیں گی۔ البتہ رائفل شوٹنگ میں پاکستان آرمی کے صدیق عمر وائلڈ کارڈ انٹری پر بیجنگ جائیں گے۔

پاکستان رائفل شوٹنگ ایسوسی ایشن کے سیکریٹری خالد جاوید نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صدیق عمر ایک باصلاحیت شوٹر ہیں جنہوں نے حالیہ برسوں میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی معیار کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاکستانی شوٹرز سے غیرمعمولی نتائج کی توقع نہیں کی جاسکتی تاہم ان کی کارکردگی ساؤتھ ایشین مقابلوں میں اچھی رہی ہے۔

خالد جاوید نے کہا کہ پاکستان کا جتنا سپورٹس کا پورا بجٹ ہے اتنا بجٹ صرف بھارت کی رائفل شوٹنگ کا ہے لیکن اس کے باوجود ساؤتھ ایشین مقابلوں میں پاکستانی شوٹرز بھارت کا سخت مقابلہ کرتے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ رائفل شوٹنگ تماشائیوں کا کھیل نہیں یہ بہت مہنگا کھیل ہے اس لیے سپانسرز کا ملنا بھی آسان نہیں لیکن اس کے باوجود پاکستان رائفل شوٹنگ ایسوسی ایشن اپنے شوٹرز کی تربیت اور بین الاقوامی مقابلوں میں ان کی شرکت کو یقینی بنانے کی کوششوں میں مصروف رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ صدیق عمر سمیت تین مرد اور تین خواتین شوٹرز کو ٹریننگ کے لیے جرمنی بھیجا جا رہا ہے۔

واضح رہے کہ بیجنگ سے پہلے ایتھنز اور سڈنی اولمپکس میں بھی پاکستانی شوٹرز وائلڈ کارڈ انٹری پر حصہ لیتے رہے ہیں۔

بیجنگ اولمپکس میں پاکستان کی شرکت کے ضمن میں سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ پاکستانی باکسرز بیجنگ میں نظرنہیں آئیں گے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان اولمپکس باکسنگ مقابلوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد