BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 01 March, 2008, 12:45 GMT 17:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چین کے خلاف سیریز، ٹیم کا اعلان

پاکستان ہاکی
سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اصلاح الدین نے ٹیم کو متوازن قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ دستیاب کھلاڑیوں میں سے بہتری ٹیم چنی گئی ہے
پاکستان ہاکی فیڈریشن کی سلیکشن کمیٹی نے تیرہ سے تئیس مارچ تک چین کے دورے کے دوران پانچ میچز کی ہاکی سیریز کے لیے اٹھارہ رکنی ٹیم کا اعلان کر دیا ہے۔

اٹھارہ رکنی ٹیم میں ایک سال سے زائد عرصے تک ٹیم سے باہر رہنے والے سابق کپتان محمد ثقلین کے علاوہ چمپئنز ٹرافی میں ڈراپ کیے گئے ایک اور سابق کپتان فارورڈ ریحان بٹ کو بھی شامل کر لیا گیا ہے جبکہ اس سیریز کے لیے کپتانی کی ذمہ داری فل بیک ذیشان اشرف کو دی گئی ہے۔

ذیشان اشرف کو پہلی مرتبہ پاکستان کی ٹیم کی کپتانی دی گئی ہے اور چیف کوچ خواجہ ذکاء الدین کے مطابق اس وقت ٹیم میں ذیشان سب سے سینئر کھلاڑی ہیں اور اسی بنیاد پر انہیں کپتان بنایا گیا ہے جبکہ ثقلین کافی عرصے کے بعد ٹیم میں آئے ہیں اس لیے ان کا نام کپتان کے لیے نہیں ہو سکتا۔ ان کا کہنا تھا کہ کپتان کی تعیناتی فیڈریشن کے صدر کی صوابدید پر ہوتی ہے۔

ذیشان اشرف کا کہنا ہے کہ پاکستان کی ٹیم کی کپتانی ملنا ان کے لیے ایک اعزاز ہے اور وہ اسے ایک چیلنج بھی سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سینئر کھلاڑیوں ثقلین اور ریحان کے ٹیم میں شامل ہونے سے ٹیم کو فائدہ ہو گا اور وہ بحثیت کپتان بھی ان کے تجربے سے فائدہ حاصل کریں گے۔ ذیشان اشرف کے بقول ٹیم کا اصل ہدف تو المپک کی تیاری ہے۔

چمپئنز ٹرافی میں ڈراپ کیے جانے والے فارورڈ ریحان بٹ نے ٹرائلز میں زبردست کارکردگی دکھائی جو ان کی ٹیم میں دوبارہ واپسی کا سبب بنی۔ ریحان بٹ کا کہنا ہے کہ نا صرف ان کی بلکہ ثقلین کی ٹیم میں شمولیت سے ٹیم کی کارکردگی بہتر ہو گی اور چین میں ہونے والی یہ سیریز المپک کے لیے ہماری تیاریوں کا حصہ ہے اس لیے یہ ایک اہم ٹورنامنٹ ہے اوراس میں اگر ٹیم کا کمبی نیشن بہتر ہوا تو یہ المپک کے لیے بہت فائدہ دے گا۔

شکیل عباسی
شکیل عباسی پاکستان کی فارورڈ لائن کے اہم رکن ہوں گے
سنٹر ہاف ثقلین ٹیم میں واپسی پر بہت مطمئن ہیں انہوں نے کہا کہ سنٹر ہاف کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور ان کی کوشش ہو گی کہ وہ ایک سینئر کھلاڑی کی حثیت میں ٹیم کو لے کر چلیں اور ان سے ٹیم کو فائدہ ملے۔

سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اصلاح الدین نے ٹیم کو متوازن قرار دیا اور کہا کہ دستیاب کھلاڑیوں میں سے بہتری ٹیم چنی گئی ہے ٹیم نوجوان اور تجربہ کار کھلاڑیوں کا اچھا امتزاج ہے۔

اصلاح الدین کے بقول ٹیم کے انتخاب میں فزیکل فٹ نس کو مد نظر رکھا گیا ہے ٹیم کی فزیکل فٹ نس میں بہتری ہوئی ہے تاہم اسے مزید بہتر کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ٹیم چین کے خلاف سیریز جیتنے کی اہلیت رکھتی ہے۔

ٹیم کا اعلان اٹھائیس اور انتیس فروری کو لاہور میں منعقدہ دو روزہ ٹرائلز کے خاتمے پر سلیکشن کمیٹی کے چئرمین المپئن اصلاح الدین نے کرنا تھا لیکن پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر ظفر اللہ جمالی گھٹنوں کے آپریشن کے سبب کراچی میں تھے اور منتخب کھلاڑیوں کے نام ان کی منظوری کے لیے بھجوائے گئے اور انہوں نے اگلے روز ان ناموں پر اپنی منظوری کی مہر ثبت کی لہذا ٹیم کا اعلان یکم مارچ کو کیا گیا۔

ٹیم ان کھلاڑیوں پر مشتمل ہو گی:

گول کیپر: سلمان اکبر، ناصر علی۔

فل بیکس: ذیشان اشرف، محمد عتیق، کامران احمد

ہاف بیکس: محمد عرفان، محمد ثقلین، فرید احمد، وقاص ظفر، محمد عمران،

فارورڈز: وقاص شریف، وقاص اکبر، ریحان بٹ، شکیل عباسی، محمد زبیر، عباس حیدر، شبیر خان اورشفقت رسول۔

اس کے علاوہ نو کھلاڑی سٹینڈ بائی رکھے گئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد