پاکستانی باکسرز اولمپکس سے باہر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی باکسرز بیجنگ اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں اور یہ پہلا موقع ہوگا کہ اولمپکس مقابلوں میں پاکستانی باکسرز دکھائی نہیں دیں گے۔ پاکستانی باکسرز کو تھائی لینڈ اور قازقستان میں ہونے والے کوالیفائنگ مقابلوں میں ناکامی کی وجہ سے اولمکپس سے باہر ہونا پڑا۔ چار سال قبل ممنوعہ ادویات کے استعمال کی پاداش میں ایتھنز اولمپکس سے باہر ہونے والے باکسر نعمان کریم بیجنگ اولمپکس تک رسائی کے لیے پرجوش تھے لیکن انہیں دونوں کوالیفائنگ ٹورنامنٹس میں شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ نعمان کریم نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن کی صدارت سے پروفیسر انورچوہدری کے ہٹنے کے بعد پاکستانی باکسرز کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’پروفیسر انور چوہدری کے دور میں پاکستانی باکسرز کے ساتھ ناانصافی نہیں ہوتی تھی‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’قازقستان میں کھیلے گئے کوالیفائنگ ٹورنامنٹ میں پاکستانی باکسرز کو پوائنٹس ہی نہیں دیے گئے جبکہ سرد موسم بھی شکست کی وجہ بنا‘۔ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کے سیکرٹری شکیل درانی کا کہنا ہے کہ پاکستانی باکسرز کے ساتھ جانبدارانہ رویہ شکست کی اہم وجہ تو نہیں ہو سکتی لیکن اسے خارج از امکان بھی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کسی حد تک اس طرح کے معاملات اثر انداز ہوتے ہیں لیکن وہ نہیں سمجھتے کہ اس طرح کی کوئی ہدایت دی گئی ہو کہ پاکستانی باکسرز کو کوالیفائی نہ ہونے دیا جائے۔ شکیل درانی کہتے ہیں کہ پاکستانی باکسرز کی تیاری کے لیے کوئی کسر نہیں اٹھ رکھی گئی اور انہیں ہر ممکن سہولیات فراہم کی گئیں۔ انہوں نے اس تاثر کو سختی سے مسترد کیا کہ چونکہ پہلے پروفیسر انور چوہدری باکسنگ کی عالمی تنظیم سے وابستہ تھے لہذا پاکستانی باکسرز بھی انہی کی وجہ سے جیت رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ پروفیسر صاحب کبھی بھی پاکستانی باکسرز کے حق میں اثر انداز نہیں ہوئے۔ شکیل درانی کے خیال میں کئی دوسرے کھیلوں میں بھی پاکستانی شخصیات اعلی عہدوں پر فائز رہی ہیں اس کی ضرورت بھی محسوس کی جاتی ہے لیکن یہ کہنا کہ ان کی وجہ سے نتائج پر اثر پڑتا ہے وہ غلط ہے۔ ایک طویل عرصہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن سے وابستہ رہنے والے علی اکبر شاہ کا کہنا ہے کہ پاکستان باکسنگ فیڈریشن کو نئے چہروں کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئے کہ خطیر رقم خرچ کرکے بھی مطلوبہ نتائج کیوں حاصل نہیں کئے جاسکے۔ پاکستانی باکسرز کے پہلی مرتبہ اولمپکس سے باہر ہونے کی وجوہات کچھ بھی ہوں لیکن یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستانی باکسرز کے پاس اب چار سال کے طویل انتظار کے سوا کوئی چارہ نہیں اور اس بات کی بھی کوئی ضمانت نہیں کہ چار سال بعد باکسرز کے حوصلے کتنے بلند ہونگے اور جو وسائل آج انہیں میسر رہے کیا وہ اس وقت بھی انہیں میسر ہوں گے۔ | اسی بارے میں پاکستانی باکسرز، کیوبا میں تربیت24 August, 2007 | کھیل مہراللہ، فیصل کریم پر پابندی قائم 05 June, 2007 | کھیل مہراللہ اور فیصل کریم پابندی برقرار 05 June, 2007 | کھیل پاکستانی باکسر: چین براستہ ترکی 02 May, 2007 | کھیل باکسرز رنگ میں اترنے کےلیے تیار26 February, 2007 | کھیل ’باکسرز کو تمغے نہیں دلوائے‘04 January, 2007 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||