BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 08 August, 2008, 18:54 GMT 23:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان،اولمپک باکسنگ ناک آؤٹ

نعمان کریم
نعمان کریم پر بھی ممنوعہ ادویات کے استعمال کا الزام لگا
اولمپک باکسنگ میں پاکستان کی واحد کامیابی کانسی کا وہ تمغہ ہے جو سنہ 1988 کے سیول اولمپکس میں حسین شاہ نے حاصل کیا۔ اس کے باوجود ہر چار سال بعد جب بھی اولمپکس کا وقت آتا ہے تو یہ جانتے ہوئے بھی کہ پاکستانی باکسرز میڈلز کے لیے فیورٹ نہیں ایک نئی امید جنم لینے لگتی لیکن بیجنگ اولمپکس میں نہ پاکستانی باکسرز ہیں اور نہ ہی وہ امید۔

دوسرے لفظوں میں اولمپکس سے پاکستانی باکسنگ ناک آؤٹ ہوچکی ہے۔

قیام پاکستان کے بعد 1948ء کے لندن اولمپکس سے 2004ء کے ایتھنز اولمپکس تک باقاعدگی سے شرکت کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ بیجنگ کے باکسنگ رنگ میں کوئی پاکستانی باکسر نہیں اترے گا۔

پاکستانی باکسرز بیجنگ اولمپکس کے لئے کوالیفائی کرنے میں کیوں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کیا انہیں بین الاقوامی سطح پر زیادہ سے زیادہ مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملا ؟ کیا ان کی تربیت میں کمی رہ گئی ؟ کیا مالی وسائل ان کی راہ میں رکاوٹ بن گئے ؟ ان سوالوں کے پیچھے ایک طویل بحث ہے جس میں گلے شکوے بھی ہیں اور الزامات کی بوچھاڑ بھی۔

پاکستانی باکسنگ تقریباً نصف صدی سے صرف ایک شخص کے گرد گھومتی رہی ہے جسے دنیا پروفیسر انورچوہدری کے نام سے جانتی ہے۔ کنگ آف رنگ کے طور پر پہچانے جانے والے پروفیسرانورچوہدری چالیس سال تک باکسنگ کی عالمی تنظیم آئبا سے وابستہ رہے ہیں جس میں سے بیس سال وہ مسلسل اس کے صدر رہے۔

انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کے سابق صدر جوآن انتونیو سماانچ اور فیفا کے سابق صدر ہیولانج کے بعد آئبا کے صدر کی حیثیت سے پروفیسر انور چوہدری کھیلوں کی دنیا کی تیسری بڑی طاقتور شخصیت کی حیثیت سے ابھر کر سامنے آئے۔

 ممنوعہ ادویات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال نے بھی پاکستانی باکسنگ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایشین گولڈ میڈلسٹ مہراللہ کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ پاکستانی باکسنگ کے لیے بڑا دھچکہ تھا۔ ان کے علاوہ فیصل کریم اور نعمان کریم بھی مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی زد میں آئے۔ یہ تینوں پاکستان کے صف اول کے باکسرز رہے ہیں اور اب صورتحال یہ ہے کہ اگر مزید کسی باکسر کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ ہوتا ہے تو پاکستان باکسنگ فیڈریشن پر بھی پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

اس میں کوئی شک نہیں کہ اس عہدے پر رہ کر انہوں نے امیچر باکسنگ کی ترقی اور مقبولیت کے لیے بے پناہ کام کیا اور جب اس کھیل سے متعلق تنازعات ابھرنے لگے تو انہوں نے کبھی کمپیوٹرائزڈ سکورنگ اور کبھی خفیہ کیمروں کی مدد سے ان پر قابو پایا اور جب امیچر باکسنگ کو اولمپک تحریک سے خارج کرنے کی مہم شروع ہوئی تو اسے ناکام بنانے میں بھی انہوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔

یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ دنیا کے کئی ممالک نے انہیں اپنے اعلی شہری اعزازات اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریوں سے نوازا لیکن اب جب وہ آئبا کے صدر نہیں رہے تو خود ان کی شخصیت مختلف نوعیت کے الزامات کی زد میں ہے۔ بیجنگ اولمپکس سے پاکستانی باکسرز کے باہر ہونے کو بھی پروفیسرانورچوہدری کی شخصیت سے بالواسطہ یا بلاواسطہ منسلک کیا جا رہا ہے۔

پروفیسرانورچوہدری کے مخالفین ان پر یہ الزام عائد کرتے ہیں کہ پاکستانی باکسرز نے بین الاقوامی سطح پر جو بھی کامیابیاں حاصل کی ہیں وہ ان کی طاقتور شخصیت کی مرہون منت رہی ہیں۔

تین اولمپکس مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے باکسر ابرارحسین کا کہنا ہے کہ آئبا کے صدر کی حیثیت سے پروفیسرانور چوہدری کی طاقتور پوزیشن کے سامنے کسی جج یا ریفری کی ہمت نہیں ہوتی تھی کہ وہ پاکستانی باکسرز کو ہرا سکے۔ پاکستانی باکسرز نے ان کے اثرورسوخ کی بنا پر تمغے جیتے اور اب جب وہ آئبا کے صدر نہیں ہیں پاکستانی باکسرز کی قلعی کھل گئی ہے۔

تو کیا آپ نے بھی تمغے اسی اثرو رسوخ کی بنا پر جیتے ؟ اس سوال پر ابرارحسین جذباتی لہجے میں کہتے ہیں کہ انہیں اب اپنی کامیابیوں پر بھی شک ہوتا ہے کہ شاید وہ بھی اسی اثر ورسوخ کا نتیجہ تھیں۔

ابرار حسین کے ان سنگین نوعیت کے الزامات کی روشنی میں ذہن میں یہ سوال ضرور ابھرتا ہے کہ اگر پروفیسر انورچوہدری ہی نے پاکستانی باکسرز کو میڈلز جتوا کر دیے تو ان میں سے کچھ تو اولمپکس میں بھی ہونے چاہئیے تھے لیکن اولمپکس میں کانسی کا صرف ایک تمغہ کیوں ؟

پروفیسرانور چوہدری پاکستانی باکسرز کی کامیابیوں کے لیے ججوں اور ریفریز پر اثر انداز ہونے کے تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کرتے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے کبھی بھی اپنے عہدے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے پاکستانی باکسرز کو نہیں جتوایا۔ ان کی صرف یہ کوشش رہی کہ پاکستانی باکسرز کے ساتھ کوئی زیادتی یا نا انصافی نہ کر سکے۔ اس سے زیادہ انہوں نے کچھ نہیں کیا۔

پروفیسر انورچوہدری کا کہنا ہے کہ بیجنگ اولمپکس میں پاکستانی باکسرز کے کوالیفائی نہ کرنے کی ذمہ داری حکومت اور کھیلوں کے ارباب اختیار پر عائد ہوتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وزارت کھیل نے باکسنگ کے لیے ایک کروڑ روپے کی گرانٹ منظور کی لیکن سیٹ اپ میں تبدیلی کے بعد وہ گرانٹ بھی منسوخ کر دی گئی۔

انور چوہدری کا کہنا ہے کہ پاکستان سپورٹس ٹرسٹ کی جانب سے ملنے والی رقم بھی باکسرز کی اولمپکس کی تیاری کے لیے ناکافی تھی۔ انہوں نے کہا کہ تمام تر کوششوں کے نتیجے میں وہ باکسرز کو بیرون ملک ٹریننگ کے لیے بھیجنے میں کامیاب ضرور ہوئے لیکن کیوبن کوچ نے ان پر یہ بات واضح کردی تھی کہ باکسرز کو جب تک زیادہ سے زیادہ سے بین الاقوامی مقابلوں میں شرکت کے مواقع نہیں ملیں گے وہ اولمپکس میں حصہ لینے کے قابل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ ’پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی سالانہ گرانٹ بیس لاکھ روپے ہے جبکہ بھارت میں باکسنگ کا بجٹ سات کروڑ روپے ہے ۔ پاکستان میں باکسرز کی تربیت پاکستان سپورٹس بورڈ کے رحم و کرم پر ہے ان کی مرضی ہوتی ہے تو کوچنگ سینٹر میں باکسنگ کا کیمپ لگ جاتا ہے جبکہ بھارت میں تین کوچنگ سینٹرز اور باکسنگ کے چھ مستقل سکولز موجود ہیں‘۔

پاکستانی باکسرز اولمپکس کے لیے کوالیفائی نہ کرنے پر سخت مایوس ہیں۔ اصغرعلی شاہ اور نعمان کریم کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی مقابلوں میں برائے نام شرکت کے سبب اولمپکس کی بھرپور تیاری انہیں نہ مل سکی۔ انہوں نے کہا کہ ٹریننگ کی اہمیت اپنی جگہ لیکن جب تک باکسرز کو بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے کا موقع نہیں ملتا ان کی کارکردگی بہتر نہیں ہو سکتی۔

پاکستانی باکسنگ میں ایک حلقہ ایسا بھی ہے جس کا خیال ہے کہ پروفیسر انورچوہدری کی مخالف لابی انٹرنیشنل باکسنگ ایسوسی ایشن میں حاوی ہونے کے بعد پاکستانی باکسرز سے انتقام لے رہی ہے۔

پاکستان اولمپک ایسوسی ایشن کے سیکریٹری عبدالخالق خان کہتے ہیں کہ قومی یا بین الاقوامی اسپورٹس فیڈریشنوں میں پسند ناپسند کا عمل دخل ضرور موجود ہوتا ہے اور اس کا نفسیاتی اثر بھی پڑتا ہے۔اگر ججوں اور ریفریز کی تقرری صاف شفاف بھی ہو لیکن کھلاڑیوں کے ذہن میں اس بارے میں یہ بات پیدا ہو سکتی ہے کہ شاید انکے ساتھ انصاف نہیں ہورہا تو اس طرح مایوسی کا یہ پہلو سامنے آجاتا ہے۔

 پاکستان باکسنگ فیڈریشن کی سالانہ گرانٹ بیس لاکھ روپے ہے جبکہ بھارت میں باکسنگ کا بجٹ سات کروڑ روپے ہے ۔ پاکستان میں باکسرز کی تربیت پاکستان سپورٹس بورڈ کے رحم و کرم پر ہے ان کی مرضی ہوتی ہے تو کوچنگ سینٹر میں باکسنگ کا کیمپ لگ جاتا ہے جبکہ بھارت میں تین کوچنگ سینٹرز اور باکسنگ کے چھ مستقل سکولز موجود ہیں۔

عبدالخالق کا کہنا ہے کہ یہ کام کھلاڑی کا ہے کہ وہ میدان میں اترے تو اس کے ذہن میں صرف یہ بات ہونی چاہئے کہ حالات کیسے بھی ہوں اسے اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کرنا ہے اور اس کے لیے اسے زبردست تیاری کرنی پڑتی ہے۔

دنیا کے کئی ممالک کی طرح پاکستان میں بھی باکسنگ تنگ وتاریک بستیوں کا مقبول کھیل ہے۔ غربت کی زندگی گزارنے والے باکسرز کو مالی مشکلات نے بھی اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ حسین شاہ، حیدر علی، سفارش خان اور عبدالرشید بلوچ جیسے باکسرز بہتر مستقبل کی خواہش لئے پاکستان چھوڑ گئے اور جوباکسرز اس وقت رنگ میں ہیں انہیں فکر روزگار نے بھی ناک آؤٹ کررکھا ہے کیونکہ وہ بہت ہی معمولی نوعیت کی ملازمتوں پر ہیں۔

حالیہ برسوں میں ممنوعہ ادویات اور نشہ آور اشیاء کے استعمال نے بھی پاکستانی باکسنگ کو بہت نقصان پہنچایا ہے۔ ایشین گولڈ میڈلسٹ مہراللہ کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ پاکستانی باکسنگ کے لیے بڑا دھچکہ تھا۔ ان کے علاوہ فیصل کریم اور نعمان کریم بھی مثبت ڈوپ ٹیسٹ کی زد میں آئے۔ یہ تینوں پاکستان کے صف اول کے باکسرز رہے ہیں اور اب صورتحال یہ ہے کہ اگر مزید کسی باکسر کا مثبت ڈوپ ٹیسٹ ہوتا ہے تو پاکستان باکسنگ فیڈریشن پر بھی پابندی عائد ہو سکتی ہے۔

پاکستان کا باکسنگ میں ریکارڈ ہمیشہ سے متاثر کن رہا ہے جسے صرف یہ کہہ کر داغدار یا متنازعہ نہیں بنایا جاسکتا کہ یہ تمام کامیابیاں اثرو رسوخ کی بنا پر حاصل کی گئیں لیکن اس منفی تاثر کو غلط ثابت کرنے کی اب بہت بڑی ذمہ داری پاکستانی باکسرز پر ضرور عائد ہوتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد