BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 15 August, 2008, 14:43 GMT 19:43 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستانی ہاکی ٹیم ایک اور ناکامی

ہاکی میں پاکستان کی امید تقریباً معدوم ہو گئی ہیں
بیجنگ اولپمکس میں ہاکی کے مقابلوں کے ایک اہم میچ میں آسٹریلیا نے پاکستان کو ایک مقابلے میں تین گول سے ہرا دیا ہے۔

پاکستان اس قبل کھیلے جانے والے اپنے دو میچوں میں سے ایک میں کامیابی حاصل کر پایا تھا۔ تیسرے میچ میں ناکامی کے بعد پاکستان ٹیم کے سیمی فائنل کے مقابلوں تک پہنچنے کی امیدیں ماند پڑ گئی ہیں۔

آسٹریلیا کے خلاف میچ میں پاکستان کی طرف سے واحد گول شکیل عباسی نے پہلے ہاف میں کیا اور پہلے ہاف کے کھیل ختم ہونے تک پاکستان اور آسٹریلیا کے درمیان مقابلہ ایک ایک گول سے برابر تھا۔

تاہم دوسرے ہاف میں آسٹریلیا نے دو مزید گول کی سبقت حاصل کرکے اپنی جیت کو یقینی بنا لیا۔

بیجنگ اولمپکس کے لئے جب پاکستانی ٹیم کا انتخاب عمل میں آیا تھا تو سب کو ٹیم کی قوت کا بخوبی علم تھا لیکن ٹیم منیجمنٹ نے حقیقت تسلیم کرنے کے بجائے روایتی بیانات کا سہارا لیا کہ ساٹھ اور ستر کے عشروں میں پاکستانی ٹیم جو ہاکی کھیلتی تھی وہی بیجنگ میں کھیل کر دنیا کو حیران کیا جائے گا لیکن تین میں سے دو میچز ہارکر پاکستانی ٹیم سیمی فائنل تک رسائی کو بہت مشکل بناچکی ہے۔

پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان اور کوچ منظور الحسن نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہ بار بار ٹیم منیجمنٹ کی تبدیلی کے بعد ٹیم سے اچھی کارکردگی کی توقع نہیں رکھی جاسکتی۔اس ٹیم کی ہینڈلنگ گزشتہ دو تین سال سے بہت بری رہی ہے۔

منظور الحسن نے کہا کہ انہیں بیجنگ اولمپکس تک ٹیم کی کوچنگ کی ذمہ داری اصلاح الدین کے ساتھ سونپی گئی تھی لیکن کسی معقول وجہ کے ٹیم منیجمنٹ کو تبدیل کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ دیگر ٹیمیں کئی برس ہوگئے ایک ہی کوچ کی نگرانی میں کھیل رہی ہیں اسی وجہ سے ان کی کارکردگی میں تسلسل بھی ہے جبکہ پاکستان میں بار بار کوچ بدل دیئے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی کھلاڑی کو یقین نہیں ہوتا کہ وہ کب تک ٹیم میں ہے اور کب باہر ہوجائے گا۔

منظور الحسن نے کہا کہ جب تک پاکستان ہاکی کے معاملات ایمانداری سے نہیں چلائے جائیں گے اس کی ترقی ممکن نہیں ۔

لاس اینجلز اولمپکس کی فاتح پاکستانی ٹیم کے کپتان منظور جونیئر کے خیال میں پاکستانی ٹیم کا سب سے بڑا مسئلہ فزیکل فٹنس کا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دیگر ٹیمیں اولمپکس اور ورلڈ کپ کو ذہن میں رکھ کر پورے سال کا شیڈول بناتی ہیں اور انہی بڑے ایونٹس کو اہم سمجھتی ہیں جبکہ پاکستان میں ہر ٹورنامنٹ کو یکساں نظر سے دیکھا جاتا ہے۔

منظور جونیئر نے کہا کہ ایشین اسٹائل ہی میں پاکستانی ہاکی کی بقا ہے کیونکہ یہ اسٹائل اٹیکنگ ہے جب تک آپ حریف ٹیم پر حملے نہیں کریں گے وہ آپ کو ہی دباؤ میں لے لے گی۔ستر اور اسی میں پاکستان اسی ایشین اسٹائل سے کامیابیاں حاصل کرتا رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں لیکن اس ٹیلنٹ سے فائدہ اٹھانے کا طریقہ کار درست نہیں۔

منظور جونیئر بھی منظور الحسن کی طرح وجہ بتائے بغیر کوچ کے عہدے سے ہٹائے جاچکے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جونیئر ٹیم نے ان کی کوچنگ میں کامیابیاں حاصل کیں لیکن اس کے باوجود انہیں فارغ کردیا گیا۔

پاکستانی ہاکی ٹیم نے 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں آخری مرتبہ کانسی کا تمغہ حاصل کیا تھا اس ٹیم کے کپتان شہباز احمد تھے۔ وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ کارکردگی میں اتارچڑھاؤ نے قوم کی دلچسپی ہاکی سے ختم کردی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان نسل کرکٹ کمپیوٹر اور وڈیو گیمزمیں مصروف ہوکر ہاکی سے دور ہوچکی ہے اور اب قوم کو پاکستانی ہاکی ٹیم کے میچ اور اس کے نتیجے سے غیرمعمولی دلچسپی نہیں رہی جو پہلے ہوا کرتی تھی۔

شہباز احمد نے جن کی قیادت میں پاکستان نے1994 کا ورلڈ کپ جیتا تھا کہا کہ بیجنگ اولمپکس کے بعد پاکستان ہاکی فیڈریشن کے ارباب اختیار کو ہاکی کی بقا کے لئے اہم فیصلے کرنے ہونگے اور عصر حاضر کی ہاکی سمجھنے والوں کو اہم ذمہ داری سونپنی ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد