تمغوں کے چارٹ پر چین آگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بیجنگ اولمپکس کے چوتھے روز کے اختتام پر میڈل چارٹ پر چین کی برتری قائم ہے۔ اس وقت چین نے ترپن میں سے کل تیرہ طلائی تمغے حاصل کیے ہیں جو دوسرے نمبر پر آنے والی امریکی ٹیم سے چھ زیادہ ہیں۔ امریکہ کے بعد جنوبی کوریا ہے جس نے پانچ طلائی تمغے جیتے اور جرمنی نے چار۔ اٹلی، آسٹریلیا اور جاپان نے تین تین تمغے حاصل کیے ہیں۔ روس، برطانیہ اور چیک جمہوریہ نے دو دو مقابلوں میں کامیابی حاصل کی ہے۔ شمالی کوریا، آذربائجان، سلوواکیا، فِنلینڈ، رومانیہ، انڈیا، ہسپانیہ اور تھائی لینڈ کو ایک ایک طلائی تمغہ ملا ہے۔ منگل کو انیس مقابلوں کا فیصلہ ہوا جن میں سے چین اور امریکہ کو چار چار اور جرمنی کو تین میں کامیابی حاصل ہوئی۔ روس نے کشتی کے میدان میں دو دو میڈل جیتے۔ پیراکی میں امریکہ مائیکل فیلپس نے دو سو میٹر فری سٹائیل میں مقررہ فاصلہ ایک منٹ بیالیس اعشاریہ چھیانوے سیکنڈ میں طے کر کے نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔ امریکہ ہی کے آرون پیری سول نے ایک سو میٹر بیک سٹروک کے مقابلے میں باون اعشاریہ چون سیکنڈ میں نیا عالمی ریکارڈ بنایا۔ فیلپس کے پیراکی کے مقابلوں میں تین طلائی تمغے ہو چکے ہیں۔ ان سے توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ وہ آٹھ طلائی تمغے جیت کر نیا ریکارڈ بنائیں گے۔ جرمنی نے گھڑ سواری کے ٹیم مقابلوں، مردوں کی کے ون سلالم کنوئِنگ اور جوڈو کے مردوں کےاکیاسی کلوگرام کلاس میں طلائی تمغے حاصل کیے۔ |
اسی بارے میں اولمپک: تمغوں کی دوڑ میں چین آگے12 August, 2008 | کھیل اولمپک:انڈیا کا پہلا طلائی تمغہ11 August, 2008 | کھیل انسانی حقوق: صدر بش کی چین پرتنقید07 August, 2008 | کھیل اولمپک مشعل: آسٹریلیامیں احتجاج24 April, 2008 | آس پاس ’مشعل کا سفر نہیں رک سکتا‘08 April, 2008 | آس پاس چین پر ایمنسٹی کی نئی رپورٹ02 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||