بیجنگ اولمپکس کا سحر انگیز افتتاح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چین کے صدر ہو جن تاؤ کی جانب سے اعلان کے بعد انتیسویں اولمپک کھیلوں کا باقاعدہ آغاز ہو گیا ہے۔ بیجنگ میں ہونے والے ان اولمپک مقابلوں میں تقریباً دو سو ممالک کے ایتھلیٹ حصہ لے رہے ہیں۔ اولمپک کے آغاز کے اعلان سے قبل دس ہزار چینی فنکاروں نے قریباً دو گھنٹے تک جاری رہنے والے افتتاحی شو میں حصہ لیا جس کی ایک خاص بات چین کی ہزاروں سال پرانی تہذیب کے بارے میں ایونٹس تھے۔ بیجنگ کے ’برڈز نیسٹ‘ نامی سٹیڈیم میں یہ رنگا رنگ تقریبات تقریباً تین گھنٹے جاری رہیں۔ اس افتتاحی تقریب کی منصوبہ بندی پر سات برس لگے اور اس تقریب کو دنیا بھر میں قریباً ایک ارب افراد نے ٹیلیویژن پر دیکھا۔ افتتاحی تقریب میں دنیا بھر کے رہنما شریک ہوئے۔یہ تقریبات برطانیہ کے وقت کے مطابق دوپہر ایک بجے اور پاکستان کے وقت کے مطابق شام چھ بجے شروع ہوئیں۔ جمعہ کی شام ہونے والی اس افتتاحی تقریب کے بعد سنیچر کو کھیلوں کے اٹھائیس مقابلوں میں سے سترہ کا آغاز ہوگا جو چوبیس اگست تک جاری رہیں گے۔ پوری دنیا سے تعلق رکھنے والے تقریباً 11,000 کھلاڑی 302 ایونٹس میں 1000 میڈلز کے لیے مقابلہ کریں گے۔
اولمپکس 2008 میں چین کی آج تک ہونے والے اولمپک مقابلوں میں سب سے بڑی ٹیم شرکت کر رہی ہے۔ اس کے 639 ایتھلیٹ تمام 28 مقابلوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ یہ امریکہ سے زیادہ میڈلز جیتنے کی ایک کوشش ہے۔میزبان ملک چین کی طرف سے باسکٹ بال کے کھلاڑی یاؤ منگ اپنے ملک کا پرچم اٹھائیں گے۔ چین میں اولمپک مقابلوں کے منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ بہت یادگار کھیل ہوں گے۔ ان کے ایک ترجمان سن ویڈ نے کہا کہ ’یقیناً ہم امید کرتے ہیں کہ یہ بہت عظیم مقابلے ہوں گے، شاید سب سے عظیم تر‘۔تاہم ماحول میں آلودگی کے متعلق تشویشات ایک بار پھر سامنے آ گئی ہیں کیونکہ جمعہ کی صبح کو بیجنگ میں آلودگی کے باعث دکھائی دینے کی حالت اتنی بہتر نہیں تھی۔ اولمپکس کی افتتاحی تقریب کے موقع پر بیجنگ میں سخت ترین حفاظتی انتظامات کیے گئے۔ حالیہ ہفتوں میں مزید ایک لاکھ پولیس اور سکیورٹی اہلکار شہر میں تعینات کیے گئے۔ بیجنگ کا ہوائی اڈہ بھی تقریب کے دوران بند کر دیا گیا۔ بیجنگ میں بی بی سی کے نمائندے مائیکل برسٹو کا کہنا ہے کہ شہر میں چُپ سی چھائی ہے۔ ان کے مطابق شہر کی سڑکیں بند کی گئی ہیں اور چند کاریں ہی چلتی نظر آ رہی ہیں۔ مائیکل برسٹو کا کہنا ہے کہ اس وقت شہرمیں اولمپک رضا کاروں کی تعداد شہریوں سے زیادہ دکھائی دیتی ہے۔
|
اسی بارے میں انسانی حقوق: صدر بش کی چین پرتنقید07 August, 2008 | کھیل بیجنگ:تبت نواز مظاہرین رہا07 August, 2008 | کھیل چین اولمپکس، انسانی حقوق مزید پامال 29 July, 2008 | آس پاس اولمپک مشعل: آسٹریلیامیں احتجاج24 April, 2008 | آس پاس ’مشعل کا سفر نہیں رک سکتا‘08 April, 2008 | آس پاس چین پر ایمنسٹی کی نئی رپورٹ02 April, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||