ثقلین کا اولمپکس کا خواب پورا ہو گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستانی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین اولمپکس کھیلنے کا خواب پورا ہونے پر بہت خوش ہیں اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی ٹیم بیجنگ اولمپکس کو اپنی عمدہ کارکردگی سے یادگار بنا دے۔ محمد ثقلین ایک طویل عرصے سے پاکستانی ٹیم کا حصہ ہیں اس دوران وہ عالمی کپ سمیت متعدد بین الاقوامی مقابلوں میں ٹیم کی قیادت بھی کر چکے ہیں لیکن اولمپکس کے قریب آکر وہ ان سے دور ہوتے رہے۔ آٹھ سال کے طویل اور صبر آزما انتظار کے بعد وہ اولمپک سکواڈ میں جگہ بنانے میں کامیاب ہوسکے ہیں۔ محمد ثقلین نے بیجنگ روانگی سے قبل بی بی سی کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ سڈنی اور ایتھنز اولمپکس میں ٹیم کی روانگی تک وہ ٹیم کا حصہ تھے لیکن آخری لمحات پر وہ باہر کر دیئے گئے۔ انہیں آج تک یقین نہیں آتا کہ ان کے ساتھ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ واضح رہے کہ دونوں مرتبہ وہ ٹیم کے کوچ حضرات اصلاح الدین اور رولینٹ آلٹمینز کی رپورٹ پر ٹیم میں شامل نہ کیے گئے۔ ثقلین کہتے ہیں کہ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے سابق سیکریٹری کرنل ( ریٹائرڈ ) مدثر اصغر نے بھی ایک ٹی وی پروگرام میں کہا تھا کہ انہیں سڈنی اولمپکس کی ٹیم میں شامل نہ کیے جانے کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔ خود وہ بھی آج تک یہ نہیں جان سکے ہیں کہ ان کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ ایتھنز اولمپکس کے موقع پر کوچ آلمٹینز کے ساتھ اختلاف رائے کی قیمت انہیں چکانی پڑی۔ محمد ثقلین کا کہنا ہے کہ دو اولمپکس میں شرکت نہ کرنے کا انہیں بہت افسوس تھا لیکن والدین کی دعاؤں اور اپنی محنت کے سبب وہ نہ صرف اپنا کریئر جاری رکھنے میں کامیاب ہوسکے بلکہ اولمپکس کھیلنے کا خواب بھی پورا ہورہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر چیز کا وقت معین ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اگر وہ سڈنی اولمپکس کھیل جاتے تو ان کا کریئر اسوقت ختم ہوچکا ہوتا کیونکہ آجکل کی تیز ہاکی میں کھلاڑیوں کے کریئر طویل نہیں ہوتے۔ تاہم انہوں نے اپنے پورے کریئر میں کبھی بھی محنت سے جان نہیں چھڑائی اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وہ کبھی فٹنس مسائل سے دوچار نہیں ہوئے اور ان دو اولمپکس کے علاوہ کبھی کسی ٹورنامنٹ میں کارکردگی کی بنیاد پر ڈراپ نہیں ہوئے۔ محمد ثقلین کو جارحانہ مزاج کے حامل ایک ایسے کھلاڑی کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے جس کی شہرت فیلڈ میں حریف کھلاڑی کو اسٹک مار کر زخمی کرنے کی رہی ہے۔ اس بارے میں ثقلین کہتے ہیں کہ یہ محض منفی پروپیگنڈہ ہے اور انہوں نے کبھی کسی کو جان بوجھ کر زخمی نہیں کیا۔ ’جب آپ ملک کے لیے کھیل رہے ہوتے ہیں تو آپ کے ذہن میں جیت کے علاوہ کوئی دوسری بات نہیں ہوتی جہاں تک جارحانہ کھیل کا تعلق ہے تو یورپی ٹیمیں بھی باڈی پلے اور خطرناک انداز سے حریف کھلاڑیوں کو روکتی ہیں۔‘ ثقلین کہتے ہیں کہ حالیہ یورپی دورے میں انہیں ایک مرتبہ بھی گرین کارڈ تک نہیں دکھایا گیا، اس کے علاوہ ان کی کارکردگی بھی بہت اچھی رہی اور انہوں نے سینٹرہاف کی پوزیشن پر کھیلنے کے باوجود تیرہ میچوں میں گیارہ گول کئے جس سے اس تاثر کی نفی ہوجاتی ہے کہ وہ ایک جھگڑالو کھلاڑی ہیں۔ | اسی بارے میں اولمپکس، 35 رکنی پاکستان دستہ روانہ01 August, 2008 | کھیل تین کھیلوں میں وائلڈ کارڈ انٹری12 May, 2008 | کھیل مشعل برداری کی رنگا رنگ تقریب16 April, 2008 | کھیل اولمپک مشعل: کڑے حفاظتی انتظام28 March, 2008 | کھیل اولمپک تیراکی میں پاکستان کی شرکت 25 May, 2008 | کھیل اولمپک مشعل پاکستان آئےگی11 February, 2008 | کھیل کھلاڑی سیاست سے لاتعلق15 February, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||