کھلاڑی سیاست سے لاتعلق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں کھیلوں میں سیاست کا عام تذکرہ رہتا ہے۔خاص طور پر جب کسی ٹیم کی کارکردگی کا گراف نیچے آتا ہے تو اسے ٹیم میں سیاست کا شاخسانہ قرار دیا جاتا ہے۔ لیکن پاکستان کے کرکٹر پاکستان کی عملی سیاست میں کچھ زیادہ دلچسپی رکھتے نظر نہیں آتے۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ مختلف تنازعات میں الجھے رہنے والے فاسٹ بالر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ نہ تو انہیں ٹیم کی سیاست سے کوئی غرض ہے اور نہ وہ ملکی سیاست میں دلچسپی رکھتے ہیں البتہ ووٹ ایک قومی فریضہ ہے اور اسے ادا کرنا چاہیے لیکن وہ تو انتخابات کے دن ملک میں نہیں ہوں گے کیونکہ وہ بھارت جا رہے ہیں۔ پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک سے کبھی بھی کسی نے اگر کسی معمولی سے متنازعہ مسئلے کی بابت پوچھا وہ یہی جواب دیتے رہے کہ وہ کچھ نہیں کہ سکتے وہ بورڈ سے کانٹریکٹ کے پابند ہیں لیکن کرکٹ کے معاملات تو ہوئے شعیب ملک یہ بھی بتانے سے گریزاں ہیں کہ انہیں عام انتخابات میں کتنی دلچسپی ہے یا وہ ووٹ کسے دیں گے۔
شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ایسی کسی بھی بات کرنے سے انہیں سختی سے منع کیا گیا ہے۔ دوسری طرف پاکستان کی ٹیم کے سابق کپتان انضمام الحق کو البتہ عام انتخابات میں بہت دلچسپی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ووٹ بہت قیمتی ہوتا ہے اس کا استعمال ضرور کرنا چاہیے اور ’دیکھ بھال کر کرنا چاہیے‘۔ انہوں نے کہا کہ ووٹ کسی شخص کی رائے کا اظہار ہوتا ہے اس لیے اپنی رائے ضرور دینی چاہیے۔ انضمام الحق رہتے تو لاہور میں ہیں لیکن ان کا ووٹ ملتان میں ہے اور وہ کہتے ہیں کہ وہ اپنا ووٹ ڈالنے کے لیے ملتان ضرور جائیں گے۔ انضمام الحق نے کہا کہ ملک میں بہت ہنگامہ آرائی ہو چکی ہے اور اس لیے سب کی طرح وہ چاہتے ہیں کہ الیکشن کےبعد جو بھی حکومت آئے ملک میں امن اور سکون اور لوگوں کے لیے آسانیاں لائے۔ پاکستان ٹیم کے ’دھواں دار‘ بلے باز شاہد آفریدی انتخابات سے پہلے ہی امریکہ کسی رفاحی کام کے سلسلے میں چلے گئے ہیں اور ان کے بھائی اقبال آفریدی کا کہنا ہے کہ شاہد آفریدی کو انتخابات میں کوئی دلچسپی نہیں۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ ان کا کوئی فیورٹ امیدوار نہیں۔
پاکستان کی ہاکی میں سیاست کرکٹ کی نسبت کم سننے میں آتی ہے۔ پاکستان کی ٹیم کے کھلاڑی ریحان بٹ کا کہنا ہے کہ انہیں انتخابات سے کوئی دلچسپی نہیں اور وہ ووٹ دینے نہیں جائیں گے۔ انہوں نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ وہ نواز شریف کے حامی ہیں لیکن نواز شریف چونکہ خود الیکشن نہیں لڑ رہے اس لیے وہ وزیر اعظم بھی نہیں بن سکتے۔ ’دوسری جانب بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد کوئی ایسی شخصیت نہیں جس کو سامنے رکھ کر ووٹ دیا جائے۔‘ پاکستان کی ہاکی ٹیم کے سابق کپتان محمد ثقلین جو شاید سیاست یا ہاکی فیڈریشن کے ساتھ تنازعات کے سبب اس وقت پاکستان کی ہاکی ٹیم میں تو نہیں لیکن پر امید ہیں کہ ٹیم میں ان کی واپسی ہو جائے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ ووٹ ضرور دینا چاہیے اور وہ بھی اپنا ووٹ دیں گے لیکن کسے دیں گے یہ بتانے سے گریزاں ہیں۔ البتہ ان کے بقول لاہور میں تو نواز لیگ ہی کے بازی جیتنے کے امکانات ہیں۔ | اسی بارے میں دھاندلی ہوگی:ملک قیوم کی ’گفتگو‘15 February, 2008 | الیکشن 2008 پاکستان استحکام کی طرف؟15 February, 2008 | الیکشن 2008 فیصل آباد: پی پی اور ن میں جنگ15 February, 2008 | الیکشن 2008 بلوچستان: تشدد اور انتخابی سرگرمیاں15 February, 2008 | الیکشن 2008 اقتدار صرف نئے نظام کے لیے: زرداری14 February, 2008 | الیکشن 2008 جے یو آئی کے سوا ووٹ دینا’حرام‘ 14 February, 2008 | الیکشن 2008 پی پی: سندھی قوم پرستوں کی امید14 February, 2008 | الیکشن 2008 عدلیہ کی بحالی پر’واضح تفریق‘14 February, 2008 | الیکشن 2008 | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||