اولمپکس، 35 رکنی پاکستان دستہ روانہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کا پینتیس رکنی دستہ جمعرات کو اسلام آباد سے چین کے شہر بیجنگ میں ہونے والے اولمپک مقابلوں میں شرکت کے لیے روانہ ہو گیا ہے۔ آٹھ سے چوبیس اگست تک اولمپک مقابلوں کے لیے اکیس کھلاڑی اور چودہ آفشلز پر شامل دستے کی روانگی سے قبل پاکستان میں چین کے سفیر نے پاکستانی دستے کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اکیس کھلاڑیوں میں سولہ پاکستان ہاکی ٹیم کے کھلاڑی ہیں ہیں جبکہ بقیہ پانچ کھلاڑیوں میں عبدالرشید اور صدف صدیقی اتھلیٹکس میں، عادل بیگ اور کرن خان تیراکی میں اور صدیق عمر شوٹنگ کے مقابلوں میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ یاد رہے کہ یہ پانچوں کھلاڑیوں کی اولمپکس میں شرکت وائلڈ کارڈ انٹری کی بدولت ہو رہی ہے اور اسی لیے ان سے اولمپکس میں کسی خاص کارکردگی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔ تاہم ان پانچوں کو امید ہے کہ وہ اپنے اپنے ایونٹ میں پاکستان کا قومی ریکارڈ بہتر کریں گے۔ پاکستان کے دستے کے چیف ڈی مشن عاقل شاہ ہیں جو سرحد اولمپک ایسوسی ایشن کے صدر ہیں جبکہ دستے کے سیکریٹری برگیڈیر سلیم نواز ہیں۔ برگیڈیر سلیم نواز کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ کھلاڑی میڈل حاصل نہیں کر سکتے لیکن یہ اپنے اچھے رویے سے پاکستان کا وقار بلند کریں گے۔
ہاکی پاکستان کا قومی کھیل ہے اور اولمپکس میں پاکستان کی ٹیم کوالیفائنگ راؤنڈ سے کوالیفائی کر کے پہنچی ہے۔ اسی لیے میڈل کی توقع بھی ہمیشہ ہاکی ٹیم سے ہی کی جاتی ہے جبکہ ایک حقیقت یہ ہے کہ 1992 کے بارسلونا اولمپکس میں کانسی کا تمغہ حاصل کرنے کے بعد پاکستان کی ٹیم اولمپکس میں کبھی وکٹری سٹینڈ پر نہیں پہنچ سکی۔ اولمپکس کی تیاری کے لیے پاکستان کی ٹیم کویورپ کے دورے پر بھی بھیجا گیا لیکن وہاں کارکردگی بہت اچھی نہیں تو بہت بری بھی نہیں تھی اور دورے کے آخر میں پاکستان نے ایک چار ملکی ٹورنامنٹ جیتا بھی۔ پاکستان ہاکی ٹیم کے کپتان ذیشان اشرف کا کہنا ہے کہ چار ملکی ٹورنامنٹ میں انہوں نے انگلینڈ اور کینیڈا کو شکست دی تھی اور یہ دونوں اولمپکس کے لیے کوالیفائی کرنے والی بارہ ٹیموں میں شامل ہیں اس لیے انہیں کمزور نہیں سمجھا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ کے اس دورے سے ہمیں بہت فائدہ ہوا اور ہماری جو کمزوریاں تھیں انہیں اولمپکس کے لیے لگائے گئے کیمپ میں دور کیا گیا ہے اور تمام کھلاڑی المپکس میں گولڈ میڈل لینے کا عزم رکھتے ہیں۔ ادھر پاکستان ہاکی فیڈریشن نے ٹیم کی روانگی سے ایک روز پہلے اپنے کھلاڑیوں کو ایک عشائیہ دیا جس میں اعلان کیا گیا کہ اولمپکس کا ہر پول میچ جیتنے پر پر کھلاڑی کو تین سو ڈالر انعام دیا جائے گا اور اگر پاکستان کی ٹیم سیمی فائنل میں پہنچتی ہے تو ہر کھلاڑی کو ہزار سی سی کار ملے گی۔ اور جیتنے کی صورت میں ہر کھلاڑی کو پندرہ پندرہ لاکھ روپے کا انعام ملے گا۔ | اسی بارے میں تین کھیلوں میں وائلڈ کارڈ انٹری12 May, 2008 | کھیل مشعل برداری کی رنگا رنگ تقریب16 April, 2008 | کھیل اولمپک مشعل: کڑے حفاظتی انتظام28 March, 2008 | کھیل اولمپک تیراکی میں پاکستان کی شرکت 25 May, 2008 | کھیل اولمپک مشعل پاکستان آئےگی11 February, 2008 | کھیل کھلاڑی سیاست سے لاتعلق15 February, 2008 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||