BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 April, 2008, 10:08 GMT 15:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مجھےچُن کر نشانہ بنایا گیا: شعیب
شعیب اختر
’ایسا کوئی جرم نہیں کیا جس کی اتنی بڑی سزا ملے‘
پاکستانی فاسٹ بولر شعیب اختر کا کہنا ہے کہ کرکٹ بورڈ نے انہیں چن کر نشانہ بنایا ہے اور ان سے امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بات پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ضابطۂ اخلاق کی خلاف ورزی پر پانچ برس کی پابندی لگائے جانے کے بعد بدھ کو اسلام آباد میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

شعیب اختر کا کہنا تھا کہ آنے والے دنوں میں وہ اس پابندی کے خلاف اپیل کریں گے اور ضرورت پڑنے پر اعلٰی عدالتوں سے بھی رجوع کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ’ میں نے ایسا کوئی جرم نہیں کیا جس کی اتنی بڑی سزا ملے‘۔

شعیب اختر نے میڈیا اور پاکستانی عوام کی حمایت پر ان کا شکریہ ادا کیا اور
کہا کہ وہ جب بھی کھیلے ہیں ملک کے لیے کھیلے ہیں اور ان کی کارکردگی عوام کے سامنے ہے۔

پریس کانفرنس میں قومی اسمبلی کے رکن حنیف عباسی بھی موجود تھے۔ انہوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس معاملے کو قومی اسمبلی میں اٹھائیں گے۔انہوں نے کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم اشرف کی برطرفی کا بھی مطالبہ کیا۔

اسلام آباد میں شعیب کے حامیوں کا احتجاجی مظاہرہ

پریس کانفرنس کے موقع پر اسلام آباد پریس کلب کے باہر ان کے حامیوں کی جانب سے مظاہرہ بھی کیا گیا۔ مظاہرین نے شعیب اختر کی سزا کے خاتمے اور کرکٹ بورڈ کے خلاف پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔

یاد رہے کہ شعیب اختر نے زمبابوے کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے ٹیم میں منتخب نہ کیے جانے، سینٹرل کنٹریکٹ نہ ملنے اور پنٹنگولر لیگ کے دوران سہولتوں کے بارے میں پاکستان کرکٹ بورڈ پر تنقید کی تھی جبکہ گزشتہ سال ستمبر میں ٹوئنٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ سے قبل اپنے ساتھی بولر محمد آصف کو بلا مار کر زخمی کردیا تھا جس پر پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں چونتیس لاکھ روپے جرمانے اور تیرہ میچوں کی پابندی کی سزا سنائی تھی اور ساتھ ہی متنبہ بھی کیا تھا کہ اگر دو سال کے دوران وہ دوبارہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب ہوئے تو ان پر تاحیات پابندی بھی عائد کی جا سکتی ہے۔

بتیس سالہ شعیب اختر 46 ٹیسٹ اور 138 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرتے ہوئے بالترتیب 178 اور 219 وکٹیں حاصل کر چکے ہیں تاہم ان کا پورا کیریئر تنازعات میں گھرا ہوا ہے اور کبھی وہ مشکوک بولنگ ایکشن کی وجہ سے شہ سرخیوں میں رہے ہیں تو کبھی بال ٹمپرنگ اور ڈوپنگ کے قضیوں نے انہیں گھیرے میں لیے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ فٹنس مسائل بھی سائے کی طرح شعیب اختر کے ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں۔

شعیب’وِلن ہی سمجھا گیا‘
شعیب پر پابندی کے فیصلے پر سخت ردعمل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد