کھلاڑی اعصابی طور پر کمزور: نسیم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا ہے کے بھارت میں سیریز ہارنے کی ایک بڑی وجہ پاکستانی کھلاڑیوں کا اعصابی طور پر مضبوط نہ ہونا ہے۔ انہوں نے انگریزی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ہماری ٹیم کے کھلاڑیوں میں ’مینٹل ٹفنیس‘ کی کمی ہے تاہم انہوں نے شعیب ملک پر مکمل اعتماد ظاہر کرتے ہوئے ان کی کپتانی کو ایک سال کے لیے برقرار رکھا ہے۔ بھارت سے ون ڈے سیریز میں 2-3 سے اور ٹیسٹ سیریز میں 0-1 سے شکست کی وجوہات پر روشنی ڈالنے کے لیے پی سی بی کے چئرمین نے جمعے کو ایک طویل پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کے بقول شکست کی کئی وجوہات ہیں لیکن کئی مثبت باتیں بھی سامنے آئیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی افریقہ کے خلاف آخری ون ڈے میں پاکستان کےکھلاڑی جیتا ہوا میچ ہار گئے اور دہلی ٹیسٹ میچ میں بھی ایسی ہی صورتحال رہی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ کھلاڑیوں میں ذہنی مضبوطی کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کمی کو دور کرنا پاکستان کی ٹیم کے آسٹریلوی کوچ جیف لاسن کا کام ہے اور وہ توقع رکھتے ہیں کہ جیف لاسن ٹیم میں پیشہ وارانہ صلاحیت پیدا کرنے اور ذہنی مضبوطی کے لیے کام کریں گے۔
پی سی بی کے چئرمین کے مطابق کھلاڑیوں کا میچز کے دوران کالم لکھنے سے بھی ان کا کھیل متاثر ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ بورڈ کی طرف سے اجازت تھی کہ اگر کوئی کھلاڑی کالم لکھنا چاہے تو وہ میڈیا مینجر کو دکھا کر اسے اخبار کو بھیج سکتا ہے لیکن یہ کالم چونکہ ٹیلی فون پر ہی لکھوا دیے جاتے تھے اس لیے میڈیا مینجر انہیں نہیں دیکھ سکتا تھا۔ پی سی بی کے چئرمین نے اعلان کیا کہ وہ پاکستان کی ٹیم کے تمام کھلاڑیوں کے کالم لکھنے پر پابندی عائد کرتے ہیں اور اب کسی کھلاڑی کو اجازت نہیں ہو گی کہ وہ کالم لکھے یا دوران سیریز میڈیا سے بات کرے صرف کپتان میچ کے بعد میڈیا سے بات کر سکے گا۔ ڈاکٹر نسیم اشرف کے مطابق فٹ نس کے مسائل کے سبب بھی ٹیم کی کارکردگی بہت میاثر ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ محمد یوسف کے فارم میں نہ ہونے سے بھی ٹیم کو کافی نقصان ہوا۔ بھارت کے ہاتھوں پاکستان کی ٹیم کی شکست کے باوجود ڈاکٹر نسیم اشرف نے شعیب ملک پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا اور کہا کہ ان کا اور کرکٹ بورڈ کے گورنگ بورڈ کا مشترکہ فیصلہ ہے کہ شعیب ملک کو ایک سال کے لیے کپتان برقرار رکھنا چاھیے۔ انہوں نے کہا کہ سیریز کے دوران جب یہ فیصلہ کیا گیا تھا تو تب ہی یہ طے تھا کہ اگر پاکستان کی ٹیم سیریز ہارتی ہے تو بھی شعیب ملک کپتان رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ٹیسٹ میچز کی کپتانی کے لیے شعیب ملک کو ابھی کافی سیکھنا ہے لیکن بورڈ کو اس کی صلاحیتوں پر بھروسہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر کا شیر نما کھلونے سے کھیلنا اور یونس خان کا بھارت میں کپتانی کے سلسلے میں بیان دینے کے معاملات کو گورنگ باڈی کے اگلے اجلاس میں اٹھایا جائے گا۔ پی سی بی کے چئرمین نے زور دے کر کہا کہ اس شکست کے باوجود ٹیم کی کارکردگی کے حوالے سے کئی مثبت باتیں بھی سامنے آئیں ہیں جن میں خاص طور پر انہوں نے مصباح الحق کی کارکردگی کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مڈل آڈر پر مصباح کی صورت میں انضمام کا ایک اچھا متبادل مل گیا ہے جس کا پاکستانی ٹیم کو مستقبل میں بھی فائدہ ہو گا۔انہوں نے تسلیم کیا کہ مصباح کی عمر 33 سال ہے لیکن وہ اپنی فٹ نس کے سبب اپنی عمر سے دس سال کم لگتا ہے۔ ڈاکٹر نسیم اشرف نے یاسر عرفات کی کارکردگی کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے کہا کہ کامران اکمل کی بیٹنگ فارم کا بحال ہونا بھی خوش آئند ہے۔ مستقبل کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں ڈاکٹر نسیم اشرف کا کہنا تھا کہ جلد ہی کراچی میں راشد لطیف وکٹ کیپنگ کیمپ لگائیں گے جس میں چھ سات وکٹ کیپرز کی تربیت ہو گی اور جس کیمپ میں کامران اکمل کے ساتھ خصوصی کام ہو گا۔ پی سی بی کے چئرمین نے کہا کہ سلمان بٹ نے بھارت میں اچھی کارکردگی دکھائی تاہم اوپنگ کا مسئلہ موجود ہے اور اوپنگ بیٹس مینوں اور فاسٹ بالرز کے لیے بھی کیمپ لگائے جائیں گے۔ محمد آصف کی انجری کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس کی کہنی کا آپریشن کامیاب ہوا ہے اور وہ جلد فٹ ہوجائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی کرکٹ زیادہ ہونے کے سبب کھلاڑی ان فٹ ہو جاتے ہیں لیکن کوشش کی جائے گی کہ ایسا کم سے کم ہو۔ انہوں نے کہا کہ شعیب اختر مینجر سے اجازت لے کر دو دن کے لیے بھارت رکے ہیں واپس آنے پر ان کی فٹ نس کا بھی مکمل جائزہ لیا جائے گا۔ پی سی بی کے چئرمین نے بڑے کھلاڑیوں کو تاکید کی کہ وہ لازمی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلیں انہوں نے کہا کہ وہ ذاتی طور پر اس کا جائزہ لیں گے کہ کھلاڑی فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے ہیں یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ فرسٹ کلاس کرکٹ میں شمولیت اور اس میں کارکردگی کا اثر کھلاڑیوں کے سنٹرل کانٹریکٹ پر بھی پڑے گا۔ دورۂ بھارت پر ٹیم مینجمنٹ کی رپورٹ کو گورنگ باڈی کے سامنے رکھا جائے گا اور 15 جنوری کو کراچی میں ہونے والے اجلاس میں ٹیم کی پرفارمنس سمیت دیگر معاملات بھی زیر غور آئیں گے۔ نسیم اشرف نے بتایا کہ ایشیا کپ اگلے سال جون کے تیسرے ہفتے سے کراچی میں کھیلا جائے گا۔ |
اسی بارے میں شعیب آخری ٹیسٹ سے بھی باہر06 December, 2007 | کھیل کولکتہ ٹیسٹ بغیر ہار جیت کے ختم04 December, 2007 | کھیل ان فٹ گل کے متبادل یاسرعرفات29 November, 2007 | کھیل ملک کے لیے کھیلنا چاہتا ہوں: یونس25 August, 2007 | کھیل یونس پاکستان کے نئے نائب کپتان31 October, 2007 | کھیل یونس خان دوبارہ کپتان بنادیئے گئے07 October, 2006 | کھیل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||