BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 15 November, 2007, 17:36 GMT 22:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سپنرکپتان کامطلب سپن وکٹ نہیں‘

دانش کنیریا
اچھی وکٹ سے مراد ایسی وکٹ ہے جس پر باؤنس ہو: دانش کنیریا
پاکستانی لیگ سپنر دانش کنیریا کا کہنا ہے کہ انیل کمبلے کے کپتان بننے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں سپن وکٹیں بنیں گی البتہ انہیں یقین ہے کہ سپورٹنگ وکٹوں پر انہیں کھیلنے کا موقع ملے گا۔

واضح رہے کہ بھارت نے لیگ سپنر انیل کمبلے کو پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں کپتان مقرر کرنے کے ساتھ ساتھ پہلے ٹیسٹ کی ٹیم میں آف سپنر ہربھجن سنگھ اور لیفٹ آرم سپنر مرلی کارتھک کو بھی شامل کیا ہے۔

48 ٹیسٹ میچوں میں 208 وکٹیں حاصل کرنے والے دانش کنیریا نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کے پاس ان تین سپنرز کے ساتھ ساتھ تجربہ کار تیز بولرز بھی ہیں اور ایسی صورت میں وہ سپورٹنگ وکٹوں کی توقع کر رہے ہیں جن پر سب کو یکسان مدد ملے گی اور یہ وکٹیں اس طرح کی نہیں ہوگی جو پاکستان میں جنوبی افریقہ کے خلاف ہوم سیریز میں بنی تھیں۔

دانش کنیریا نے جو بھارت کے خلاف پاکستانی ٹیسٹ ٹیم میں شامل ہونگے کہا کہ ان کے نزدیک اچھی وکٹ سے مراد ایسی وکٹ ہے جس پر باؤنس ہو۔ انہیں کبھی بھی سپننگ ٹریک پر کھیلنے میں مزا نہیں آیا اور وہ چیلنج قبول کرنے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔

کنیریا کا کہنا ہے کہ جس وکٹ پر فاسٹ بولر وکٹ لیتا ہے اس پر لیگ سپنر بھی کامیاب رہتا ہے کیونکہ اس وکٹ میں باؤنس ہوتا ہے۔

دانش کنیریا کے مطابق بھارت کے خلاف ٹیسٹ سیریز ان کے لیے سخت امتحان ہے کیونکہ بھارتی بیٹنگ دوسری سب سے مضبوط بیٹنگ لائن ہے۔

کسی ایک خاص بیٹسمین کو ٹارگٹ بنانے کے بارے میں سوال پر دانش کنیریا نے کہا کہ بھارت کے پاس بیٹسمینوں کی لمبی قطار ہے لہذا کسی ایک کے بارے میں سوچا نہیں جاسکتا بلکہ انہیں ہر وقت مستعد رہنا ہوگا۔

دانش کنیریا نے کہا کہ وہ ہمیشہ کی طرح اس مرتبہ بھی طویل بولنگ کے لیے تیار ہیں۔ واضح رہے کہ دوسال قبل بھارت میں کھیلی گئی تین ٹیسٹ میچوں کی سیریز میں کنیریا نے ایک سو ترانوے اوورز کراتے ہوئے انیس وکٹیں حاصل کی تھیں جس میں موہالی ٹیسٹ میں4ء53 اوورز میں 150 کے عوض 6 وکٹ اور بنگلور ٹیسٹ میں39 اوورز میں127 رنز دے کر 5وکٹ کی عمدہ کارکردگی بھی شامل تھی۔

دانش کنیریا نے کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ ایک اینڈ سے انہیں شعیب اختر کا ساتھ رہے گا اور بیٹسمینوں پر دباؤ قائم کرسکیں گے۔

کنیریا نے کہا کہ انضمام الحق نے اپنی کپتانی میں انہیں ہمیشہ بھرپور اعتماد دیا اور اٹیکنگ بولر کے طور پر استعمال کیا جس کے نتیجے میں انہیں اپنی کارکردگی دکھانے کا حوصلہ ملتا تھا جبکہ شعیب ملک نئے کپتان ہیں جن کی قیادت میں وہ صرف دو ٹیسٹ کھیلے ہیں۔

کنیریادانش کی مسٹری بال
کنیریا کا انگلینڈ کے خلاف پراسرار ہتھیار
کیپنگ مہنگی پڑی
’ کامران نے درجن بھر کیچ اور سٹمپ مِس کیے‘
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد