BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 October, 2007, 20:14 GMT 01:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فتح کا سہرا بالرز کے سر:شعیب

شعیب ملک
’ کوشش ہوتی ہے کہ میدان میں سو فیصد کارکردگی دکھائیں‘
پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان شعیب ملک نے دوسرے ون ڈے میں کامیابی کا سہرا اپنے بالرز کے سر باندھا ہے۔

میچ کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ 265 رنز کا ہدف بہت زیادہ اچھا ہدف نہیں تھا لیکن ہمارے بالرز نے بہت اچھی طرح اس ہدف کا دفاع کیا۔

انہوں نے تسلیم کیا کہ فیلڈرز نے بہت سے کیچ چھوڑے لیکن پھر بھی بالرز کی عمدہ بالنگ کے سبب ہم یہ میچ جیتنے میں کامیاب ہوئے اس لیے ان کو کریڈٹ جاتا ہے۔ شعیب ملک نے کہا کہ ٹیم فیلڈنگ میں خامیوں کو دور کرنے کے لیے محنت کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ’ ہم جیت ہار کی سوچ لے کر میدان میں نہیں جاتے بلکہ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ میدان میں سو فیصد کارکردگی دکھائیں‘۔ شعیب ملک کا کہنا تھا کہ ’اس میچ کو جیتنے سے مورال بلند ہوا ہے لیکن پھر بھی ہم اپنی خامیوں پر نظر رکھ رہے ہیں تاکہ دوبارہ یہ غلطیاں نہ کریں اور کوشش ہو گی کہ جارحانہ کرکٹ کھیلیں‘۔

اس میچ میں سنچری بنانے والے محمد یوسف نے کہا کہ وہ کچھ عرصے سے کرکٹ سے دور رہے ہیں اور اس وکٹ پر سنچری بنانا آسان کام نہیں تھا اور اس سنچری میں خدا کی مدد شامل تھی۔ انہوں نے کہا کہ اننگز کے آخری اوورز میں وکٹ بہت آہستہ ہو گئی تھی لہٰذا اس پر تیز سکور کرنا مشکل ہو رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وکٹ پر 240 سکور بھی کافی اچھا سکور تھا۔ محمد یوسف نے کہا کہ چار سال سے ہمیں اچھے اوپنر نہیں ملے اور اوپنرز کے جلد آؤٹ ہونےکے بعد وہ کوشش کرتے ہیں کہ وکٹ پر زیادہ دیر کھڑے ہوں۔

پریس کانفرنس میں موجود جنوبی افریقہ کے کپتان گریم سمتھ کا کہنا تھا کہ اس وکٹ پر ٹاس کا کردار کافی اہم تھا جو ٹاس جیتا وہی میچ جیتا۔ انہوں نے کہا کہ محمد یوسف کو کریڈٹ جاتا ہے جن کی بیٹنگ کے سبب پاکستان نے265 رنز بنا لیے جو اس وکٹ پر کافی اچھا ٹارگٹ تھا لیکن اس شکست سے ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے اور ہم غلطیوں کو سدھارنے کی کوشش کریں گے۔

گریم سمتھ نے کہا کہ یہ درست ہے کہ کراچی میں ہونے والے بم دھماکوں سے ہمیں اور ہمارے گھر والوں کو تشویش ہوئی لیکن میں اسے شکست کا جواز نہیں بنا سکتا۔ پریس کانفرنس میں موجود جنوبی افریقہ کے مینجر لوگن نائیڈو نے کہا کہ ’بلوچستان میں ہونے والے بم دھماکے پر ہماری نظر ہے اور ہم صورتحال کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں اور آج ایک اعلٰی سطحی اجلاس بھی ہو رہا ہے اور ہم ایک دو دن میں تمام باتوں کا جائزہ لے کر فیصلہ کریں گے‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد